گیم آف تھرونز- محمد عامر خاکوانی

کیا آپ نے گیم آف تھرونز دیکھا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج کل بہت لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں؟شائد اس لئے کہ گیم آف تھرونز کا آخری سیزن آج کل چل رہا ہے؟ یا پھر اس لئے کہ پاکستانی سیاست میں گیم آف تھرونز کی جھلکیاں پہلے بھی ملتی تھیں، مگر حالیہ چند دنوں میں ہونے والے سیاسی پیش رفت نے ایک بار پھر یہ امریکی ڈرامہ یاد کرا دیا۔ گیم آف تھرونز پر سوال اس قدر پوچھے جانے لگے اور سوشل میڈیا پر اتنے زیادہ تبصرے، سٹیٹس آ رہے ہیں کہ بعض لوگوں نے چڑ کر یہ سٹیٹس لگادیا کہ ہم نے گیم آف تھرونز نہیں دیکھا، اسے ہمارا جرم تو نہیں سمجھا جائے گا؟ بات یہ ہے کہ کوئی پسند کرے یا نہ کرے، بعض چیزیں اس قدر مقبول ہوجاتی ہیں کہ وہ ہمارے اجتماعی شعور، لاشعور کا غیر محسوس انداز میں حصہ بن جاتی ہیں۔ تہذیبی مکالمے میںبھی یہ درآتی ہیں۔ کسی مشہور شاعر کے سدا بہار شعر، فلم کا کوئی ڈائیلاگ، ٹی وی ڈرامہ کا منظر ، کامیڈین کا کوئی شگفتہ فقرہ، کاٹ دار جگت وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو گھوم پھر کر، کہیں نہ کہیں زیر بحث آ ہی جاتی ہیں۔ کسی نے شیکسپئرکے ڈرامے پڑھے ہوں یا اس کی زحمت نہ کی ہو،’’ یوٹو بروٹس‘‘ جیسا لازوال فقرہ اسے کہیں نہ کہیں استعمال کرنا، سننا ہی پڑ جاتا ہے۔

یہ ممکن نہیں کہ پڑھی لکھی محفلوں میں شیکسپئیر، غالب ، میر وغیرہ کو نظرانداز کر سکیں۔یہی حال فلموں کا ہے۔ مولا جٹ کے کئی مکالمے نہ صرف عوامی سطح پر بہت مقبول ہوئے بلکہ ایک طرح سے عوام کی نفسیات ، ان کے شعور کا حصہ بنے ۔خاص کر پنجاب میں مولا جٹ کے استعارے، اشارے کو کون نہیں جانتا، نہیںسمجھتا۔ ہمارے ہاں ففٹی ففٹی پی ٹی وی کا ایسا پروگرام تھا جس نے ایسے باکمال شگفتہ ٹکڑے دکھائے کہ انہیں دیکھنے والا بھلا نہیں سکتا۔ کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی جگہ پر ا س کا حوالہ آ ہی جاتا ہے۔ بھارتی فلمیں نہ دیکھنے والے وہاں کی کئی بہت مشہور، مقبول فلموں کے اثرات سے محروم رہ جاتے ہیں، اس حوالے سے کسی تبصرے، فقرے کو وہ سمجھ نہیں پاتے۔ امیتابھ بچن کی شعلے، شرابی وغیرہ، دلیپ کمار کی مغل اعظم اور بعض دوسری شاہکار فلمیں، شاہ رخ خان کی دل والے دلہنیا لے جائیں گے ، دیوداس وغیرہ ۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ چاہیں یا نہ چاہیں، ڈرامہ سیزن دیکھیں یا ناپسند کریں، نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو ان فلموں، ڈراموں کے اشارے،فقرے، استعاروں سے واسطہ پڑے گا۔گیم آف تھرونز کا نقش بھی گہرا ہے۔

