ہارٹ اٹیک اور ہمارا مروجہ طریقہ علاج - بشارت حمید

ڈاکٹر اور مریض کا تعلق سراسر مریض کے ڈاکٹر پرایک لحاظ سے اندھے اعتماد پر منحصر ہوتا ہے ۔۔ کسی بھی مرض میں مبتلا ہونے والا فرد اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈاکٹر کی سمجھ بوجھ اور علم و فہم کے حوالے کرکے اسکی بتائی ہوئی دوا اور طریقہ علاج پر بھروسہ کرکے اپنا علاج کرواتا ہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اب یہ میڈیکل کا نیک نام شعبہ آہستہ آہستہ ایک پرافٹ ایبل بزنس اور پروفیشن بنتا جارہا ہے۔

یہاں ایک بات ذہن میں رہے کہ میں سب ڈاکٹرز کے بارے نہیں کہہ رہا لیکن اکثریت کا مقصد اب صرف پیسہ بنانا ہے چاہے وہ مریض کی زندگی سے کھیل کر ہی کیوں نہ بنے ۔ دکھی انسانیت کی خدمت کانصب العین اب بہت سے ڈاکٹرز کے پیش نظر نہیں رہا اب انکے نزدیک مریض ایک کسٹمر ہے جو انکی آمدن کا ذریعہ ہے۔بلاشبہ بہت سے ڈاکٹرز ایسے ہیں جو پیسے کو ترجیح دینے کی بجائے مریض کی صحت کا خیال رکھتے ہیں وہ اس آرٹیکل میں لکھی گئی باتوں کی زد میں نہیں آتے۔ ہم میں سے کسی کواگر دل کی تکلیف ہو اور سرکاری کارڈیالوجی سنٹر یا پرائیویٹ سپتال جانا پڑے ۔۔ سب سے پہلے تو مریض کو ڈرا دیا جاتا ہے کہ اوہ ہو۔ ہو۔ ہو ۔۔ آپ یہاں تک پہنچ کیسے گئے۔۔ آپ کو تو بہت شدید ہارٹ اٹیک ہوا ہے(حالانکہ مریض کو آخری دم تک حوصلہ اور تسلی دینی چاہیئے) ۔۔ فوری آئی سی یو میں جائیں۔۔ آئی سی یو میں لواحقین سے ایک پرنٹ کئے ہوئے ہدایت نامے پر سائن کروا لئے جاتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے اگر دوران علاج مریض کی جان چلی جائے تو ہسپتال کا عملہ ہرگز ذمہ دار نہیں ہوگا اور ساری ذمہ داری مریض اور لواحقین پر ہی عائد ہوگی۔ مرتے کیا نہ کرتے ۔۔ اب اس ہدایت نامہ پر دستخط کرنا مجبوری ہوتی ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی آپشن اس وقت نظر نہیں آتا ۔۔

اس کے بعد خون پتلا کرنے والا انجیکشن لگا دیا جاتا ہے جس کے بذات خود بے شمار سائیڈ ایفیکٹس ہیں بشمول مریض کی جان کے خطرے کے۔۔ اس کے بعد مریض کی حالت سنبھل جائے تو پھر اینجیوگرافی تجویز کی جاتی ہے۔۔ اینجیوگرافی کا عمل بذات خود ایک تکلیف دہ اور خطرناک عمل ہے جس میں ایک اینڈوسکوپک کیمرہ تار کے ذریعے دل کو جانے والی شریان میں بازو یا ٹانگ پر کٹ لگا کر اس میں گھسا کر دل کے قریب پہنچایا جاتا ہے تاکہ شریانوں کی بلاکیج کا پتہ چل سکے۔ اس عمل کے دوران بھی مریض کی جان بھی جا سکتی ہے لہٰذا اس سے قبل بھی ورثاء سے کاغذ پر دستخظ لے لئے جاتے ہیں جس ہم سب بنا سوچے سمجھے سائن کر دیتے ہیں۔ اگر تو مریض کسی سرکاری ہسپتال میں گیا ہو اور اپنے خرچے پر علاج کروا رہا ہو یا پرائیویٹ ہسپتال میں ہو تو اینجیوگرافی کے دوران ہی ورثاء کو بتا دیا جاتا ہے کہ ایک دو یا تین جگہ بلاکیج ہے اور فوری سٹنٹ ڈالنا پڑے گا ورنہ مریض کی جان خطرے میں ہوگی۔۔ اب جو صورتحال ہوتی ہے اس میں ورثاء فوری مان جاتے ہیں کہ ٹھیک ہے سٹنٹ ڈال دیں۔۔ ایک سٹنٹ جس کی مالیت مشکل سے دس پندرہ ہزار ہو گی اس کا ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ تک وصول کیا جاتا ہے اور اسی تار کے ذریعے سپرنگ نما سٹنٹ کو جسم کے اندر گھسا دیا جاتا ہے۔

