اتوار سے اتوار تک (2) خالد مسعود خان

زندگی میں پہلی بار برطانیہ جانے کا اتفاق 1999ء میں ہوا۔ برادرِ عزیز طارق حسن تب ریڈنگ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ ایک دن اتوار کو صبح سویرے اتوار بازار (وہاں بہرحال یہ اتوار بازار نہیں کہلاتا) میں خریداری کے لئے جانے کا اتفاق ہوا۔ سڑکیں سنسان تھیں اور ایک سڑک کے عین درمیان بھورے رنگ کا جنگلی خرگوش استراحت فرما رہا تھا۔ گاڑی کے آنے پر کافی بیزار ہوا اور پھدک کر سڑک کے کنارے لگی گھاس میں غائب ہو گیا۔ راستے میں چار چھ اور خرگوشوں پر بھی نظر پڑی۔ یہ جنگلی خرگوش تھے اور سڑک کنارے مٹر گشت کر رہے تھے۔ انہیں کسی شکاری کا‘ کسی بندوق بردار کا خوف نہیں تھا۔

واپسی پر میں اور طارق حسن یونیورسٹی کوجا نکلے۔ اتوار کا دن تھا۔ چھٹی کی وجہ سے ہر طرف خاموشی تھی۔ ریڈنگ یونیورسٹی ٹاؤن ہے اور ساری رونق یونیورسٹی کے باعث ہوتی تھی۔ یونیورسٹی سے متصل ایک چھوٹی سی جھیل تھی۔ وہاں مرغابیاں اور قاز (Goose) جھیل کے کنارے پر گھوم رہے تھے۔ چلتے چلتے میں مرغابیوں کے بالکل نزدیک چلا گیا۔ مرغابیاں پہلے تو حیرانی سے مجھے تکتی رہیں ‘پھر زیادہ قریب آنے پر گھبرا کر جھیل میں کود گئیں۔ یہی حال وہاں کثرت سے نظر آنے والی Canadian Goose کا تھا۔ براؤن رنگ کے سیاہ گردن والے یہ قاز‘ تو پاکستان میں نظر نہیں آئے تھے‘ تاہم ان کے بھائی بند دوسری قسم کے سائبیریا سے آنے والے قاز‘ جن کے سر پر سیاہ رنگ کی دو پٹیاں ہوتی ہیں‘ موسمِ سرما میں پاکستان آتے ہیں۔

دریائے سندھ کے بیٹ میں کوٹ سلطان لیہ کے نزدیک ان کے شکار کے لئے جایا کرتے تھے۔ دریا کے درمیان خشکی پر گڑھے کھودے جاتے۔ ان کے کناروں پر لئی کی ٹہنیاں لگا کر ان گڑھوں کو چھپایا جاتا۔‘پھر صبح سویرے منہ اندھیرے کیمپ سے اٹھ کر ان گڑھوں میں چھپ کر بیٹھا جاتا۔ یہ گڑھے ان جگہوں پر بنائے جاتے ‘جہاں ساتھ سبزہ اُگا ہوتا تھا۔ وہاں سبزے کے درمیان انہی کی شکل کے ربڑ سے بنے نقلی قاز (Decoys) رکھ دیئے جاتے تھے‘ پھر ''ڈک کال‘‘ کے ذریعے اوپر اڑنے والے قازوں کو پھسلایا جاتا اور بمشکل ان کا شکار کیا جاتا۔ پرندے ڈرے ہی اتنے ہوتے تھے کہ پتہ بھی ہلے تو اڑ جاتے تھے۔ ادھر برطانیہ میں یہ عالم تھا کہ نہ مرغابیاں ڈرتی تھیں اور نہ قاز۔ نہ ہی جنگلی خرگوشوں کو کوئی خوف تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ ان پر ''دنا دن‘‘ بندوق نہیں چلائی جاتی تھی۔

