آوازدوقانون کو،قانون کہاں ہے؟ - مولانامحمدجہان یعقوب

جب سے خان کی حکومت آئی ہے ، جب بھی کالم لکھنے کا ارادہ کرتا ہوں ، قلم اوراعصاب جواب دے جاتے ہیں ، کہ لکھوں توکیا لکھوں ؟ جہاں سب کچھ ہی غلط ہو ، وہاں تعمیری تنقید بندہ کرے تو کیسے کرے۔۔۔۔اسی مخمصے میں کالم نگاری کوتقریباً الوداع کہہ چکا ہوں ۔ اصلاحی و عملی تحریریں ہی اب نوک قلم سے نکلتی اوراخبارات ورسائل کی زینت بنتی ہیں ، کہ قلم کا قرض بہرحال چکانا تو ہے۔۔۔!

پچھلے چنددن میں ہونے والے واقعات۔۔۔بلوچستان کی سرزمین پرموت کا ننگا ناچ ، کراچی میں دانت کے علاج کے لیے جانے والی عفت مآب بیٹی عصمت کا زیادتی کے بعد درناک طریقے سے قتل۔۔۔کلیجامنہ کو آتا ہے ، کہ قائد و اقبال کے دیس میں یہ کیا ہو رہا ہے ؟ اب پشاورمیں سیکڑوں بچوں کا پولیو قطروں سے بے ہوش ہو جانا ، درجن بھر بچوں کا جان کی بازی ہار جانا۔۔۔ادھرکراچی میں ننھی نشوا کی نام نہاد مسیحاؤں کے ہاتھوں موت اوراس کے لاچار والدکی فلک شگاف چیخیں ، والدہ کے نالے، بہن بھائیوں کی معصوم فریادیں۔۔۔دوسری طرف مجازاداروں کی سنگ دلی اورافسران کی دل خراش باتیں ۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا ، کہ یہ کیاچل رہاہے۔ جن ہسپتالوں میں انسان زندگی کی امید لے کر جاتا ہے ، وہاں سے بھی غریبوں اور بے سہاروں کے لیے موت کے پروانے بانٹے جائیں ، تو پھر کون سی جائے پناہ رہ جاتی ہے۔عصمت کے واقعے کے بعداب کون باپ بھائی اپنی بہن کوعلاج معالجے کے لیے ہسپتال لے جانے کی ہمت کرے گا۔
ہائے! مسیحائی کے عظیم پیشے سے وابستہ لوگ بھی درندے بن جائیں ، تو درد کا درماں کون کرے ؟ غلط انجیکشن سے کسی کی لخت جگرکی موت ہوگئی ، اس کی تودنیا اجڑگئی ، لیکن کوئی ہلچل نظر نہیں آتی ، وہ دہائیاں دے رہا ہے، کہ روکو اس سلسلے کو ، ورنہ کل کلاں کسی اورکی بیٹی کا بھی یہی حشر ہو سکتا ہے۔

مگرکون ہے جو کان دھرے ، کس کے پاس وقت ہے کہ غریب باپ سے اس کا درد بانٹے ۔ غریب ماں کے دل پر پھاہا اور مرہم رکھے ۔ اگر یہی کچھ کسی افسرکی بچی کے ساتھ ہوتا ، توآج قانون بھی حرکت میں آجاتا ، قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے مجازادارے بھی اپنی ذمے داریاں اداکرتے نظرآتے ۔ کیاپیساہی سب کچھ ہے ؟ انسانیت کی کوئی اہمیت نہیں ؟ کیاغریب کاخون کوئی اہمیت نہیں رکھتا،اس کی جان کوئی قیمت نہیں رکھتی ؟ بچے توسانجھے ہوتے ہیں ۔ ہائے رے ! خودغرضی!
پولیوکے قطرے شروع دن سے متنازع رہے ہیں ۔اس کے نقصانات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں ۔ جووالدین اپنے بچوں کوپولیوکے قطرے پلانے سے انکارکرتے ہیں ، انھیں بزور و جبراس کے لیے مجبورکیا جاتا ہے ۔ نعرہ یہ ہے کہ ہم پاکستان کو پولیو فری کنٹری بنانا چاہتے ہیں ۔اگرہمارے ملک سے یہ وبا ختم نہ ہوئی ، تو ترقی یافتہ دنیا ہم پر سفری پابندیاں عائد کر دے گی ۔ آپ کی ہرمنطق تسلیم ، ہردلیل سرآنکھوں پر ، لیکن آرمی پبلک اسکول سے بڑا یہ جو واقعہ پشاور میں ہوا ہے، جس یکے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے ۔سیکڑوں بچوں کی حالت غیر ہے۔درجن بھرانتقال بھی کر چکے ۔اس کا پولیو فری پاکستان کے ایجنڈے سے کیا تعلق ہے ؟ کہیں پولیو کے خاتمے کے نام پر غیور پٹھانوں کی نسل کشی تو نہیں کی جارہی ؟ اس کا نوٹس کون لے گا ؟