اس سارے عمل میں پندہ بیس منٹ لگے اور دو ڈھائی لاکھ لے لئے۔۔ مریض بھی خوش اور ڈاکٹر اس سے زیادہ خوش ۔ اتنی کمائی کسی اور کام میں کہاں۔۔۔ پھر دوائیاں لکھ دی جاتی ہیں کہ فلاں کمپنی کی گولی لینی ہے اور یہ ساری عمر کھانی پڑے گی ۔۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ سال ڈیڑھ سال بعد مریض پھر سینے میں درد کی شکایت کے ساتھ ہسپتال آ جاتا ہے ۔۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ اب دوسری جگہ بلاکیج آ گئی ہے ۔۔ چلو جی اب ایک اور سٹنٹ ڈلواو۔۔ اب یہ تین سے چار لاکھ میں ڈالا جائے گا۔۔ کئی لوگوں کو تو چار پانچ بلکہ اس سے بھی زیادہ سٹنٹ ڈال دئیے جاتے ہیں۔ لیکن نہ دوائیاں کم ہوتی ہیں اور نہ ہی مریض مکمل صحتیاب ہوتا ہے۔ ہسپتال کی طرف سے سرجنز کو ٹارگٹ ملتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سٹنٹ ڈالیں اور بائی پاس سرجری کریں تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ رہی مریض کی صحت اور جیب۔۔ تو اس کی کسے پرواہ۔۔ وہ تو کسٹمر ہے جس سے کمائی ہونی ہے۔ ایلومیتھی میں کوئی بھی دوائی تجویز کرنے سے قبل مختلف ٹیسٹ لکھ دیئے جاتے ہیں اور ساتھ ہی کہہ دیا جاتا ہے کہ فلاں لیب سے ہی کروانا ان کا رزلٹ اچھا ہوتا ہے۔۔ اب اس کا رزلٹ یقیناً ڈاکٹر صاحب کے لئے اچھا ہی ہوتا ہے کہ ہر ٹیسٹ کی فیس میں سے ان کا حصہ انکو باقاعدگی سے پہنچ جاتا ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں:   گردوں کے فیل یا ناکارہ ھوجانے کا آسان اور حیرت انگیز علاج ڈاکڑ زائر حسین رضوی

جس ٹیسٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی وہ بھی لکھ دیئے جاتے ہیں۔۔ لکھنے والے کی بلا سے مریض اتنا خرچہ کہاں سے لائے ۔۔ کیا کچھ بیچ کر پیسے اکٹھے کرے ۔۔ کہاں سے بھیک مانگے۔۔ لیکن ٹیسٹ ضروری ہیں اور خاص لیب سے ہی ضروری ہیں۔ اسی طرح دوائیوں میں ڈاکٹرز کا کمیشن طے ہوتا ہے وہ بھی انہیں پہنچتا رہتا ہے۔ جو ڈاکٹر پیسے نہیں لیتا اسے مختلف تحفے تحائف فارما سوٹیکل کمپنیز کی طرف سے پہنچائے جاتے ہیں۔۔ مختلف طریقوں سے ڈاکٹرز کی قیمت لگائی جاتی ہے۔۔ کبھی شمالی علاقہ جات کے فیملی ٹوورز۔۔ کبھی دبئی کبھی یورپ میں کانفرنسز ۔۔ یہاں تک کہ عمرہ اور حج بھی سپانسر کیا جاتاہے۔۔۔ صرف اپنی دوائی کی سیل بڑھانے کے لئے فارما کمپنیاں مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔ اس پر مستزاد مارکیٹ میں ملنے والی دو نمبر اور زائدالمیعاد دوائیاں ہیں۔ صرف زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے لئے میڈیکل سٹور مافیا کیا کیا کرتا ہے اس کی تفصیلات میں جائیں تو انسان ششدر رہ جائے کہ کس پر اعتبار کریں ۔۔ جیب سے پیسے بھی خرچیں اور صحت کی بجائے مزید بیماریوں کا شکار ہوتے جائیں ۔۔ جائیں تو جائیں کہاں۔۔ یہ تو تھا میڈیکل کے ایک شعبے سے متعلق ایک تجزیہ جو اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربے کی بنا پر آپ کے ساتھ شئر کیا ہے۔