ہم تو دو چار قاز مار کر واپس کیمپ میں آ جاتے تھے کہ مقصد صرف شکار کا لطف لینا ہوتا تھا‘ نہ کہ گوشت اکٹھا کرنا‘ تاہم بعد میں کچھ لوگوں کوزہریلی گندم ڈال کر مرغابیاں اور قاز کا شکار کرتے دیکھا اور ان کے فریزر ان پرندوں سے بھرے دیکھے۔ ایک دوست ہنگول ندی کے کنارے کیرتھر نیشنل پارک میں ایک دوست بلوچ سردار کے ساتھ سندھ آئی بکس کے شکار پر گیا‘ وہ واپسی پر بتا رہا تھا کہ سات آٹھ آئی بکس شکار کر کے واپس آ رہے تھے کہ ایک بڑے سینگوں والا نر آئی بکس نظر آ گیا۔ سردار صاحب نے رائفل اٹھا کر اسے گولی ماری اور جب جیپ میں رکھنے لگے تو وہاں جگہ نہیں تھی۔ دو چھوٹے آئی بکس اٹھا کر جیپ سے باہر پھینکے اور یہ بڑا آئی بکس جیپ پر لاد لیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اس سے بھی بڑے سینگوں والا آئی بکس دکھائی دیا تو اس کو شکار کر لیا اور ایک پہلے سے شکار کئے ہوئے آئی بکس کوجیپ سے نیچے پھینک دیا اور اس آئی بکس کی جگہ بنائی۔ اس اندھا دھند شکار کا نتیجہ یہ نکلا کہ پوٹھوہار میں اڑیال ناپید ہو چکا ہے اور تیتر بمشکل نظر آتا ہے۔ بہاولپور میں ایک دوست کے گھر جب کبھی جانا ہوا‘ اس کے فریزر میں تلور اور ہرن کا گوشت موجود پایا۔

ملتان میں دریائے چناب کے کنارے قاسم بیلا سے تھوڑا آگے جاتے تو خرگوش نظر آ جاتے تھے۔ آخری بار حکیم فیروز مرحوم کے ساتھ برسوں پہلے جانا ہوا۔ ساری رات میں صرف ایک خرگوش نظر آیا۔ ایم ایم روڈ پر صبح سویرے سڑک کے درمیان اور کنارے پر درجنوں تیتر نظر آتے تھے؛ کالے بھی اور بھورے بھی‘ لیکن اب عرصہ ہوا‘ کبھی تیتر نظر آیا۔ شکار کا لائسنس لیا جاتا تھا۔ شکار کے لئے مخصوص دن کی پابندی کی جاتی تھی اور کبھی دو سے زیادہ تیتروں کا شکار نہیں کیا جاتاتھا‘ لیکن بعض شکاری دوستوں نے تصویریں دکھائی‘ جن میں پچاس پچاس تیتر اور چالیس چالیس قاز‘ ایک دن میں شکار کر کے زمین پر سجا کر ان کی تصویریں لی ہوئی تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نہ اب تیتر نظر آتے ہیں اور نہ ہی قاز‘ ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ یہی حال بٹیرے کا ہوا۔ اب فارمی بٹیرے نے اس کی نسل کی لاج رکھ لی ہے‘ وگرنہ جنگلی بٹیرہ بھی اب خال خال نظر آتا ہے۔ سنا ہے کبھی پاکستان میں شیر بھی ہوتا تھا‘ تاہم یہ میری پیدائش سے بھی پہلے کی بات ہے۔

