تو اے مسافر شب! ھارون الرشید

کیا ہم اندھے ہیں‘ دیکھتے نہیں کہ کائنات جس نے پیدا کی ‘ کامیابی اور ناکامی کے قرینے اور قاعدے بھی اسی نے مقرر فرما ئے ۔ ان میں قطع و برید کیسے ممکن ہے؟ ع
تو اے مسافرِ شب خود چراغ بن اپنا
ہمارے خمیر میں معجزے کی ایک گہری تمنا ہے‘ ہمیں وہ چین لینے نہیں دیتی۔ کوئی حکمران آئے اور ادبار کو سمیٹ دے۔ ٹیکس نہ دینے والوں کو جھکا دے۔ زمانوں کی بگڑی پولیس کو راہ پہ ڈال دے۔ عدالت انصاف کرنے لگے۔ دفتروں میں بابو‘ بدل جائیں۔ پھر یہ کہ اس ہنگام زحمت سے ہمیں واسطہ نہ ہو۔ایثار نہ کرنا پڑے۔
نظم و نسق بہتر کیا جا سکتا ہے۔ پولیس‘ عدالت‘ ایف بی آر سمیت دوسرے سرکاری دفاتر کو بتدریج استوار کرنے کی نتیجہ خیز کوشش ہو سکتی ہے مگر کوئی انقلاب؟ اس کے تو عوامل ہی نہیں۔ کوئی اہتمام اور تیاری ہی نہیں۔

نہ تم بدلے نہ ہم بدلے نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیوں کر اعتبارِ انقلابِ آسماں کر لوں

بادشاہت کے دور لدگئے۔ وہ زمانے خیال و خواب ہوئے‘ جب ایک قہرمان‘ چند مشیروں کے ساتھ استحکام اور قرار پیدا کر دیا کرتا۔ سیاسی پارٹیاں ہیں‘ کاروباری طبقات ہیں‘ مذہبی مکاتب فکر ہیں اور آزاد اخبار نویسوں کے علاوہ‘ وہ سوشل میڈیا‘ ہزاروں آدمی‘ جس کے بل پر ذاتی نمود یا گروہی مفاد کیلئے وحشیانہ جتے رہتے ہیں۔
محاذآرائی ہے اور ہمہ جہت محاذ آرائی ۔ہیجان ہے اور ہر سمت پھیلتا ہیجان۔ غیر ملکوں کے مفادات سوا ہیں۔ معیشت کیلئے انحصار دوسروں پر ہے۔ بہتّر برس اس طرح ہم نے بِتا دئیے کہ سمندر پار سے ڈالر یا ریال آتے رہے۔ معیشت کا بڑا حصہ غیر دستاویزی ہے۔ اس میں اپنا حصہ ادا کرنے سے انکار پہ ہم ڈٹے ہوئے۔

عالمی آویزش کا ہم حصہ ہیں۔ ایک طرف انتہا پسند مذہبی گروہ ‘ کاروبارِ سلطنت سے ہم آہنگ ہونے پر جو آمادہ نہیں۔ دوسری طرف این جی اوز کی مخلوق‘ باقی دنیا کو جو پاکستان کی طرف سے نہیں‘دوسروں کی نظر سے خود کو دیکھتی ہے۔ حریف ہے‘ جو اس ملک کے اصولی اور نظریاتی جواز ہی کو نہیں مانتا۔ دونوں گروہوں میں اس کیلئے نرم گوشہ رکھنے والے پائے جاتے ہیں۔ آئے دن‘ جس کے لیڈر اعلان کرتے ہیں کہ ختم نہ کر سکے تو سبق ضرور سکھا کے رہیں گے۔ پابہ زنجیر کریں گے۔ سر جھکانے پہ مجبور کر ڈالیں گے۔
ہمارے مہربان ممالک ہیں‘ ہماری سرزمین پر با ہم متصادم مذہبی گروہوں کی جو سرپرستی فرماتے ہیں۔
کچھ بھی شکایت ہو‘ کتنے ہی اعتراضات‘ خارجہ پالیسی کے میدان میں نئی حکومت نے کسی بڑی غلطی کا ارتکاب نہیں کیا۔ سنبھل سنبھل کے آگے بڑھی۔

