تبدیلی سے وزارتوں کی تبدیلی تک- خالد مسعود خان

فیصل وائوڈا نے مورخہ گیارہ اپریل کو بڑے تیقن سے اعلان فرمایا کہ اگلے دو ہفتوں میں ملک میں دس لاکھ نوکریوں کی بارش ہو گی۔ اسی روز ہی شاہ محمود قریشی نے بیان دیا کہ بھارت ایک ہفتے میں حملہ کر دے گا۔ یار لوگوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا دی کہ ''فیصل وائوڈا کہتا ہے کہ ایک ہفتے میں نوکریوں کی بارش ہونے والی ہے اور شاہ محمود کہتا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے۔ اب بندہ پریشان ہے کہ وہ سی وی (بائیوڈیٹا) کو ٹاکی مارے یا بندوق کو‘‘۔ خیر سے دو ہفتے آج پورے ہو گئے ہیں۔ ابھی تک نوکریوں کے اعلان بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا۔ ہاں! کل کے دن نوکریوں کی طوفانی بارش ہو جائے تو یہ عاجز کچھ کہہ نہیں سکتا؛ تاہم دس اپریل سے لے کر آج مورخہ چوبیس اپریل تک یعنی چودہ دنوں میں تو نوکریوں کی بارش کجا ایک چھینٹا تک نہیں پڑا۔ جب بارش موسلادھار تو نتیجتاً سیلاب آ جاتا ہے۔ کم از کم ہمارا تو بچپن سے یہی تجربہ ہے کہ جب بھی شدید بارشیں ہوئیں سیلاب ضرور آیا۔ فی الحال صورتحال یوں ہے کہ نوکریوں کے متوقع سیلاب کی زد میں آ کر اسد عمر کی نوکری ضرور بہہ گئی ہے۔

میں سکول اور کالج تک ہاکی کھیلتا رہا ہوں اور ایمانداری کی بات ہے کہ میں اپنے سکول کا بہترین تو ایک طرف رہا بمشکل اوسط درجے کا کھلاڑی تھا۔ کالج میں جا کر یہ اوسط درجہ تھوڑی مزید تنزلی کا شکار ہو گیا لیکن یہ تنزلی میری ہاکی سے دلچسپی ختم نہ کر سکی۔ میں ریڈیو پر پاکستان کے ایشین گیمز‘ اولمپک گیمز اور ہاکی کی عالمی چیمپئن شپ میں ہونے والی کوئی کمنٹری نہیں چھوڑتا تھا۔ ملتان میں دو بار نیشنل ہاکی چیمپئن شپ ڈویژنل سپورٹس گرائونڈ میں ہوئی۔ کبھی کوئی میچ مس نہ کیا۔ تب پی آئی اے کی ٹیم شبروز ہوٹل میں ٹھہرا کرتی تھی۔ ٹیم میں رشید جونیئر‘ شہناز شیخ‘ اختر الاسلام‘ ریاض احمد‘ اسد ملک‘ اشفاق احمد‘ ریاض الدین‘ سلیم شیروانی اور فضل الرحمان جیسے نامور کھلاڑی ہوا کرتے تھے۔ چچا قادر ان کا منیجر‘ کیئر ٹیکر‘ خادم اور اتالیق سب کچھ تھا۔

ایک بار ساری ٹیم میرے گھر آئی (یہ بالکل ایک علیحدہ کالم کا موضوع ہے) پھر ٹی وی آ گیا اور قومی نشریاتی رابطے پر براہ راست میچز آنے شروع ہو گئے۔ میں نے اتنی زیادہ تعداد میں ہاکی میچ دیکھے کہ کھیل کی ساری باریکیوں سے‘ کھلاڑیوں کی خوبیوں اور خامیوں سے‘ اور میچ کی تکنیک سے اچھی طرح واقف ہو گیا تھا۔ تب مجھے کوئی کمنٹری باکس میں بطور مبصر‘ ماہر تبصرہ نگار یا نقاد بٹھا دیتا تو میں بڑوں بڑوں کے چھکے چھڑوا دیتا۔ سکول کے زمانے کے اسط درجے کے ہاکی کے کھلاڑی کو اگر ٹی وی پر بیٹھنے کا موقع مل جاتا تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں رشید جونیئر‘ شہناز شیخ‘ اسد ملک اور فضل الرحمان جیسے نابغہ کھلاڑیوں کے پرخچے اڑا دیتا۔ ان کے کھیل میں ایسے ایسے نقائص نکالتا کہ میری بطور ماہر مبصر اور نقاد دھاک بیٹھ جاتی۔ ہاکی بارے میرا اکتسابی علم جو محض دیکھنے تک محدود تھا سننے والوں کو ایسا متاثر کرتا کہ وہ میرے تبحر علمی سے مرغوب ہوئے بغیر نہ رہ سکتے۔ یہی کچھ اسد عمر نے ہمارے ساتھ کیا تھا۔