آج کی انٹرٹینمنٹ ورلڈ کا یہ اہم حصہ ہے۔’’ یو ڈونٹ نو جان سنو‘‘ سے لے کر بے شمار خوبصورت، معنی خیز مکالمے اس ڈرامہ سیزن میں لکھے، بولے گئے۔ جی کڑا کر کے تھوڑا بہت گیم آف تھرونز کو جان ہی لیجئے، وقت میسر ہو تو اس کے ایک دو سیزن دیکھ ڈالئے، امکان یہی ہے کہ اس کے سحر کا شکار ہو کر پھرسب سیزن دیکھ ڈالیں گے۔ گیم آف تھرونز (Game of Thrones)یعنی تخت کے کھیل بنیادی طور پر امریکی ڈرامہ سیریل ہے جو ایچ بی او(HBO)چینل پر دکھائی جاتی ہے۔ آج کل سیزن ڈراموں کا بہت رواج ہے۔کسی ڈرامے کی دس ، بارہ یا چودہ، پندرہ کے قریب قسطیں آتی ہیں، پھر کہانی میں ایک موڑ سا آ گیا اور باقی اگلے سال دوسرے سیزن پر چلا جاتا ہے۔ مقبول ڈراموں کے سیزن چار، پانچ یا سات تک چلے جاتے ہیں۔ ایسے کئی ڈرامے ہیں۔’’ ہائوس آف کارڈز‘‘ ایک بہت مقبول ڈرامہ سیزن ہے ، اس کی کہانی امریکی سیاست کے گرد گھومتی ہے، ایک سینیٹر جو وائٹ ہائوس جانے کے لئے کوششیں، سازشیں کر رہا ہے اور آخرکار وہ کامیاب بھی ہوگیا۔سیزنز کی فہرست خاصی طویل ہے، بریکنگ بیڈ بھی مشہور ہے، رومی تاریخ پر ’’روم ‘‘ ہے ، پیکی بلائنڈرز، دی لاسٹ کنگڈم ، بلیک مرر، پرزن بریک، قبلائی خان، ہنی بال وغیرہ۔

ان کی دیکھا دیکھی بھارت میں بھی نیٹ فلیکس پر بھی سیزن شروع ہوئے ہیں، سیکرٹ گیمز، مرزا پور وغیرہ۔ خیر گیم آف تھرونز مقبول ترین سیزن ہے، اس نے دنیا بھر میں بہت لوگوں کو متاثر کیا، اس کی ہر قسط کو دیکھنے والے کروڑوں میں ہیں۔ اس کا ساتواں سیزن دو سال پہلے آیا اور یہ پتہ چلا کہ اگلا یعنی آٹھواں سیزن آخری ہوگا۔ بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر پچھلے سال آٹھواں سیزن نہیں آیا اور اب چودہ اپریل سے ہر اتوار کو امریکہ میںHBO پر اس کے آخری سیزن کی اقساط دکھائی جا رہی ہے۔ پاکستا ن میں لوگ ٹورنٹ کے ذریعے یا مختلف آن لائن ویب سائٹس کی مدد سے اسے پیر کی صبح کے بعد دیکھ پاتے ہیں۔ گزشتہ روز یعنی پیر کو دوسری قسط دیکھی گئی، صرف چار قسطیں رہ گئیں، اس کے بعد یہ سحرزدہ کرنے والا ڈرامہ ختم ہوجائے گا۔ دیکھیں کیا اختتام ہوتا ہے۔ گیم آف تھرون اپنے غیر متوقع انجام کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ ہر سیزن کے آخر میں بڑا دھچکا دیکھنے والے کو ملتا ہے۔ بعض ایسے پاور فل کردار جو آخر تک چلتے نظر آ رہے تھے، اچانک ڈرامائی انداز سے ختم کر دئیے جاتے ہیں۔

ہر سیزن سے پہلے بہت سے تجزیہ کار، ماہرین اپنے اپنے اندازے لگاتے ہیں کہ اس بار کیا ہوگا۔ اس بار تو یہ اندازے ، قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ یہ آخری سیزن ہے۔ پچھلی بار ہیکرز نے کسی طریقے سے قسطیں ہیک کر کے لیک کر دی تھیں۔ اس بار سنا ہے کہ پروڈکشن ٹیم نے تین مختلف اینڈ بنائے ہیں تاکہ اگر لیک ہوجائے تو بالکل ہی مختلف قسط ریلیز کی جائے۔بالکل ایسے کہ ہمارے ہاں امتحانات میں تین پیپرز بنائے جاتے تھے تاکہ پرچہ آئوٹ نہ ہو اور خود بنانے والے کو نہ علم ہو کہ کون سا پرچہ امتحان کے دن باہر آئے گا۔ گیم آف تھرونز کی بڑی خوبی اس کا حقیقی نظر آنا ہے۔ قدیم دور دکھایا گیا ہے، ایک طرح سے کئی صدیوں پہلے کا انگلستان سمجھ لیں۔ اس کی کہانی بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ویسٹروز مرکزی خطہ ہے، کنگز لینڈنگ اس کا دارالحکومت ہے۔ وہاں پر ایک خاندان حاکم ہے، اس کے اندر بھی سازشیں ہیں اور بعض دوسرے طاقتور لارڈز (نواب )اور ان کے گھرانے طاقت کی کشمکش میں مصروف رہتے ہیں۔ محلاتی سازشیں، دھوکے، قابل اعتمادساتھی ہی عین وقت پر گردن اڑا دیں۔بے رحمی اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے سب کچھ کر گزرنے کا جذبہ اپنی پوری شدت، قوت کے ساتھ کارفرما نظر آتا ہے۔ دنیا بھر کی قدیم ،جدید تاریخ کا یہ مرکزی جز ہے۔

