جو میں نے سیکھا! خورشید ندیم

ہار جیت اور پسند نا پسند سے بلند ہو کر، اس تجربہ سے سیکھنا چاہیے جو 2018ء کے انتخابات میں کیا گیا۔ چند نتائج، میرے نزدیک ظاہر و باہر ہیں:
1۔ سماجی تبدیلی اوپر سے نہیں، نیچے سے آتی ہے۔ عمران خان صاحب کے بارے میں ہم اگر یہ فرض کر لیں کہ وہ ایک نیک سیرت آدمی ہیں‘ جو پوری دیانت سے ملک کو بدلنا چاہتے تھے، تو بھی اس اعتراف کے بغیر چارہ نہیں کہ نا کام ثابت ہوئے۔ اس پر اتفاقِ رائے ہو چکا۔ اختلاف صرف ناکامی کے اسباب میں ہے۔ اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے عمران خان صاحب کو 'سٹیٹس کو‘ کی علامت افراد کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ اس کے بعد، ہمیں اس مؤقف کی تائید میں مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔

بر صغیر میں تبدیلی کی مبسوط کوشش تین گروہوں نے کی: کمیونسٹ پارٹی‘ جماعت اسلامی اور تبلیغی جماعت۔ تینوں نے اولاً سماج کو ہدف بنایا۔ کمیونزم اور جماعت اسلامی چونکہ کسی نہ کسی سیاسی نظریے (Ideology) پر کھڑی تھیں، اس لیے ان کی منزل ایک سیاسی انقلاب تھا؛ تاہم دونوں کو یہ معلوم تھا کہ اس کے لیے پہلا مرحلہ شعوری تبدیلی ہے۔ پھر رویے کی تبدیلی۔ جب تک معاشرہ ذہنی طور پر تبدیلی نہیں ہوتا اور اس کے نظامِ فکر میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آتی، نظامِ سیاست بھی بدل نہیں سکتا۔ کمیونسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی نے پہلا قدم اسی فکری تبدیلی کے لیے اٹھایا۔

جماعت اسلامی نے عجلت کی اور سماجی تبدیلی کو مؤخر کرتے ہوئے، سیاسی تبدیلی کو اپنی کوششوں کا محور بنا لیا۔ اشتراکیوں نے بھی جلدی کی۔ چونکہ ان کے تصورِ انقلاب میں اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں تھی، اس لیے ان کی حکمتِ عملی میں سازش سے حکومت بدلنا یا بُوژوا طبقے کے افراد کو قتل کرنا کوئی معیوب بات نہیں تھی۔ خون بہانا، ان کے خیال میں انقلاب کی بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بھی سازش کا راستہ اپنایا گیا۔ مولانا مودودی اس کے قائل رہے کہ تبدیلی جمہوری طریقے ہی سے آنی چاہیے؛ تاہم ان کے فکر سے استفادہ کرنے والے بعض لوگوں نے حکمتِ عملی کے باب میں ان سے اختلاف کیا اور خون بہانے کو انقلاب کی ناگزیر ضرورت قرار دیا۔ جماعت اسلامی اور کمیونسٹ پارٹی کی کوششیں ناکامی پر منتج ہوئیں۔ نظریاتی تحریکوں کی ناکامی کے اسباب ہمہ جہتی ہیں‘ مگر اس وقت صرف اسی پہلو کو نمایاں کرنا مقصود ہے۔

یورپ اور ترقی یافتہ دنیا میں ہمیں جو سیاسی استحکام دکھائی دیتا ہے، اس کی اساس وہ سماجی تبدیلی ہے جو صدیوں پر محیط اس جدوجہد کا حاصل ہے، جس کا محور سماج کو بنایا گیا۔ اس تبدیلی نے سوچ کے زاویے سے لے کر، اخلاقی نظام تک، ہر شے کو بدل ڈالا۔ آج عمران خان صاحب سمیت بہت سے لوگ وہاں کی مثال دیتے ہیں۔ وہ، لیکن اس پس منظر کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس نے موجودہ سیاسی نظام کی صورت گری کی۔ یہ تبدیلی کسی سیاست دان کی عطا نہیں، ایک سماجی تحریک کا نتیجہ ہے۔ ہمارا بنیادی مسئلہ اخلاقی ہے۔ یہ سیاست کا نہیں، سماج کا موضوع ہے۔ سیاست میں تو صرف مروجہ اخلاقیات کا اطلاق ہوتا ہے۔
2۔ کرپشن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ نہیں۔ ہمارا کیا، کسی بھی معاشرے کا اہم ترین مسئلہ نہیں۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ ایسا ہوتا تو پیغمبر سب سے پہلے اسے موضوع بناتے۔ آج دنیا کی معیشت سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ترتیب دی گئی ہے۔ سادہ لفظوں میں یہ سرمایہ دارانہ اخلاقیات کے تابع ہے۔ اس میں، مثال کے طور پر سود کو بُرا نہیں سمجھا جاتا۔ اب اسے دنیا بھر میں معاشی اخلاقیات کی قدر کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہی معاملہ کرپشن کا بھی ہے جو ایک دائرے میں قابلِ قبول ہے۔ یہ غلط صحیح کا معاملہ نہیں، امرِ واقعہ کا بیان ہے۔

