خالی ہاتھ کا بابا - دعا عظیمی

کل سے طبیعت میں عجیب سی بے کلی تھی ، ایسی کہ جس کو کوئیی واضح نام نہیں دیا جا سکتا تھا۔ میں نے بار بارسوچا گھر میں اماں کی طبیعت ