اور طرح کا شاعر- ھارون الرشید

یہ ایک اور طرح کا نخلستان ہے۔ گلگشت کے لیے فرصت چاہیے۔ تاروں بھرے آسمان تلے نئے ملبوس پہنتی اور نئے تیوروں میں جلوہ گر ہوتی حیات۔با اندازِ دگر خود اپنی آنکھ سے سب جہات میں جھانکتا‘ وہ ایک اور طرح کا مسافر ہے۔
اظہار الحق کی شاعری حیرت میں مبتلا کرتی ہے۔ اس کی زبان‘ لہجہ اور لفظیات الگ ہیں۔ اس لیے بھی کہ ہمارے اجتماعی لاشعور کی بازگشت اس میں اجاگر ہے۔

منور ماضی کی یادیں اور ان سے پھوٹتی اُداسی‘ ایک گداز‘ رچاؤ اور درد۔ انس اور الفت جو زوال آشنااُمت کے شاعر کی روح میں رس گھولتی اور تڑپاتی ہے۔ ایک ساتھ سارے ادوار اس کے مصرعوں میں جھومتے‘ جاگتے اور روزِ ازل کے پیمان کی یاد دلاتے ہیں۔
عربی‘ فارسی‘ اردواور انگریزی پر دسترس۔ دینیات‘ تصوف‘ گم شدہ ادوار کی معرفت‘ اپنی ثقافت اور تہذیب سے والہانہ محبت۔دُور دراز سر زمینوں کے سفر نے اُس کی شاعر ی میں ایک عجیب پر اسراریت پیدا کر دی ہے۔

