پولیوآگاہی مہم میں میڈیا کا کردار - اے وسیم خٹک

بہت عرصہ پہلے جب ہم صحافت میں تھے تو پولیو کے حوالے سے بہت سی ورکشاپس اور سیمینار میں شرکت کی تھی جس میں اس بیماری کےبارے میں ہر دفعہ یہی بتایا گیا کہ یہ تمام ممالک سے ختم ہوچکی ہے بس پاکستان میں اور افغانستان میں اس کے وائرس موجود ہیں. ان سیمینار میں یہ سکھایا جاتا کہ کس طرح اس بیماری کی کوریج کرنی ہے، اور کل کےاخبار میں اس ورکشاپ کی خبر بھی شئیر کرنامت بولیں، فون نمبر، ادارہ اور ای میل ایڈریس بھی لکھ دیا جاتا۔

جاتے ہوئے ایک لفافہ دیا جاتا جس کوڈیلی الاؤنس کا نام دیا جاتا، اور ایک کاغذ پر دستخط لئے جاتے جو ہمیشہ بلینک ہوتے، اگر دو ہزار صحافی کو دیتے تو وہاں دس ہزار لکھے جاتے، اور یہ پریکٹس اب بھی جاری ہے، صحافیوں کے لئے پرتعیش کھانوں اور ورکشاپس کا انعقاد تواتر سے کیا جارہا ہے،. اور یہ اب بھی جاري ہے . پھر کیاوجہ ہے کہ پولیو کی بیماری کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس حوالےسےمیں نے بہت سے پولیو اداروں میں کام کرنے والوں سے پوچھا ہے کہ اس ویکسین میں کیا ہے، تو انہیں یہ پتہ نہیں تھا، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ بس کہ ہمیں اس کی اجازت نہیں اور دوسری بات یہ ویکسین پاکستان میں کھولی بھی نہیں جاسکتی نہ ہی کوئی ایسا ادارہ ہےجو چیک کرے کہ اس میں کیا کیا شامل اس کی تشہیر پرروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور اب تک کئے گئے ہیں جس سے لوگوں میں شکوک وشبہات بیدار ہوتے ہیں کہ کیوں کر اس ویکسین کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی مہم نہیں چلائی جاتی صرف ادارے میں کام کرنے والوں کو لاکھوں کی تنخواہیں دی جاتی ہیں ۔ عوام کو زور اور زبردستی اس ویکسین کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے، باقی بھی بہت سی بیماریاں ہیں ان کےبارےمیں اتنی اگاہی اوررقم کیوں خرچ نہیں کی جاتی،پاکستان میں کینسر، ہیپٹائٹس سمیت دل کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں جس سے روزانہ ملک بھرمیں سینکڑوں لوگ مرتے ہیں .جبکہ گزشتہ بیس سالوں کا اگر ریکارڈ چیک کیا جائے تو بمشکل دس ہزار کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہونگے .

یہ بھی پڑھیں:   اشتہار ات اور بے راہ روی، اصل مقصد کیا ہے؟ محمد ریاض علیمی

اوراس سے پہلے اگر تیس سال پہلے کا ریکارڈ دیکھا جسمیں پولیو کےحوالےسےکوئی کیس درج نہیں ہے نہ ہی کسی اخبار میں اس حوالے سے کوئی خبرچپھی ہے جبکہ گزشتہ پندرہ سالوں سے اس بیماری کےبارے میں میڈیا اور دیگر فورم پر باتیں کی جارہی ہیں، میڈیا کے حوالے سے اگر بات کی جائےتو گزشتہ کئی سالوں میں اتنی ورکشاپس مری اورنتھیاگلی میں کرائی گئیں ہیں جس پر لاکھوں خرچ کیا گیا تین چار سال پہلے ایک ویب سائیٹ کی خبر تھی کہ پشاور میں صحافیوں کی بولیاں لگ گئیں جس میں سب سےزیادہ دس لاکھ اورسب سے کم تین ہزار روپے تقسیم کئے گئے اور یہ پریکٹس جاری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پھراس بیماری کا سدباب کیوں نہیں ہورہا وہ کون سی وجوہات ہیں جس میں میڈیا پر اتنی ترویج اور کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی جب افواہوں پرلوگ پولیو کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو میڈیاکاکردار تسلی بخش نہیں ہے اور نہ ہی کمیونیکشن سٹریٹجی کامیاب قرار دی جاسکتی ہے جس کی بنیادی وجہ عوام تک پیغام کی رسائی طاقت ور نہیں رہی یعنی پولیو مہم کو ماشوخیل واقعے کے بعد ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس کےبعد ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا اسٹریٹجی نئی بنا کر عوام کی شمولیت لازمی رکھی جائے، اس ویکسین کےبارے میں جو شکوک وشبہات ہیں وہ دور کئے جائیں اور پاکستان میں اس ویکسین کو چیک کروانے کے لئے ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے یا اگر ممکن ہو اس ویکسین کو پاکستان میں ہی بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے ورنہ صورتحال بجائےسنھبلنے کی بگڑ سکتی ہے .