زندگی کی رِہ میں چل لیکن ذرا بچ بچ کے چل
یوں سمجھ لے کوئی مینا خانہ بارِ دوش ہے

باایں ہمہ سب سے بڑے سوال‘ سب سے بڑے بحران پر بحث کی ابتدا تک نہیں۔ انکل سام جب آپ سے بیزار ہو چکا۔ بھارت اس کا شریک کار بن چکا۔ خطّے میں اس کی بالادستی قبول کرنے سے ہم نے انکار کر دیا۔ چین کے حلیف ہو گئے۔ اپنے معاشی مستقبل کیلئے اس کی سانجھ قبول کر لی تو واشنگٹن اور اس کے ہم نفس ہمیں معاف کیوں کریں؟بے شک امکانات کی اب نئی دنیا ئیں ہیں۔ توازن قائم کر کے اس عبوری عہد سے نکل جانے‘ مستقل طور پر کچھ پائیدار پالیسیاں اختیار کرنے کا متبادل راستہ موجود ہے۔ مسلم برصغیر کے نبض شناس اقبالؔ نے کہا تھا۔

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

کیا ہم ڈھونڈنے نکلے ہیں؟ اس موضوع پر کیا ہم نے دماغ سوزی کی؟ ایک مستقل اور موزوں لائحہ عمل تشکیل دینے کی کوئی کاوش جس میں لچک پائی جاتی ہو۔ وقت آ پڑنے پر‘ جس میں ترامیم کی جا سکیں۔ آنیوالے کل میں کیا لکھا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ دانا وہ ہوتے ہیں‘ جو خیال و فکر کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
اس پر صدیوں کی غلامی کے مارے‘ شخصیت پرست معاشرے کی نفسیاتی کمزوریاں‘ گھبراہٹ اور بے یقینی۔ ایوب خان ہماری آخری امید ہیں‘ ضیاء الحق ہیں‘ جی نہیں‘ جینئس بھٹو ہمیں جنگلوں اور بیابانوں کے اس پار جا اتاریں گے۔ مردِ مومن جنرل محمد ضیاء الحق۔ اب کپتان بعض کا واحد ذہنی سہارا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قوم کا آخری امکان۔ وہ بہادر ہے‘ وہ سب جانتا ہے‘ وہ سب سدھار لے گا۔

ترے تے سارے جنگل ہِن ڈوتے سارے دریا
کیوں میکو یاد نہ رہسی اوندے گھر دا رستہ

بس تین جنگل ہیں اور دو دریا‘ اس کے گھر ہم کیوں نہ پہنچ پائیں گے؟
بے لچک ہم ایسے ہیں کہ ادھر کسی نے صدارتی نظام کا نام لیا‘ ادھر ہم نے اسے وردی والوں کا کارندہ قرار دے دیا۔ جانتے بوجھتے کہ روایتی پارلیمانی سیاست ریوڑ تو پیدا کر سکتی ہے‘ لشکر نہیں۔ عہدِ آئندہ میں سلطانیٔ جمہور کے طلوع ہونے کی خبر‘ جس مفکر نے دی تھی‘ یہ بھی اسی نے کہا تھا۔

گریز از طرز جمہوری نظامِ پختہ کارے شو
کہ ازمغزِ دو صد خر فکرِ انسانے نمی آید
دو سو گدھوں کے مغز سے انسانی فکر کا شگوفہ نہیں پھوٹ سکتا۔

