بندوق کے سایہ میں پولیو مہم ، ایک ذاتی مشاہدہ - فضل ہادی حسن

پولیو کے خلاف پروپیگنڈا مہم اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی جو دانستہ کوشش کی گئی وہ انتہائی افسوسناک ہے، لیکن شکیل آفریدی کے ذریعہ سی آئی اے کی جعلی مہم سے قطع نظر، اس کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا ریاست پولیو کو متنازعہ بنانے میں برابر کا قصور وار ہے یا نہیں؟

میرے دو بچوں کی پیدائش ناروے میں ہوئی ہے، پیدائش کے فوری بعد نرس نے ایک انجکشن لگانے سے پہلے اجازت (یہ عموما ہر معاملہ میں پوچھا جاتا ہے) اور پھر اس کی مختصر تفصیل بتائی تاکہ والدین کو اطمینان ہو۔ پیدائش کے چند ہفتے بعد بچے کو ایک بار پولیو کے قطرے اور پھر پولیو سے بچاؤ کے مزید سلسلہ وار انجکشن۔ 2016 میں پاکستان آنے سے پہلے شعبہ بنیادی صحت اطفال نے پاکستان جانے سے پہلے چند حفاظتی ٹیکوں (سفری ٹیکہ) کا بتایا، میں نے ان سے پوچھا کہ پاکستان میں بچوں کو پولیو کے قطرے دیئے جاتے ہیں نیز اس وقت ڈبیلو ایچ او WHO کیوجہ ائیرپورٹ پر سرٹیفیکیٹ طلب کرنے کا مسئلہ ہوتا ہے اس لئے اگر آپ مجھے اس بارے کوئی تحریری نوٹ دے سکے۔ اگر چہ ان کے پاس کوئی اسٹینڈرڈ نمونہ تو نہیں تھا لیکن چند سطریں لکھ کر مہر لگایا اور کہا "قطروں سے انجکٹیڈ زیادہ پاور پل علاج ہوتا ہے اس وقت ناروے میں یہی ہوتا ہے البتہ چند ممالک میں ابھی بھی قطرے پلائی جاتے ہیں۔"
اس تمہید کی ضرورت اس لئے پڑی کہ جب ہم گاؤں پہنچے تب چند دن بعد پولیو مہم تھی، پولیوٹیم ہمارے گھر پہنچی میرے بھانجے اور بھانجیوں کو قطرے پلائے گئے میرے بچوں کے بارے میں میری بیگم نے بتایا کہ انہیں انجکشن کورس پورا ہوچکا ہے اس لئے اس کی ضرورت نہیں۔

یہ سننا تھا کہ ٹیم میں شامل لڑکی نے کہا ڈاکٹر ( ڈاکٹر کا مطلب سمجھ چکے ہونگے ) ہم ہیں اور باتیں عام لوگ کر رہے ہیں ، ان کی گفتگو ایسی تھی جیسے وہ کوئی 17، 18 گریڈ آفیسر ہو، بیٹھک میں بیٹھے اپنے ساتھی اور پولیس اہلکار کو فوری اطلاع دی کہ بچوں کو قطرے نہیں پلائے جارہے ہیں، ٹیم لیڈر مقامی مرکز برائے ٹیکہ جات کا ملازم تھا، میں نےجب بات رکھی تو وہ مجھے ویکسین اور انجیکشن میں فرق اور صفات بتانے لگا ، نیز ان کی گفتگو سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ فوج کا حاضر سروس میجر یا کیپٹن۔ تب مجھے لگا کہ یہ دلیل کی زبان نہیں سمجھ رہا اس لئے ناروے کی سرٹیفکیٹ دکھانے کی ضرورت ہی نہ پڑی البتہ ان کی گفتگو سے مجھے یہ احساس ضرور ہوا کہ پولیو ٹیم کو پیشہ ورانہ تربیت دینے کی بجائے ان کو ذہنی طور پر عسکری ٹرین کرنے (اس سوچ سے پولیو ٹیموں کی جرات اتنی بڑھی ہے کہ ہم واپس اوسلو پہنچ چکے تھے اور یہی ٹیم اگلی دفعہ جب ہمارے گھر آئی تو میرے بچوں کے بارے میں پوچھ رہی تھی کہ انہیں کہاں چھپائے رکھے ہیں) پر توجہ دیا گیاہے، تاکہ "بندوق کے سایہ" میں لوگوں کو حکم اور قانونی دھمکیوں سے مرغوب کیا جاسکے۔ یہ میڈیکل سائنسز سے تعلق رکھنے والے دوست ہی بتا سکتے ہیں کہ پولیو ویکسین کو مطلوب سینٹی گریڈ فراہم نہ کرنے سے اس کے کیا کیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی حاجیوں کی مشکلات - وسیم یوسف

نیز بچوں کو قطرے پلانے کے وقت احتیاطی تدابیر (پروفیشنل ٹریننگ) جتنا اہم اور ضروری ہوتا ہے اتنا غیر ضروری اور غیر روایتی ٹریننگ کی ضرورت کیوں؟۔ پولیو ویکسین کیسے خطرناک بن سکتے ہیں، نیز ایک دوائی کبھی فوراً اپنا اثر دکھاتی ہے اور کبھی بالکل بے اثر اور بے فائدہ محسوس ہوتی ہے، بلکہ بعض صورتوں میں یہ ہمارے لیے مضر صحت بھی بن جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس بارے ڈاکٹرز اور فارماسوٹیکل والے دوست بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں البتہ اس موضوع پر حال ہی میں ایک پاکستانی طالبعلم نے پی ایچ ڈی (کیمسٹری) کی ڈگری لی ہے کہ مناسب اور مطلوب درجہ حرارت کا خیال نہ رکھنے کا دوائی پر کیا اثر ہوتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی شہری کو پولیو کے قطرے پلانے یا نہ پلانے کے لئے کسی عالم یا امام مسجد کے پاس نہیں جانا چاہیے، یہ قرآن و سنت یا فقہ کا سوال نہیں۔ اسی طرح پاکستان حکومت، صحت کو صحت ہی رہنے دیں اسے 'بندوق کے سایہ' سے نکالنے کے لئے اعتماد سازی کے فوری اقدامات اٹھانے ہونگے، تاکہ سیکورٹی اور بندوق کی ضرورت باقی نہ رہے۔ بلاشبہ افواہ اور پروپیگنڈے نظر انداز نہیں کئے جاسکتے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کا جواب بھی پروپیگنڈا سے ہی دینا چاہیے ، معاشرے کا ہر شبعہ (بشمول صحافت و مساجد) اور اس سے تعلق رکھنے والا فرد اس میں اپنا حصہ اور کردار ادا کرے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پولیو کے بارے بھرپور عوامی آگہی اوراس بارے مثبت رویہ سے ہی "پولیو فری پاکستان " کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے نہ کہ بندوق کے خوف یا علماء کے فتووں سے۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.