نے عقل کی وادی سے نہ تقدیر سے پہنچا
اس اوج پہ میں اسم کی تاثیر سے پہنچا
پہرا تھا کڑا شہر کے دروازوں پہ جس وقت
پیغام عدو کو مرے اک تیر سے پہنچا
شہتوت کا رس تھا نہ غزالوں کے پرے تھے
اس بار بھی میں جشن میں تاخیر سے پہنچا
............
کیا رات تھی بدلے گئے جب نام ہمارے
پھر صبح کو خیمے تھے نہ خدام ہمارے
............
ہمارا نام بھی بارہ دری پر نقش کرنا
یہ ساری جالیاں ہم نے نگاہوں سے بنی ہیں
............
ایک دنیا ہے جو دیکھی نہیں سورج تو نے
آ کسی روز مگر یوں کہ اندھیرا ہو لے
............
گیا جب لوٹ کر گھوڑا سوار اس پر نہیں تھا
محبت عاشقوں کو رفتہ رفتہ کھو رہی تھی
............
اور اب میرا بیٹا اسے ڈھونڈنے گھر سے نکلا ہوا ہے
کہانی میں اظہارؔ ابھی تک اڑن طشتری اڑ رہی ہے
............
مری آنکھوں پہ بھی زرتار پردے جھولتے تھے
ترے بالوں میں بھی کچھ ان دنوں ریشم بہت تھا
مزے سارے تماشاگاہ دنیا میں اٹھائے
مگر اک بات جو دل میں تھی جس کا غم بہت تھا
............
تیغ کی دھار میں الحمرا موتی کی آب میں الحمرا
اک محراب میں سورج تھا اور اک محراب میں الحمرا
............
بریدہ گیسوؤں میں آنکھ کا رستہ نہیں تھا
وہ چہرہ خوبصورت تھا مگر دیکھا نہیں تھا
میں جب ساحل پہ اترا خلق میری منتظر تھی
کئی دن ہو گئے تھے بادشہ ملتا نہیں تھا
بلاتے تھے ہمیں انجیر اور زیتون کے پھل
مگر وادی میں جانے کا کوئی رستہ نہیں تھا
............
بنی ہوئی ہیں کنار دریا پہ خواب گاہیں
کھلے ہوئے ہیں وصال کے در سفر کی جانب
یہ سنگ مرمر‘ یہ شاخ انگور‘ یہ کنیزیں
مگر کوئی کھینچتا ہے مٹی کے گھر کی
............
کوئی زلف اڑے تو بکھر جانا‘ کوئی لب دہکیں تو ٹھٹھر جانا
کیا تزکیہ کرتے ہو دل کا یہ آئنہ صاف نہیں ہوتا
کئی موسم مجھ پر گزر گئے احرام کے ان دو کپڑوں میں
کبھی پتھر چوم نہیں سکتا کبھی اذن طواف نہیں ہوتا
............
کھلا ہمیشہ مصیبت میں اک نہ اک در غیب
یہ اسم کچھ مرے ورد زبان کیسے ہیں
وفا کے دھیان سے دل ڈوب ڈوب جاتا ہے
ہزار سالہ عبادت ہو رائگاں جیسے
غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے
............
یہ ریشم یہ لباس حکمرانی جل اٹھے گا
وہ ظلمت ہے کہ اب اک روز پانی جل اٹھے گا
............
پس وفات یہ بے دستخط مری تحریر
نہیں ہے اور کوئی بھی نشاں مرے پیچھے
مرے ملازم و خرگاہ اسپ اور شطرنج
سب آئیں نظم سے ماتم کناں مرے پیچھے
............
بہت ترتیب سے سارے جہاں گرنے لگے ہیں
کہ ہفت اقلیم پر ہفت آسماں گرنے لگے ہیں
............
سفید ریشم کی اوڑھنی میرے ہاتھ میں تھی
مگر اسے داغدار میں نے نہیں کیا تھا
سموں تلے روند دے خوشی سے مگر یہ سن لے
گناہ اے شہسوار! میں نے نہیں کیا تھا
غروب کا وقت تھا مقرر سو چل پڑا میں
کسی کا پھر انتظار میں نے نہیں کیا تھا
............
زمیں ہم شہسواروں کے لیے ہے تنگ اظہارؔ
جبینوں پر ستارے رائگاں روشن ہوئے ہیں
............
یہ اہلِ ثروت تھے غیب کو مانتے نہیں تھے
عذاب سے پیشتر انہیں اونٹنی ملی تھی
............
یہ مانا جسم مٹی کے جہانوں میں بنے ہیں
مگر رخسار و لب کن کارخانوں میں بنے ہیں
جدا کرتے ہیں مجھ کو آسماں سے اور ماں سے
یہ کیسے سلسلے گندم کے دانوں میں بنے ہیں
............
بھرے ہوں گے شراب و شہد سے مٹی کے برتن
پس دیوار امکاں تو مرا مہماں رہے گا
............
ملی ہے اس لیے خلعت کہ میں نے زیر عبا
چلا تھا گھر سے تو شمشیر بھی پہن لی تھی
............
حروف کشف کے ہیں اور ظروف مٹی کے
اجڑ سکی نہ کسی سے یہ خانقاہ مری
............
فرشتے لے چلے سوئے حرم تابوت مرا
کفِ افسوس ملتے رہ گئے بدخواہ مرے
............
سر شام کیسا نظارہ تھا مرے باغ میں
ترے ساتھ ایک ستارہ تھا مرے باغ میں
ترا بے کنار بہشت جانے کہاں پہ تھا
مگر اس کا ایک کنارا تھا مرے باغ میں
............
مرے ہاتھ میں کوئی شے نہ تھی جسے بیچتا
مگر آہ! میرا دماغ تھا مرے ہاتھ میں
............
یہ جو خاک ہے مرے گاؤں کی مرا خون تھا
مرے خون میں اسی خار و خس کا خمار تھا
............
جدائی کے ستر برس تھے ہزاروں برس پر محیط
بخارا کی مٹی گلے سے لگا کر بہت روئی تھی
یہ ایک اور طرح کا نخلستان ہے۔ گلگشت کے لیے فرصت چاہیے۔ تاروں بھرے آسمان تلے نئے ملبوس پہنتی اور نئے تیوروں میں جلوہ گر ہوتی حیات۔با اندازِ دگر خود اپنی آنکھ سے سب جہات میں جھانکتا‘ وہ ایک اور طرح کا مسافر ہے۔