الیکشن کے آخری دن ‘آخری حربے؟ نذیر ناجی

آج میں بھارت کے قلمکار رشید انصاری کا ایک تجزیہ پیش کر رہا ہوں‘ جس میں مودی کے جتھے کی دھاندلیاں بتائی گئی ہیں۔بھارت کے ایک مسلمان قلمکار رشید انصاری نے خوف و خطر کی پروا نہ کرتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو سکا ‘سچائی ظاہر کر دی ۔ان کا مضمون پیش خدمت ہے: ''بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے چرچے زوروشور سے جاری ہیں۔مختلف سیاسی جماعتیں اور ان کے امیدوار انتخابی میدان میں سرگرم عمل ہیں‘لیکن انتخابات کا مقصدصرف یہ نظر آتا ہے کہ بی جے پی کو ہارنا یا جیتنا ہے۔اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ نریندر مودی کو دوبارہ وزیراعظم بنانے اور بننے سے روکنے کے لیے سیاسی جماعتوں نے دو محاذ چھیڑے ہوئے ہیں۔برسراقتدار ہونے کے سبب بی جے پی کا محاذ زیادہ بڑا اور طاقتور دکھائی دیتا ہے۔بڑے افسوس کی بات ہے ‘بھاجپا (بی جے پی )مخالف جماعتیں ملک بھر میں ''مہا گٹھ بندھن‘‘ بنا نے میں ناکام رہی ہیں‘ بھاجپا مخالف جماعتوں کی انا ‘خود پرستی اور خوش فہمیاں بڑھ چکی ہیں‘کانگریس کی اناپرستی اور دوسری جماعتوں سے خو دکو برتر سمجھنے کا عنصر پروان چڑھا ہے۔ پنجاب ‘ہریانہ‘ بلکہ دہلی میں بھی کیجروال کی عام پارٹی سے اتحاد کرنے کا انکار کر رہے ہیں۔

الیکشن کے تمام معاملات میں ملک کا 90فیصد میڈیاخاص طور پر الیکٹرانک میڈیابھاجپا کا بھونپو بنے ہوئے ہیں‘اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا الیکشن کمیشن‘ جسے انتہائی غیر جانبدار اور بے باک ہونا چاہیے‘ وہ مودی اور بھاجپا کے زیر اثر کام کرتا دکھائی دیتا ہے‘جس کی بہترین مثال یہ ہے کہ بھارتی مسلح افواج (جو کسی بھی ملک کی محافظ ہی نہیں‘ بلکہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے) کو یوپی کے وزیراعلیٰ (جو نا صرف اپنے عمل‘ بلکہ اپنے حلیے‘وضع قطع اور لباس سے ہی وزیراعلیٰ یا سیاست دان سے زیادہ کٹر ہندو توا دی مہنت نظر آتے ہیں )یعنی ادیتا ناتھ نے اپنی فوج کو مخاطب ہو کر کہا کہ یہ ''مودی سینا ہے‘‘جس سے دوسری پارٹیوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا کہ وہ کیسے ملکی ادارے کو ایک سیاسی پارٹی کے رہنما کے ساتھ کیسے جوڑ سکتے ہیں‘بی جے پی سے تو خیر اس بات کی امید نہ تھی کہ و ہ اس بیان پر ایکشن لیتی‘ تاہم الیکشن کمیشن سے عوام اور پارٹیاں امید لگائے بیٹھی تھیں کہ وہ اس بیان پر نا صرف ایکشن لے گا ‘ بلکہ وزیراعلی کو سخت سزا بھی سنائے گا۔ 2014ء کے انتخابات میں یو پی کے شعلہ بیاں مسلم قائد اعظم خان کو انتخابی پروپیگنڈے میں کسی بے ضابطگی کرنے کے سلسلے میں کئی دن تک انتخابی تشہیر سے منع کر دیا گیا تھا‘جس کا فائدہ بھاجپا نے اٹھایا‘ لیکن موجودہ الیکشن کمیشن ایسے معاملات میںصرف ایک سرزنش یا وارننگ کو کافی سمجھتا ہے۔