شادی کی دعوت (ریڈ ویڈنگ)پر بارات لے کر آنے والا لارڈ اپنے خاندان سمیت زبح کر دیا جاتا ہے تو کہیں پر پرانے ساتھی دغا دے جاتے ہیں۔ کسی پر مشکل وقت پڑے توہاتھ پکڑنے کوئی نہیں آتا۔گیم آف تھرونزکی کہانی کا دوسرا حصہ ایک سابق خاندان کی اکلوتی بچ جانے والی لڑکی(ڈینئریس تارگیرین) کے گرد گھومتا ہے۔ اس کی ایک ہی آرزو ہے کہ اپنے باپ کی نشانی تخت واپس لے ۔ تیسرا حصہ نارتھ کا ہے، جہاں شدید سردی اور انتہائی شمال میں تو برف ہی برف اور وہاں پراسرا ر دیومالائی مخلوق وائٹ واکر کے علاوہ وحشی قبائل رہتے ہیں۔ نارتھ کا طاقتورسٹارک خاندان بھی اپنے انداز میں اقتدار کی کشمکش میں شریک ہے۔ اس ڈرامہ سیزن میں’’مسالہ ‘‘بھی جی بھر کر ڈالا گیا، قابل اعتراض مناظر بھی ملتے ہیں، جادووغیرہ بھی کہیں کہیں پر نظر آئے گا۔ ادب میں ایک اصطلاح میجک رئیل ازم یا طلسماتی حقیقت نگاری استعمال ہوتی ہے۔ قاری کو کچھ ایسا پڑھانا جو ناقابل یقین ہونے کے باوجود وہ پڑھ جائے اور ایک سطح پر اسے قابل یقین لگے۔ اس ڈرامہ سیزن میں یہ خاصا ملتا ہے۔ اس میں اڑتے، آگ برساتے تین ڈریگون ہیں، دیکھنے والے ان پر یقین لے آتے ہیں۔ جادو کرنے والی ریڈ وومن بھی موجود ہے، لیکن اس کے کئے کام بھی حقیقت لگتے ہیں۔

اس طرح کے مغربی انداز میں بنے ڈراموں میں کئی چیزوں سے کمپرومائز کرنا پڑتا ہے،بہترین طریقہ ہے کہ ریموٹ ہاتھ میں لے کر دیکھیں اورناپسندیدہ مناظرتیزی سے گزار دیں۔کچھ چیزیں ناگوار تو محلاتی سازشوں، اقتدار کے لئے سب کچھ کر گزرنے کی دھن، عوام کو بے وقوف بنائے رکھنا اور اپنے اقتدار کے لئے ٹوٹتے بنتے اتحادوں کا تماشا بہت دلچسپ اور سیکھنے والا ہے۔ بہت سے مکالمے سن کر لگتا ہے جیسے کسی نے ہمارے سیاسی منظرنامے پر طنز کیا ہو۔ ہمارے مغربی پڑوس کے وار تھیٹر اورمشرق میں نام نہاددنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ہونے والا کھیل بھی زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ آجاتا ہے۔ یہ ڈرامہ جس ناول پر بنایا گیا، اس کی کہانی مختلف ہے، ڈرامہ بناتے ہوئے بہت کچھ انحراف کیا گیا۔ میں سرچ کر رہا ہوں کہ ڈرامہ سیزن کا سکرپٹ کہیں سے مل جائے تو ایسے لوگ جو ڈرامہ ، فلم دیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، ان کے لئے بھی افادیت کا ساماں پیدا ہوجائے گا۔ گیم آف تھرونز ڈرامہ سیزن تو اگلے چار ہفتوں میں ختم ہوجائے گا، مگرتخت کے حصول کی جنگ ہمیشہ جاری رہے گا۔ہمارے حصے میں شائد ہمیشہ تماشائی بن کر دیکھتے رہنے کا کردار آیا ہے۔ ہم اور آپ وہی ادا کر رہے ہیں، کرتے رہیں گے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.