کسی بھی ملٹی نیشنل کمپنی کا پریذیڈنٹ اور چیف ایگزیکٹو ہونا ایک علیحدہ بات ہے۔ اس چیز پر بھی بات نہیں ہو رہی تھی کہ موصوف اینگرو کے چیف ایگزیکٹو بھی کیسے تھے۔ ابھی تو صرف یہ بات ہو رہی تھی کہ صرف کسی ملٹی نیشنل کمپنی‘ جس کا بنیادی کام بھی معاشیات سے متعلق نہ ہو اور وہ محض مینوفیکچرنگ اور مارکیٹنگ سے متعلقہ کاروبار سے منسلک ہو‘ کا صدر اور چیف ایگزیکٹو آخر ملک کی معیشت کیسے چلا سکتا ہے؟ ملک عزیز پر برا وقت آن پڑا ہے اور ایک کے بعد ایک فارغ قسم کا وزیر خزانہ مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ ڈاکٹر محبوب الحق وزیر خزانہ تھے‘ جو حقیقی معنوں میں ماہر معاشیات تھے۔ اس کے بعد ورلڈ بینک سے فارغ شدہ بینکار اور پرائیویٹ اداروں کے اعلیٰ درجے کے اکائونٹنٹ اور فنانس منیجروں کو وزارت خزانہ سونپی گئی۔ کسی بینکار اور اکائونٹنٹ کو ماہر معاشیات سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی او ایس ڈی یعنی آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی کو واقعتاً کسی بہت اہم اور خفیہ پوسٹ پر متعین شخص سمجھ لیا جائے۔

ویسے اللہ بدگمانی سے بچائے اسد عمر بطور چیف ایگزیکٹو و پریذیڈنٹ اینگرو کارپوریشن بذات خود اینگرو کے لئے بہت بڑا سفید ہاتھی ثابت ہوئے تھے۔ اینگرو کارپوریشن میں تب چھ یا سات کمپنیاں تھیں جن کے علیحدہ علیحدہ چیف ایگزیکٹو بھی تھے اور اسد عمر ان ساری کمپنیوں کے اجتماعی طور پر پریذیڈنٹ تھے۔ ان کمپنیوں میں اینگرو فرٹیلائزر‘ اینگرو فوڈز اور اینگرو فوڈ سپلائی چین وغیرہ شامل تھیں۔ تب چاول کا کاروبار شروع کیا گیا اور مونجی کی قیمتِ خرید کو اس قدر اوپر لے جایا گیا کہ دھان کی قیمتِ خرید بعدازاں فروخت ہونے والے چاول کی قیمت سے زیادہ ثابت ہوئی۔ پاکستان کی ساری رائس انڈسٹری برباد ہو گئی۔ آٹھ سو کے قریب رائس ملز ڈیفالٹ کر گئیں۔ پاکستان ایکسپورٹ مارکیٹ سے آئوٹ ہو گیا اور بھارت نے دنیا بھر میں رائس بزنس پر قبضہ کر لیا۔ ادارے کو اجتماعی بزنس نے بچا لیا ورنہ رائس بزنس نے اس کو ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ بلکہ یہ ''ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘ تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘ والا معاملہ ثابت ہوا۔ اگلے دو سال تک پاکستان کی رائس انڈسٹری اس عظیم جھٹکے سے نہ سنبھل سکی۔

