عورت کا اونچا مقام - محمد رضی الاسلام ندوی

ایک خاتون کا فون آیا : " ایک حدیث میں ہے : "خدا کی خوش نودی باپ کی خوش نودی میں ہے " براہ کرم اس کا حوالہ بتا دیجیے اور یہ بھی کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ میں نے جواب دیا : " یہ حدیث صحیح ہے _ ترمذی (1899) ، حاکم (7249) اور ابن حبان (429) میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : " رِضَا الرَّبِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ "
البتہ 'والد' کا ترجمہ صرف 'باپ' سے کرنا درست نہیں _ 'والد' کے معنیٰ ہیں 'پیدا کرنے والا' _ اس میں ماں اور باپ دونوں شامل ہیں _

خاتون کا پھر فون آیا : "باپ جنت کا دروازہ ہے _" اسے بھی حدیث کی حیثیت سے بیان کیا جاتا ہے _ کیا یہ صحیح حدیث ہے؟ میں نے جواب دیا :
" یہ حدیث نہیں ہے _"
تھوڑی دیر بعد خاتون کا پھر فون آیا :
" مولانا صاحب ! برا نہ مانیے گا _ بعض کتابیں میرے مطالعے میں آئی ہیں ، جن میں اسے 'حدیث' کہا گیا ہے _ براہ کرم تحقیق کرکے بتائیں _ یہ حدیث ہی نہیں ہے ، یا ضعیف یا موضوع حدیث ہے ، یا صحیح حدیث ہے؟ "
میں نے تحقیق کی تو پایا کہ یہ صحیح حدیث ہے _ اس کی روایت ترمذی (1900) ، ابن ماجہ (3663) اور احمد (27551) نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
" الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ ".
( باپ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے _ اب چاہے اسے ضائع کردو ، یا اس کی حفاظت کرو _) میں نے خاتون کو فون کیا _ ان سے معذرت کی اور کہا کہ آپ کی بات درست ہے _ یہ صحیح حدیث ہے _"

مجھے یاد آیا کہ اسی طرح ایک خاتون نے خلیفۂ دوم حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو ایک موقع پر بھرے مجمعے میں ٹوک دیا تھا اور انھوں نے یہ کہہ کر برملا اعتراف کیا تھا : "إمرأة أصابت و رجل أخطأ". ( عورت کی بات درست ہے ، مرد نے غلطی کی _ )
اسلام نے عورت کو کتنا اونچا مقام دیا ہے کہ وہ برملا مرد کو ٹوک سکتی ہے اور اس کی غلطی کی اصلاح کرسکتی ہے _