اسی طرح جس جس شعبے کو دیکھیں گے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ایسے ہی معاملات سامنے آئیں گے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی کو دل کی تکلیف ہو جائے تواسے کیا کرنا چاہیئے۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ ساری بیان کی گئی باتیں ذہن میں رکھتے ہوئے کسی قریبی دل کے ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں اور جو بھی دستیاب علاج ہے وہ کروائیں تاکہ ایک بار طبعیت سنبھل جائے۔۔ اگرمروجہ تار گھسانے والی اینجیوگرافی تجویز کی جائے تو اس سے بچنے کی ہرممکن کوشش کریں اور سی ٹی اینجیوگرافی پر اصرار کریں۔ سی ٹی اینجیوگرافی ایک نئی تکنیک ہے جس میں ایک انجیکشن لگا کر مریض کو سکیننگ مشین سے گزارا جاتا ہے اور جہاں جہاں بلاکیج ہوتی ہے وہ سامنے آ جاتی ہے۔۔ اب اگر مریض کی شریانوں میں کوئی بلاکیج مل جائے تو فوری طور پر سٹنٹ ، اینجیوپلاسٹی یا بائی پاس کی طرف ہرگز مت جائیں۔۔ یاد رکھیں کہ انسانی جسم جب تک نیچرل حالت میں رہے گا تب تک بہتر کام کرے گا جب بھی اس سے چھیڑچھاڑ کی جائے گی تو اس سے بہت ساری پیچیدگیاں جنم لیں گی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آتی جائیں گی .

اور مریض تادم مرگ ڈاکٹرز ، لیب اور میڈیکل سٹورز کی آمدنی میں اضافہ کرنے والاایک کسٹمر بن کر رہ جائے گا۔مرض کوئی بھی ہو ہماری اپنی بے اعتدالیوں کا اس کی پرورش میں کافی کردار ہوتا ہے۔ ہم زبان کے چسکے بڑھاتے جا رہے ہیں اور ہلنا جلنا، واک اور ورزش سے دور ہوتے جارہے ہیں اس کے نتیجے میں ہر دوسرا بندہ ہارٹ اٹیک ، بلڈ پریشر، شوگر اور اس طرح کے موذی امراض کا شکار ہوتا جارہاہے۔ دل کے مریض اپنا لائف سٹائل فوری تبدیل کریں۔۔ زبان کے چسکے جتنے لینے تھے لے چکے۔۔ اب اگر صحت مند زندگی گزارنی ہے تو گھی تیل اور تمام چکنائیاں بند کرنا ہوں گی۔ واک باقاعدگی سے کرنی ہوگی۔ پنج وقتہ نماز باقاعدگی سے شروع کریں۔۔ ماہانہ ایک مخصوص رقم مکمل اخفاء کے ساتھ اللہ کی راہ میں کسی ضرورت مند کو دینا شروع کریں۔ اپنے کھانے میں گھی کی جگہ پانی استعمال کریں۔۔ لہسن ، ادرک، سرکہ ، لیموں اور شہد سے بنا ہوا دیسی نسخہ اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔۔ بہتر ہے کہ یہ نسخہ خود گھر پہ تیار کریں ۔ میں ایک ایسے شخص سے مل چکا ہوں جسے2012 میں بائی پاس آپریشن تجویز ہوا تھا لیکن وہ اسی نسخے کے استعمال سے صحت یاب ہو اور سات سال گزرنے کے بعد بھی ماشاءاللہ صحت مند زندگی گزار رہا ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں:   گردوں کے فیل یا ناکارہ ھوجانے کا آسان اور حیرت انگیز علاج ڈاکڑ زائر حسین رضوی

اس کے ساتھ ساتھ سورہ الرحمٰن قاری عبدالباسط مصری کی آواز میں صبح دوپہر شام سات دن کہیں خاموشی والی جگہ بیٹھ کر آنکھیں بند کرکے مکمل توجہ اپنے اللہ کی جانب کرکے سنیں۔۔ ساتھ آدھا گلاس پانی رکھ لیں بیس منٹ کی تلاوت مکمل ہو تو آنکھیں کھول کر پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑ لیں پھر آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو اللہ کے سامنے حاضر تصور کریں اور اپنے دل سے سب لوگوں کو ان کی زیادتیوں کو معاف کر دیں ۔اپنا دل صاف کریں اور اپنے سب گناہوں کی معافی بھی مانگیں ایسے گناہوں کی بھی جن کو آپکے اور اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ آنکھیں بند رکھتے ہوئے وہ پانی تین گھونٹ میں پی لیں اور پھرآنکھیں کھول لیں۔۔ یہ عمل سات روز متواتر کریں یہ اپنے اندر بہت اثر رکھتا ہے۔۔لائف سٹائل تبدیل کرنے کے بارے ایک انڈین ہارٹ سپیشلسٹ Dr. Bimal Chhajer جو کہ انڈیا میں Saaol (Science and art of living) کے نام سے 80 سے زائد مقامات پر کلینکس چلا رہے ہیں ان کے یوٹیوب ویڈیوز ضرور دیکھیں۔۔ وہ سب کارڈیالوجسٹس کی لائن سے ہٹ کر ایک نئی راہ مریضوں کو دکھاتے ہیں۔ گھی تیل کے بغیر کھانوں کی بے شمار ریسیپیز وہ یوٹیوب پر شئر کر چکے ہیں۔ دل کے تمام مریض اور سب صحت مند لوگ بھی انکی ویڈیوز ضرور دیکھیں تاکہ وہ مستقبل میں دل کے امراض سے ممکن حد تک بچ سکیں۔

ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ لوگ سٹنٹ اور بائی پاس کی طرف فوری کیوں راغب ہوتے ہیں اسکی چند وجوہات ہیں۔۔ ایک تو دل کے مریض ہو جانے کا نفسیاتی خوف ہے۔ جو مریض اسے دل میں جگہ دے دیتا ہے وہ ہر وقت اسی کے بارے پریشان رہتا ہے۔ اس خوف کو دل میں ہرگز نہ گھسنے دیں۔ دوسرا یہ کہ ڈاکٹر حضرات مریض کو ڈرا ہی اتنا دیتے ہیں کہ آپ خوش قسمت ہیں جو یہاں پہنچ گئے ورنہ تو آپکی جان بھی جاسکتی تھی اب فوری سٹنٹ ڈلوائیں ۔۔
پھر یہ کہ ہم زبان کا چسکا نہیں چھوڑ سکتے۔۔ آرگینک اور سادہ طرز زندگی کی طرف پلٹنا ہمیں شاید ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی گھٹیا کام ہے ۔۔ اب لوگ ہمیں پینڈو کہیں گے ۔۔اللہ کے بندو جب ماضی میں لوگ سادہ زندگی بسر کرتے تھے سادہ خوراک کھاتے تھے اور پیدل چلا کرتے تھے کام کاج خود کیا کرتے تھے تب کبھی دل کے امراض اس قدر عام کسی نے دیکھے تھے۔۔۔؟ اب جب ہم یورپی فاسٹ فوڈز، برگر، پیزے کے دیوانے ہوئے بیٹھے ہیں تو دیکھ لیں کیا صورتحال ہے۔۔ کسی قریبی ہسپتال کا چکر لگا آئیں اور دیکھیں کہ ہارٹ اٹیک اور بلاکیج کے کتنے مریض لائنوں میں لگے ہوئے ہیں۔۔ آخر کیوں ہم اس بات کو سمجھ نہیں پا رہے کہ سادہ خوراک اور سادہ طرز زندگی اپنانے سے کوئی انسان اعلٰی سے ادنٰی نہیں بن جاتا۔ اگر اللہ نہ کرے آپ کسی ایسے مرض کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی تکلیف سب سے زیادہ آپ ہی نے بھگتنی ہے ۔۔ ہسپتال کے بیڈ پر پھر آپ ہی کو لیٹنا پڑے گا۔۔

ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی خوراک کا تجزیہ کریں اور اس میں صحت کے لئے کارآمد اشیاء کا اضافہ کریں اورفاسٹ فوڈ سمیت تلی ہوئی پراسیس شدہ چیزوں کو نکال باہر کریں۔۔دل کے مرض کو لائف سٹائل تبدیل کر کے ٹھیک کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لئے زبان سے زیادہ معدے کا خیال رکھنا پڑے گا۔ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اس کا ذائقہ صرف زبان تک ہی محسوس ہوتا ہے جیسے ہی لقمہ حلق سے نیچے اترا پھر معدے کے لئے سب کچھ ایک جیسا ہی ہے چاہے وہ ساگ ہو یا چکن بروسٹ۔۔تو پھر کیوں ہم اپنے ہاتھوں ایسی چیزیں خریدیں اور کھائیں جو بجائے صحت کے الٹا ہمیں بیماریوں میں مبتلا کردیں۔اپنی صحت کے لئے روزانہ آدھا گھنٹہ واک کے لئے ضرور نکالیں۔۔ اور رات کو جلدی سوئیں ۔۔ رات کی نیند جیسی نعمت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔۔ صحت ہے تو یہ زندگی اور اس کی رونقیں اچھی لگتی ہیں ۔۔صحت نہیں توہر شے سے انسان بیزار ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیں اگر آپ اپنی صحت کے لئے اپنی مصروفیات میں سے وقت نہیں نکال سکتے تو پھر بیماری کے لئے وقت لازماً نکالنا پڑے گا۔ سورہ الرحمٰن تھراپی کے لئے یوٹیوب ویڈیو کا لنک https://www.youtube.com/watch?v=S9hKOy4PodI
انڈین ہارٹ سپیشلسٹ کے بتائے گئے لائف سٹائل کی تفصیل کے لئے یوٹیوب ویڈیو کا لنک https://www.youtube.com/watch?v=bCwQ82TkVDA&t=1s

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.