فنڈز ریزنگ اور تحریک انصاف - احسن سرفراز

ڈیم فنڈ کے لیے سندھ کےگورنر ہاؤس میں ایک تقریب منعقد کی گئی، چہتر کروڑ روپے جمع ہوئے جس کا تقریب کے اختتام پر اعلان بھی کیا گیا لیکن سرکاری خزانے میں محض چھیاسٹھ کروڑ جمع کروائے گئے، باقی دس کروڑ کی خرد برد کا کوئی حساب نہیں۔ اس بات کو جب حامد میر نے اپنے پروگرام میں وزیر پانی و بجلی فیصل واوڈا کے سامنے اٹھایا تو اس نے اعتراف کیا کہ ذاتی حیثیت سے جو لوگ فنڈز جمع کر رہے ہیں اسکا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں اور آئندہ ہر ایک سرکاری فنڈ میں ہی چیک کی صورت رقم جمع کروائے۔

پچھلے دنوں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور موجودہ وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان و تحریک انصاف کے چند دیگر سرکردہ رہنما بیرون ملک ڈیم فنڈز کیلیے رقوم جمع کرتے رہے، ابھی تک قوم کے سامنے اس فنڈ ریزنگ کی بھی کوئی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔ اب گورنر پنجاب چوہدری سرور کا نیا سکینڈل سامنے آیا ہے جس پر تجزیہ نگار نجم سیٹھی نے اپنے پرسوں کے ٹی وی پروگرام میں کافی تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔گورنر صاحب نواز شریف کے دور ہی سے صاف پانی منصوبے کے بڑے شدید حامی رہے ہیں اور انکی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ انھیں اس منصوبے کا مدارالمہام بنایا جائے، اب تحریک انصاف کی حکومت میں انکی امید بر آئی ہے اور انھیں اس منصوبے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے جسکے تحت پنجاب بھر میں فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں گے۔ گورنر صاحب اس منصوبے کی مد میں اپنے ذاتی ٹرسٹ "سرور فاؤنڈیشن" کیلیے فنڈ ریزنگ کرتے رہے ہیں اور حال ہی میں اس سلسلے میں امریکہ سے بھی ہو کر آئے ہیں۔ اب جب نجم سیٹھی کے ذریعے اس فنڈ ریزنگ کی تفصیلات سامنے آئیں تو کل گورنر صاحب نے پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ جب تک گورنر رہیں گے وہ اپنی اس فاؤنڈیشن سے علیحدگی رکھیں گے اور اس فاؤنڈیشن نے اب تک جو پندرہ سولہ کروڑ روپے جمع کیے ہیں وہ بھی سرکاری فنڈ میں جمع کروا دیں گے۔

خیر یہ تو اب اللہ اور گورنر صاحب ہی بہتر جانتے ہیں کہ سرور فاؤنڈیشن نے حقیقت میں کتنی رقم جمع کی تھی۔ بہرحال بات یہاں بھی نہیں رکتی بلکہ اصل پلان جو نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں واضح کیا ہے کہ لگائے جانے والے تمام فلٹریشن پلانٹس کی خریداری بھی گورنر صاحب اپنے ذریعے کروانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انکا بیٹا فلٹریشن پلانٹس کا تمام سامان بھی خرید کر لا چکا ہے جو اس وقت پاکستان ہی کے کسی وئر ہاؤس میں پڑا ہے۔ اب جب خریداری باپ کرے گا اور مبینہ طورپر اپنے کسی فرنٹ مین اور آفشور کمپنی کے ذریعے بیچے گا بیٹا تو سرکاری خزانے کو کتنا چونا لگے گا اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔02013 الیکشن میں تحریک انصاف کو پارٹی فنڈز کیلیے بیرون ملک سے بھاری رقوم موصول ہوئیں اور ان رقوم بھیجنے والوں میں ہندو اور یہودی تک شامل تھے اور یہ تفصیلات الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کے کیس میں سامنے آ چکی ہیں۔ اکبر ایس بابر پارٹی سے ان رقوم کا حساب مانگ رہے ہیں کہ یہ رقوم کتنی تھیں اور انھیں کہاں خرچ کیا گیا، لیکن آج دن تک تحریک انصاف اس کیس کا جواب دینے سے بھاگ رہی ہےاور الیکشن کمیشن بھی تاریخ پر تاریخ دیتے ہوئے اس کیس کو مسلسل لٹکا رہا ہے۔

محترمہ علیمہ خان جو خان صاحب کی بہن ہیں اور شوکٹ خانم کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی ممبر رہی ہیں اور بیرون ملک شوکت خانم ٹرسٹ کیلیے فنڈ ریزنگ کیلیے خاصی متحرک رہی ہیں، حال ہی میں انکی دبئی اور امریکہ میں اربوں روپے کی جائداد کا انکشاف ہوا ہے، جسکی منی ٹریل محض انکا یہ جواب ہے کہ انھوں نے یہ جائدادیں سلائی مشینیں ایکسپورٹ کر کے بنائی ہیں۔ اب انکے اس جواب کو مان کر ٹیکس ڈیپارٹمنٹ انھیں دو ڈھائی کروڑ کا جرمانہ کرنے کے بعد انکی تمام جائداد کو وائٹ کرنے جا رہا ہے۔کیا فنڈ ریزنگ کے اس "پاکیزہ" دھندے کی آڑ میں لوٹ مار کا جو بازار گرم ہے نیب کو اسکا نوٹس نہیں لینا چاہیے؟ کیا لوگوں کی امیدوں اور نیک جذبات کا سہارا لے کر انکا استحصال اور اچھے کاموں کی آڑ لے کر ان فنڈز کو شیر مادر کی طرح پی جانا معمولی کرپشن ہے؟ کیا نیب کا کام احتساب کی بات کو محض سیاسی بلیک میلنگ کیلیے استعمال کرنا ہی رہ گیا ہے یا اس وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے جب اس حکومت کو لانے والے انھیں بھی نکالنے کا فیصلہ کریں گے اور پھر نیب کو حرکت میں لا کر عوام کے سامنے انکے کچے چٹھے کھولے جائیں گے؟ جب تک اس ملک میں احتساب سب کیلیے کا نظام نہیں اپنایا جائے گا اور تیرا چور مردہ باد، میرا چور زندہ باد کی سوچ نہیں بدلی جائے گی تب تک حقیقی تبدیلی ممکن نہیں اور نہ ہی تب تک احتساب کا خواب حقیقی طور پر شرمندہ تعبیر پا سکتا ہے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.