دنیا میں معاشی عمل، جہاں جس رفتار سے جاری ہے، وہاں کرپشن کا حصہ بھی اسی نسبت سے ہے۔ چین کا شمار دنیا کے کرپٹ ترین معاشروں میں ہوتا ہے۔ کمیشن وغیرہ کو چھوڑیے، ایک مارکیٹ میں مصنوعات کی دس بیس اقسام تو عام دستیاب ہیں۔ اصل اور نقل کی پہچان ممکن نہیں۔ یہ کرپشن کی وہ صورت ہے جسے قبول کر لیا گیا ہے۔ دنیا بھر کی مارکیٹس کو ترسیل جاری ہے اور یہ قانونی عمل ہے۔ اسی طرح ترکی ہے۔ ذرا کرپشن کی اس کمیت پر ایک نظر ڈال لیں‘ جس کا الزام طیب اردوان صاحب پر ہے! پاکستان میں کوئی ایک ایسا تاجر نہیں جو انکم ٹیکس کے قوانین کی مکمل پاس داری کرتا ہو۔ یہ عملاً ممکن ہی نہیں۔
اس سے یہ مراد نہیں کہ کرپشن کو گوارا کرنا چاہیے۔ مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ اسلام نے اپنے پہلے دور میں سود اور غلامی کو گوارا کیا۔ وجہ یہ تھی کہ معاشی نظام جن اساسات پر کھڑا تھا، یہ ان میں شامل تھے۔ ہمارے ہاں سود کے معاملے میں معاشرے کو حساس نہیں بنایا گیا‘ مگر کرپشن کے بارے میں بنا دیا گیا۔ اس کی وجہ 'اقتدار کی سیاست‘ ہے۔

موجودہ حکومت نے جب کرپشن کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھ کر اس سے نمٹنا چاہا تو معیشت میں بھونچال آ گیا۔ اس نے نظام کو منجمد ہی نہیں، مفلوج بھی کر کے رکھ دیا۔ سرمایہ خوف میں مبتلا ہو کر پناہ گاہوں میں چلا گیا۔ چند ماہ میں ہی حکومت کو اندازہ ہو گیا کہ یہ سب سے بڑی غلطی تھی۔ ایمنسٹی سکیم کیا ہے؟ یہ اعتراف ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دارانہ اخلاقیات ہی چل سکتی ہیں۔
اس نظام میں جو اصلاح کی جا سکتی ہے، وہ اس نظامِ اخلاقیات کے تابع رہ کر ہی کی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں اس ضمن میں بھی کرنے کا بہت کام ہے۔ جیسے ٹیکس کی اساس کو بڑھانا یا تجارت کے لیے سرکاری مراحل کو شفاف بنانا۔ اس کے لیے ایک بالکل مختلف حکمتِ عملی کی ضرورت ہو گی۔ ہر میدان کے لیے عقلِ عام (common sense) بنیاد کا کام کرتی ہے۔ جو ماہر اس پر اپنے تخصص کی عمارت کھڑی کرتا ہے، وہی بہتر پالیسی بنا سکتا ہے۔ معیشت کے لیے یہ بات بطورِ خاص توجہ طلب ہے۔

3۔ جمہوریت ایک ارتقائی نظام ہے۔ اس کو فطری انداز میں چلنا چاہیے۔ اس کے ثمرات، اسی طرح سامنے آئیں گے۔ جمہوریت کسی ایک طبقے کی بصیرت پر اعتماد کا نام نہیں ہے۔ یہ اسی وقت کامیاب ہوتی ہے‘ جب اجتماعی بصیرت بروئے کار آتی ہے۔ اگر اقتدار فردِ واحد کو دے دیا جائے تو آمریت جنم لیتی ہے۔ اس لیے کسی ایک طبقے کا یہ استحقاق، کم از کم جمہوریت میں قابلِ قبول نہیں کہ بنیادی فیصلوں کا اختیار اس کے پاس ہو‘ اور منتخب لوگوں سے صرف انگوٹھا لگوا لیا جائے۔ مثال کے طور پر ایران میں پارلیمان تو ہے مگر وہ ایک شورائے نگہبان کے تابع ہے جو غیر منتخب علما کا ادارہ ہے۔ جمہوریت اس طرح نتائج نہیں دے سکتی۔

جمہوریت کا اپنا احتسابی نظام ہے۔ اس میں عوام کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ دیتے ہیں۔ اسے کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اس ملک میں جن لوگوںکا طوطی بولتا تھا، دو تین مسلسل انتخابات نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ چند ایک جو باقی ہیں، تحریکِ انصاف ان کو اگر کندھا نہ دیتی تو وہ بھی قصۂ پارینہ ہوتے۔ پارلیمانی جمہوریت پر قوم کو اتفاق ہے۔ اس باب میں نئی بحثیں اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے اور اسے بہتر بنانے کیلئے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ پارلیمان میں ہی تجاویز سامنے لائیں۔
4۔ سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال تباہ کن ہے۔ سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو اس باب میں یکسو ہونا ہو گا۔ چند حقیر وقتی فائدوں کے لیے مذہب استعمال ہوتا ہے لیکن معاشرہ اور مذہب، دونوں کو برسوں اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔

مذہب خیر کی ایک قوت ہے۔ یہ آخرت میں جواب دہی کا احساس ہے۔ یہ تزکیۂ نفس کا پیغام ہے۔ جب لوگ اسے دنیاوی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں تو معاشرے پر اس کے بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل انتہا پسند اور تشدد پسند تنظیموں کو جنم دیتا ہے۔ فیض آباد دھرنا مقدمے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہم سب کیلئے چشم کشا ہے۔
2018ء میں ہم نے جو کچھ کیا، اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ہمیں ان کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہم نے خیالات اور افراد کے کچھ بت تراشے۔ ان سے جو فیض رسانی ہوئی، ہمارے سامنے ہے۔ یہ ہم نے طے کرنا ہے کہ ان کی پرستش جاری رکھنی ہے یا توبہ کرنی ہے۔ دونوں دروازے کھلے ہیں۔