’’سلیکٹڈ وزیراعظم‘‘ مگر حکمران ماں کے جیسا- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

جس طرح شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے انہیں سابق وزیراعظم کہنا عجیب لگتا ہے۔ ان کی قسمت جاگی کہ تب شہبازشریف ممبر قومی اسمبلی نہ تھے۔ ورنہ قائد حزب اختلاف شاہد خاقان عباسی ہوتے۔ عجیب قسمت ہے ہمارے سیاستدانوں کی۔ اقتدار ہوتو حکمران اور حزب اختلاف میں قائد حزب اختلاف۔ انہوں نے سیاست اور حکومت کو یکجا کر دیا ہے اور خود ’’یکتا‘‘ ہونے کی کوشش کی ہے۔
شاہد خاقان بولے ہیں کہ اسد عمر نے جتنی مہنگائی کی کسی نے نہیں کی۔ ایک اور زبردست بات کی مگر یہ بات خود ان کے اپنے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارا پاکستان عمران خان کو سلیکیڈ وزیراعظم کہتا ہے۔ خاقان عباسی کو نوازشریف نے وزیراعظم بنایا جبکہ وہ خود سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل ہوچکے ہیں۔

میرے خیال میں چوہدری نثار کو وزیراعظم بنایا جانا چاہیے تھا مگروہ چونکہ نوازشریف سے اختلاف کرتے ہیںاور اپنی حیثیت کا بھی احساس کراتے ہیں مگر چوہدری صاحب کی دوستی شہباز شریف سے ہے اور انہیں اب وزیراعظم بننا ہے۔ قائد حزب اختلاف کو مرکزی وزیر کے برابر مراعات ملتی ہیں اور وہی وزیراعظم ہونے کا استحقاق رکھتا ہے۔
شاہد خاقان عباسی کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ اب ساری عمر سابق وزیراعظم کہلائیں گے مگر یہ سب جانتے ہیں کہ وہ نوازشریف کا انتخاب ہے۔ وہ عوام کا انتخاب نہیں ہے تو پھر اصل سلیکٹڈ وزیراعظم کون ہے ان سے گزارش ہے کہ وہ عمران کے لیے سلیکٹڈ وزیراعظم کا لفظ استعمال نہ کریں۔

چوہدری نثار کے وزیراعلیٰ سے کئی باتیں ہورہی ہیں یہ ہو تو مجھے خوشی ہوگی میں نے اپنی اس پسند وناپسند میں مفاد کو سامنے نہیں رکھا۔ شہبازشریف سے بھی ایک دو بار ملاقات ہوئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان سے ڈر لگتا ہے۔ مجھے تو ایسی کوئی بات محسوس نہیں ہوئی۔ شخصیت اورمزاج تو اس طرح‘ کسی آدمی کا ہوسکتا ہے جس کا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ویسے حکمران لوگوں سے محبت اور مہربانی کرنے والا ہونا چاہیے۔ محبت کا اپنا ایک ڈر ہوتا ہے۔ جسے محبت کرنے والا ہی سمجھتا ہے ایک ڈر ماں کا بھی جسے چھوٹا بچہ ہی سمجھ سکتا ہے۔ بچہ لاڈ بھی اپنی ماں سے ہی کرتا ہے۔ کاش سارے حکمران ماں کے جیسے ہو جائیں تو یہ مسئلہ ہی ختم ہوجائے۔ ماں کا لفظ پہلے پہل شاید برادرم اعتزاز احسن نے استعمال کیا تھا۔ ’’ریاست ماں کے جیسی‘‘ ریاست کی نسبت حکمران سے ہوتی ہے۔

چوہدری نثار کو اس کے لیے تحریک انصاف جائن کرنا ہوگی اور یہ ایک مشکل کام ہے۔ وہ خود کو مسلم لیگ ہی میں سمجھتے ہیں اور ہے شہبازشریف کبھی وزیراعظم ہوئے تو چوہدری نثار وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔ چوہدری نثار شہبازشریف کے دوست ہیں۔ نوازشریف بھی یعنی شریف برادران چوہدری نثار کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔ مسلم لیگ ن میں شریف برادران کے بعد چوہدری نثار ہی ایک طاقت ور آدمی ہے۔ مریم نواز اور حمزہ شہباز کا نام بھی آتا ہے ایک بار مجھے اپنے خط میں چوہدری نثار نے لکھا تھا کہ شریف برادران کے گھر والوں ‘ مریم ‘ حمزہ ‘ حسن اور حسین کے لیے میں ایک ہی رائے رکھتا ہوں۔ بلاول زرداری بھی بلاول بھٹو بننے کی کوشش کررہا ہے تو برادرم آصف زرداری کیا بننے کی کوشش کررہا ہے وہ بے نظیر بھٹو سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہے اور کامیاب ہے۔

قومی کتاب میلے پر ابھی لکھنے کا ارادہ ہے۔ اتوار کو میلہ ختم ہوا مگر ابھی میں یہاں ہوں ۔ سوموار کو ڈاکٹر بابر اعوان سے ملاقات ہوئی۔ دانیال کھوکھر ایڈووکیٹ مجھے ڈاکٹر بابر اعوان سے ملاقات کے لیے لائے ۔ ملاقات میں دوپہر کا کھانا بھی شامل تھا۔ ہوٹل خاصا شاندار تھا اور کھانا بھی مگر میں نے صرف ڈاکٹر بابر اعوان سے ملاقات کی ۔ کھانا بھی چکھ لیا۔ پھر میں نوائے وقت میں چلا آیا۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر برادرم جاوید صدیق سے ملاقات ہوئی ڈاکٹر اعوان نے بہت اچھی تخلیقی باتیں عمران خان کے لیے کہیں ان کے حوالے سے الگ کالم کی ضرورت ہے۔