برادر بزرگ کا گھر ریاست جارجیا کے شہر کارلٹن کے ایک کنارے پر واقع ہے۔ گھر کے پچھلے صحن میں انہوں نے اپنی پوتی مریم کے لئے بڑی خوبصورت مچھلیوں کا ایک چھوٹا سا تالاب بنا رکھا ہے۔ ایک دن صبح میں پچھلے صحن میں گیا تو وہاں چار پانچ جنگلی ہرن اس تالاب میں پانی پی رہے تھے۔ منہ میں رال ٹپکی‘ لیکن صرف رال ٹپکا کر ہی رہ گئے۔ ان گنت مرتبہ امریکہ میں سڑک کے کنارے یا سڑک کو پار کرتے ہوئے بارہ سنگھے نظر آئے۔ یہ امریکہ میں سب سے زیادہ پائے جانے والے سفید دم والے ہرن (white tailed deer) ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ میں ان بارہ سنگھوں کی تعداد تین کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ 1930ء میں ان کی تعداد تین لاکھ ہو گئی تھی‘ لیکن ان کے شکار پر پابندی اور افزائشِ نسل کے طفیل ‘اب ان کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہو گئی ہے۔ امریکہ میں ہر شخص کے پاس اسلحہ ہے۔ برادرِ بزرگ کے پاس کم و بیش دس بارہ ہتھیار ہیں۔ پانچ چھ تو صرف بندوقیں اور رائفلیں ہیں‘ لیکن کیا مجال ہے کہ گھر کے پیچھے آنے والے ہرنوں کا شکار کریں۔

شکار کا سیزن ہے اور شکار کے لائسنس یا پرمٹ پر شکار کئے جانے والے جانوروں کی تعداد طے ہے۔ ہر سال ہر جانور کے شکار کے لئے باقاعدہ حساب کتاب سے پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں‘ تاکہ جانوروں کی تعداد ایک خاص حد سے کم نہ ہو جائے۔ امریکی ارنا بھینسوں (Bisons) کی تعداد 1900ء میںکم ہوتے ہوئے محض تین سو رہ گئی تھی‘ اب صرف ییلوسٹون نیشنل پارک میں ان کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ ہے اور پورے امریکہ میں یہ تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایلگ کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور موس کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے۔ ہرنوں کی یہ حالت ہے کہ ریاست پنسلوینیا اور جارجیا میں موٹر وے پر سفر کے دوران ہر روز ایک سے زیادہ ہرنوں کو تو صرف سڑک پر گاڑیوں سے ٹکرا کر مرتے دیکھا ہے۔

کبھی چولستان بھی اسی طرح چنکارہ ہرن اور سیاہ ہرن سے بھرا ہوتا تھا۔ٹولیڈو میں میری بیٹی کا گھر ایک کالونی میں ہے‘ جو شہر کے نواح میں ہے۔ سامنے اتنی معروف سڑک ہے کہ جب تک اشارہ بند نہ ہو سڑک پار کرنا ناممکن ہے۔ کالونی کے پار موٹروے ہے‘ جس پر دن رات ٹریفک کا یہ عالم ہے کہ گاڑی سے گاڑی جڑی ہوتی ہے۔ گزشتہ اتوار گھر سے باہر نکلا تو ایک بڑا سا بارہ سنگھا سامنے والے گھر کے صحن میں گھوم رہا تھا۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کی طرف بڑھا تو وہ بدکنے کی بجائے آہستہ آہستہ چلتا ہوا جھاڑیوں کے پیچھے غائب ہو گیا۔

ایک اتوار کو میرے گھر کے صحن میں شکار شدہ چیتے کی نمک لگی کھال پڑی تھی اور ایک اتوار کو ادھر امریکہ میں سامنے والے گھر کے صحن میں جنگلی ہرن بلاخوف گھوم رہا تھا۔ ادھر ہمارے ہاں یہ عالم ہے کہ قریباً ہر جنگلی جانور ناپید ہو گیا ہے اور ادھر امریکہ میں یہ عالم ہے کہ قریباً ہر جنگلی جانور کا conservation status چیک کریں‘ تو وہ آخری درجے پر‘ یعنی LCپر ہے‘ اس کا مطلب ہے Least Concern۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے دور دور تک کسی خطرے کا سامنا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں تو ابھی انسانوں کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست نہیں اٹھا رہی‘ حیات ِجنگلی کس شمار قطار میں ہے؟(ختم شد)