2014ء کے انتخابات میں نریندر مودی نے اپنے انتخابی حلقے میں ایک پولنگ بوتھ کے قریب ہاتھ میں اپنی جماعت کا انتخابی نشان‘ یعنی کنول (پھول) لے کر انتخابی تشہیر کرکے ضابطہ اخلاق کی شدید خلاف ورزی کی تھی‘ جس کی با ضابطہ شکایت بھی گئی‘ لیکن اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے کچھ نہیں کیا ‘اسی طرح نریندر مودی نے 2019ء کے انتخابات کے لیے بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انتخابات میں مذہب ‘ذات پات کے نام پر فرقہ پرستی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے‘ لیکن نریندر مودی ہندومسلم مسائل کو راست نہ سہی بالراست پیش کرکے اپنی فرقہ پرستی کا ثبوت دیتے رہے ہیں‘گزشتہ سال یو پی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مودی نے قبرستان اورشمشان ‘نیز عید اور دیوالی کا ذکر کرتے ہوئے تفرقہ پھیلایا ‘علی الاعلان فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا گیا۔پاکستان میں بالا کوٹ پرحملہ اور اس سلسلے میں بھاجپائی قائدین اور بھاجپا کے زیر اثر میڈیا کے بیانات میں اس قدر تضاد پایا گیا کہ مخالف جماعتوں کو بالا کوٹ پر کیے گئے حملے کے مبالغہ آمیز دعوؤں کا ثبوت مانگنا پڑا۔اور ثبوت کیوں کر نہ مانگتے‘ کیونکہ من گھڑت کہانی کا سرے سے کوئی سر پیر ہی نہیں ‘سوائے پوائنٹ سکورنگ کے ‘ کوئی ثبوت بھارتی افواج کے پاس موجود نہیں ۔ بجائے ثبوت دینے کے وزیراعظم نریندر مودی نے ثبوت مانگنے والوں کو ہی غدار قرار دیا۔

نریندر مودی کی انتخابی تقاریر میں مخالف جماعتوں کی خاص طور پرکانگریس‘سونیا گاندھی‘ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کاذکر انتہائی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے ۔نا صرف نریندر مودی ‘بلکہ بھاجپا کے دیگر قائدین بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مخالف جماعتوں کی توہین کرتے دکھائی دئیے‘لیکن مندرجہ بالا تمام باتوں کو نا صرف میڈیا نے اچھالا‘ بلکہ الیکشن کمیشن نے چپ سادھ رکھی ہے۔بھارتی عوام میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بھارتی میڈیا ‘بی جے پی کا خرید کردہ یا تابعدار ہے‘ لیکن الیکشن کمیشن آزاداور خود مختار ادارہ ہے‘ جس پر انتخابات سے تعلق رکھنے والی ہر چیز پر نظر رکھنا اولین فرض ہے‘مگر وہ اپنے فرائض سے منہ موڑے دکھائی دیا۔2019ئمیں الیکشن کی نگرانی کرنے والا الیکشن کمیشن مکمل طور پر جانبدار ہے‘بی جے پی کی ہر جائز اور نا جائز بات پر خاموش ہے‘نریندر مودی کی اشتعال انگیز تقاریراور حزب مخالف جماعتوں کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقاریر پر اعتراض کرنے کی الیکشن کمیشن کیسے ہمت کر سکتا ہے ؟

اہم بات یہ بھی ہے کہ انتخابی قواعدکے مطابق رائے دہی کے آغازسے تقریباً40 گھنٹے قبل ہر قسم کی انتخابی تشہیر کوروک دینا چاہیے ‘لیکن بھارتی الیکٹرانک میڈیا مودی کی ہر تقریر کو براہ راست دکھاتے ہیں ۔جب تلنگا نہ اور آندھرامیں رائے دہی سے قبل اور ووٹنگ کے دن انتخابی تشہیر ممنوع تھی ‘دوسرے مقامات پر کی جانے والی تقاریر کو براہ راست دکھایا گیا۔ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ ملک بھر میں رائے دہی کے دن‘ مختلف جماعتوں کی ریلیوں ‘جلسوں اور تقاریر کی نشرواشاعت کو بند کر دینا یا صرف مقامی حد تک محدود کیا جا سکتا تھا‘تاکہ جن علاقوں میں انتخابی تشہیر پر پابندی ہو وہاں ٹیلی ویژن کے ذریعے کسی بھی جماعت کی انتخابی تشہیر اور قائدین کی تقاریر نہ پہنچ سکیں۔ الیکشن کمیشن پر یہ اعتراض بارہا کیا جا چکا کہ وہ ان اعتراضات پر کوئی توجہ نہیں دیتا‘جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی جانب داری واضح ہوتی ہے‘بھاجپا اوراس کے اتحادی اس بات کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔دیگر جماعتوں کی بھی یہ کمزوری ہے‘ وہ بھاجپا کے اس رویے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور اپنا کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں کرواتی‘جس کا ہر طرح سے باقاعدہ فائدہ بھاجپا اٹھاتی ہے۔‘‘