سلسلے دراز ہیں - سیدہ رابعہ

زبان درازی تو خیر آدمی کی خاصیت ہے۔زبان اللہ نے حیوانوں کو بھی دی ہے اور انسان کو بھی زبان سے نوازا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ ہم زبان نکال کر مد مقابل کو چڑا بھی سکتے ہیں ڈاکٹر کا کام تو زبان کو تالو تک دیکھنا ہے۔ کوئی بھی مرض ہو سب سے پہلے ڈاکٹر زبان دیکھتا ہے ۔ لیکن یہی زبان اگر بہو ساس کو دکھانے تو پھر پا نی پت کا رن پڑ جاتا ہے زبان اگر قینچی کی طرح چلنے لگے تو پھر تلوار کا زخم تو بھر جاتا ہے مگر قینچی معاف کیجیئے زبا ن کا زخم نہیں بھرتا۔

اس زبان نے کیا کیا نہ فتنے پیدا کئے۔ سلطنتیں تقسیم ہو گیئں۔ انسانوں نے اسی زبان کو بچانے کے لیئے قتل عام کر دیا ۔ حالانکہ ہم آج کل اسی تجربے سے گزر رہے ہیں ہماراپوتا جو زبان بولتا ہے وہ قطب جنوبی کا آدمی بھی سمجھ لے گا۔ اور قطب شمالی کا بھی۔ پھر کیا چینی زبان اور کیا اردو زبا ن ۔ بچے کی زبان ہی بین الاقوامی قرار دے دی جاے تو پوری دنیا میں جھگڑے ہی ختم ہو جائیں زبان دراز ی میں بیویاں بہت بدنام ہیں۔ذرا سا میاں کو انکی اصلیت کیا دکھا دی طلاق کا طوق پہنا کر گھر روانہ کر دیا۔ بےچاریاں اس ڈر سے بولتی نہیں ۔ ہمارا شمار بھی ان ہی میں ہے ۔بیٹے نے بیوی کی طرف داری میں چار لفظ کیا کہہ دیئے کہ زبان دراز ی کا طعنہ مل گیا۔ زلف دراز سے تو اردو شاعری بھری پڑی ہے۔بڑے بڑے نام ور شاعروں نے زلف دراز پر اشعار کہے ہیں۔ کہتے ہیں مومن
الجھا ہے پاوں یار کا زلف دراز میں
لو آپ آپنے دام میں صیاد آگیا
اور پھر
اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
دراز ذلفیں صرف محبوباوں سے منسلک نہیں بلکہ محبوب(لڑکے) بھی اب دراز ذلفیں رکھنے لگے ہیں ۔پیچھے سے دیکھو تو پتہ نہیں چلتا کہ محترم ہیں یا محترمہ۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی قومی زبان اُردو:ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی خدمات - میر افسر امان

خیر بعض لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قوالی سنا نے کا لطف اسوقت تک نہیں آتا جب تک کہ ذلفیں دراز نہ ہوں یہی کیفیت سننے والوں کی ہوتی ہے۔ عابدہ پروین کے گا نے ہم اسی لیئے شوق سے سنتے ہیں کہ محترمہ اپنی زلفوں کو جھٹکے دیتی ہیں۔ دھمال ڈالنے کا لطف تو صرف زلف دراز سے ممکن پے مزاروں پر صرف لمبی زلفوں والے درویش ہی پاے جاتے ہیں۔ جتنی ذلفیں دراز ہوں گی درویش اتنا ہی پہنچا ہوا مانا جاتا ہے۔ سادھو زمین سے اس لیئے نہیں آٹھ پاتے کہ ان کی ذلفیں زمین میں پیپل کی جڑ کی طرح گڑ جاتی ہیں. اللہ عمر دراز کرے۔ بزرگ عام طور پر نہ صرف بچوں کو یہ دعا دیتے ہیں بلکہ مرزا تو یہ دعا ان لوگوں کو بھی دیتے ہیں جن کے پاوں تو کیا گھٹنے گھٹنے وہ قبر میں ہیں۔

ہم نے مرزا کو یہ دعا دیتے ہوے سنا تو کہہ اٹھے ۔ مرزا بد دعا تو نہ دو۔کہنے لگے میرا حق بنتا ہے۔ اس نے مجھے بہت تنگ کیا ہے۔ مرزا غالب کیا خوب کہہ گئے
عمر دراز مانگ کر لاے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
آرزو اور آ انتظار میں دامن چولی کا گٹھ جوڑ ہے۔وہ آرزو ہی کیا جس کے پورا ہونے کے لیئے انتظار کی ذحمت نہ اٹھانی پڑے۔
دراز قد : دراز قامتی تو ہر زمانے میں پسند کی گئ ہے۔ دراز قامت لڑکے اور لڑکیاں کیا نہیں کرسکتے۔ ہاں آسمان سے تارے توڑ لانے کی بات اور ہے۔

وللہ ہم غلط نہیں کہہ رہے ہیں۔ امیتابھ ہر فلم کے گانے اور مکالموں میں اپنی بلند قامت کا ذکر فخریہ انداز میں کرتے ہیں۔ مرزا غالب کے اس دوسرے شعر پر تو کافی تفسیریں شائع ہو چکیں۔اب صرف علی عاصم باقی رہ گئے ہیں
نگاہوں میں پھرتی ہے آٹھوں پہر
قیامت بھی ظالم کا قد ہو گئ
تیرے سرو قامت سے ایک قد آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
ویسے ملک کے معاشی اور معاشرتی حالات دیکھتے ہوے واقعی قیامت کا انتظار کچھ طویل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کی قومی زبان اُردو:ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی خدمات - میر افسر امان

دست درازی ۔ یہ لفظ سنتے ہی ہمارے نیوز کا سٹر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔جو دست درازی کی کم از کم دس خبریں ضرور سناتے ہیں۔ہمیں یہ لفظ کچھ اوباش سا لگتا ہے۔مگر خیر ایسا بھی نہیں۔ دست دراز ی اور دست دراز کرنے میں ایک واضح فرق ہے۔سیاست دانوں اور فقیروں میں صرف یہ فرق ہے کہ فقیر صرف دست دراز کرتے ہیں جب کہ سیاست دان دونوں چیز استعمال کرتے ہیں۔

دور دراز کے رشتہ داروں کی کوئی قدر اور اہمیت نہیں ہوتی۔ بعض مرتبہ تو آپنے سگے بھائی بہن اور اپنے والدین بھی دور دراز کے زمرے میں آتے ہیں۔ اور بعض مرتبہ یہ دور دراز کے رشتہ دار ہمارے لیئے اجنبی کا روپ دھار لیتے ہیں۔

عرصہ دراز۔ شہزادیوں کی کہانی ہمیشہ عرصہ دراز کی بات ہوتی ہے۔ ہندوستان عرصہ دراز قبل سونے کی چڑیا تھا۔ آج کل بھی سونے ہی کی چڑیا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی عرصہ دراز امن اور چین سکوں تھا۔ اب بقول فیصل ووڈا کے وہ دور جلد ہی لوٹ کر آنے والا ہے۔ ویسے دانشوروں کا کہنا ہے کہ گیا وقت واپس نہیں آتا۔ یہ دانشور بھی نہ جانے کیا کیا کہہ جاتے ہیں۔ تبدیلی آنے والی ہے۔
اب تو یہ سلسلہ بہت دراز ہو گیا۔ قبل اس کے کہ ہم کیا کیا نہ کہہ جائیں فرار ہونا ہی بہتر ہے۔ ورنہ قلم اور زبان کو کون روک سکا ہے۔