اسد عمر ماشااللہ پڑھے لکھے ہیں۔ سمجھ دار ہیں۔ بات چیت شاندار کر لیتے ہیں۔ مخالفین کی کمزوریاں اچھی طرح پکڑ سکتے ہیں۔ ان کو رگڑا لگا سکتے ہیں۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے پر بطور اپوزیشن رہنما حکومت کے لتے لے سکتے تھے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے پر حکومت پر برس سکتے تھے۔ ایمنسٹی سکیم لانے پر حکومت وقت کی طبیعت صاف کر سکتے تھے۔ آئی ایم ایف سے قرض لینے پر حکومت کی شاندار بے عزتی فرما سکتے تھے۔ مہنگائی ہونے پر حکمرانوں کو جوتے مار سکتے تھے۔ اسحاق ڈار کی طبیعت صاف کر سکتے تھے۔ بالکل اسی طرح جس طرح میں ہاکی کے گرائونڈ کے باہر کھڑے ہو کر میدان میں ہونے والے میچ پر تبصرہ کر سکتا تھا۔ گول کیپر کے نقص بیان کر سکتا تھا۔ فل بیکس کی نالائقی پر روشنی ڈال سکتا تھا۔ ہاف بیکس کی کوتاہیوں پر ان کو لتاڑ سکتا تھا اور لیفٹ و رائٹ ونگرز کی فاش غلطیوں اور سنٹر فارورڈ کی گول کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھا سکتا تھا۔ باوجود اس کے کہ میں سکول میں بالکل اوسط درجے کا اور کالج میں اوسط درجے سے تھوڑے نیچے درجے کا ہاکی کا کھلاڑی تھا۔ اس کے بعد میں نے مایوس ہو کر ہاکی کھیلنا چھوڑ دی‘ کیونکہ اگلے درجوں میں مقابلہ مزید سخت ہو رہا تھا اور مجھے اس درجہ بندی میں مزید تنزلی گوارا نہ تھی۔

دراصل تنقید بڑا آسان کام ہے۔ جیسا کہ میں خود اس وقت کر رہا ہوں۔ خاص طور پر حکومت پر تنقید کرنا تو نہایت ہی آسان کام ہے کہ نقص صرف اسی کے نکالے جا سکتے ہیں جو کچھ کر رہا ہو۔ جو کچھ کر ہی نہ رہا ہو بھلا اس پر کیا تنقید کی جا سکتی ہے؟ ویسے بھی اسد عمر صاحب نے دورانِ وزارت ہر وہ کام کیا جس پر وہ بطور اپوزیشن رہنما ٹیلی ویژن کے پروگرامز میں بھرپور تنقید کر چکے تھے۔ ڈالر کی قیمت بڑھانے‘ پٹرول مہنگا کرنے‘ آئی ایم ایف کے پاس جانے‘ ایمنسٹی سکیم لانے اور بجلی و گیس کے نرخ بڑھانے جیسے معاملات نے ان کی مجموعی کارکردگی‘ جو بلا شبہ بالکل صفر تھی‘ مزید خراب کر دی۔ اسد عمر کو خراب کرنے میں گو کہ سب سے زیادہ ہاتھ خود اسد عمر کا تھا کہ انہوں نے عوام کی توقعات کا لیول بہت بلند کر دیا تھا اور ان کی گفتگو کے متاثرین نے ان سے بہت زیادہ توقعات لگا لی تھی۔ اگر ان کی ٹی وی پر کارکردگی اتنی بہتر نہ ہوتی تو بطور وزیر خزانہ ان کی کارکردگی اس قدر مایوس کن محسوس نہ ہوتی۔
دوسرا معاملہ عثمان بزدار نے خراب کیا ہے۔ اگر صوبے میں لوگوں کو کچھ ہوتا ہوا نظر آتا تو عوام کی توجہ بٹ جاتی اور فوری معاملات میں نظر آنے والی بہتری وزارت خزانہ جیسے دوررس معاملات کو کچھ عرصہ دبائے رکھتی مگر صحت‘ تعلیم‘ عدل و انصاف اور تھانہ کلچر میں وقوع پذیر ہونے والی مزید خرابیوں نے سارا ملبہ صرف اسد عمر پر ڈال دیا۔ اسد عمر کے بعد مزید وزرا بھی تبدیلی کی زد میں آئے ہیں مگر وزارتوں کی تبدیلی وہ ''تبدیلی‘‘ نہیں جس کیلئے لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دیے تھے۔