یہ بھی پڑھیں:   راولپنڈی میں 45 لڑکیوں سے زیادتی کے الزام میں میاں بیوی پکڑے گئے

اگر پولیو کے قطرے نہ پلانا جرم ہے، تو قطرے پلانے کے نام پراتنی بڑی تعداد میں پھول جیسے بچوں کی جانوں سے کھیلنا کس زمرے میں آتا ہے؟حد یہ ہے کہ اپنے بچوں کی اس کیفیت کودیکھ کرشدت جذبات میں توڑپھوڑکرنے والے غم زدہ والدین کومشتعل ہجوم قراردیا جا رہا ہے۔ نوازشریف اورفوج کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں امن کی ہوائیں چلنے لگی تھیں ۔ وہاں کے باسیوں نے سکون کاسانس لیا تھا۔ آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے وہاں کے باشندوں کو ان کے غصب شدہ حقوق لوٹانے کی ابتداہوچلی تھی۔بھارت اورایران کے پے رول پر کام کرنے والی شدت پسند تنظیموں کے کارندے بِلوں میں چھپنے لگے تھے۔ وہ بلوچستان اب پھر بارود کے دہانے پرہے۔دوواقعات میں درجنوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دشمن نے وہاں ایک بار پھر نفرت کو ہوا دینے کے لیے صوبائیت وفرقہ واریت کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کی ہے ۔اس سے قبل کراچی میں شیخ الاسلام مولانامفتی محمد تقی عثمانی پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں بھی ایران کا کردارسامنے آچکا ہے ۔ایسے میں ایک شہری یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ کہاں ہیں ادارے؟ کہاں ہے قانون ؟ ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ ان عناصرکو جو بھارت وایران کے اشارے پرملک میں خون خرابا کرتے ہیں،

نکیل نہ ڈالی گئی،تویہ نہ صرف بلوچستان جیسے پرامن صوبے کو، بلکہ خاکم بدہن پورے ملک کوایک بار پھر خاک وخون کی دلدل میں دھکیل دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب ہم سایہ ملک ایران کے دورے پر ہیں۔المیہ یہ ہے کہ اس دورے میں وہ ان تمام وزرا کوساتھ لے کرگئے ہیں جن پرماضی میں ایرانی مفادات کے لیے کام کرنے کے الزامات لگ چکے ہیں ۔اس بات کی توقع محض خوش فہمی ہوگی کہ عمران خان ایران سے اس دراندازی کی کوئی ٹھوس شکایت کریں گے ، اوراس کی روک تھام کے سلسلے میں ان سے کوئی اقدام کرا سکیں گے ۔ مگروزیراعظم کوجلد یا بدیر یہ کڑواگھونٹ پینا ہوگا ۔ بھارت کی طرح ایران کی دراندازی کے خلاف بھی مقتدراداروں اورتمام اسٹیک ہولڈرزکوایک پیج پرآناہوگا ۔ ورنہ ہماری اس ارادی چشم پوشی سے ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کومزیدشہہ ملے گی، جوموجودہ عالمی منظرنامے میں نیک شگون کسی طوربھی نہیں ۔ آمدم برسرمطلب!اس وقت ملک میں کہیں بھی گڈگورننس تو دور کی بات، سرے سے گورنمنٹ ہی نظر نہیں آرہی ۔ قانون کے رکھوالے بھی جس کردارکے لیے معروف ہیں ، وہ ادانہیں کر رہے، یااس سے قاصر ہیں ۔ عوام کی کمرتوگرانی نے توڑ کررکھ دی ہے، لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ ملک سے غربت کے بجائے غریب کے خاتمے کے لان پرخاموشی سے عمل شروع کریدا گیا ہے .

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.