ادھر وہ ہیں کہ عسکری اقتدار اور جبر کے اندیشے سے‘ پارلیمانی نظام کی کسی نے حمایت کی تو فوراً ہی غداری اور ابن الوقتی کا الزام ۔ ارے بھائی‘ پارلیمانی نظام کو قائداعظم نے گوارا کیا تھا؛ اگرچہ آئین کی تشکیل قوم پہ چھوڑ دی تھی۔ مستقبل کے غوروفکر کرنے والوں پر۔غوروفکر کی نوبت ہی کہاں میسر آئی۔ قرار ہی کب نصیب ہوا۔ ایک قوم اپنے قدموں پہ کھڑا ہونے پہ اگر تلی ہی نہ ہو؟ دگرگوں حالات کا مقابلہ کرنے کا اگر عزم ہی نہ ہو۔ عزم کیا شعور ہی نہیں۔ ہمہ وقت اگر وہ جذبات کی گرفت میں ہو۔ عدمِ تحفظ اور احساسِ کمتری کا شکار۔ سیاستدان اپنے آقا کے رحم و کرم پر۔ دانشور مانگے تانگے کے خیالات میں مگن۔ براہ کرم ایک ذرا ٹھہر جائیے۔ ایک ذرا توقف فرمائیے۔ آسمان گرنے والا نہیں۔ ایک ہی بار اسے لپٹنا ہے۔ زمین پھٹنے والی نہیں۔ ایک ہی بار اسے پھٹنا ہے۔

یہ لامحدود امکانات کی سرزمین ہے۔ ہمیں بخشی گئی‘ دنیا کی سب سے زرخیز زمین کوئی اٹھا کر نہیں لے جائے گا۔ اس مٹی کی شادابی کوئی نچوڑ نہیں لے گا۔ عقلیں اغوا ہو گئیں اور کنفیوژن پھیل گیا۔ مگر اب بھی یہ دنیا کی ذہین ترین قوم ہے۔ دو ماہ پہلے اپنے پائلٹ آپ نے دیکھے؟ سائنس دانوں کے ساتھ ناچیز کا واسطہ رہا۔ بخدا پوری دنیا میں ایسے نہیں۔ تمام کرّۂ ارض پہ کوئی ملک وہ سپاہی نہیں جنتا‘ پروردگار نے جو ہمیں بخشے ہیں۔ معیشت اگر سرخرو ہو‘ سیاست سے اگر وہ بے نیاز رکھّے جا سکیں تو اور بھی کرشمے کر دکھائیں۔

ہم چٹانیں ہیں کوئی ریت کے ساحل تو نہیں
شوق سے شہرپناہوں میں لگا دو ہم کو

کاروبار میں بھی‘اس ملک میں کرامات ہوئی ہیں۔ اس افسر شاہی اور حکمرانوں کے باوجود تیس برس تک بھارت ہمیں رشک کی نگاہ سے دیکھتا رہا۔ چین اور کوریا سمیت بہت سے ممالک۔ سمت بگڑی اور پیچیدگیاں پیدا ہوئیں تو سفر الجھا‘ حتیٰ کہ معمّہ ہو گیا۔ کل ایک صاحب پہ نگاہ پڑی‘ حیران کن سادگی۔ ہارون خواجہ شاید بھانپ گئے۔ سرگوشی میں کہا: یہ وہ شخص ہے‘ صدر بش نے‘ جس سے عراق کی تعمیر نو میں استعانت کی استدعا کی تھی۔

چیخ و پکار سے نہیں‘ شور شرابے سے نہیں‘ صحرا اور بیاباں آنکھیں کھول کر سمت تلاش کی جاتی ہے۔ صف آرا قبیلوں کی نہیں‘ ٹھنڈے دل سے غور کرنے والوں کی ہمیں ضرورت ہے۔ ہمیں ایک لائحہ عمل درکار ہے۔جی ہاں ایک لائحہ عمل‘ اگر ہم مرتب نہیں کر سکتے تو وہی بے یقینی‘ وہی رائیگانی‘ ایک بار پھرکوئی حادثہ۔
کیا ہم اندھے ہیں‘ دیکھتے نہیں کہ کائنات جس نے پیدا کی ‘ کامیابی اور ناکامی کے قرینے اور قاعدے بھی اسی نے مقرر فرما ئے ۔ ان میں قطع و برید کیسے ممکن ہے؟ ع
تو اے مسافرِ شب خود چراغ بن اپنا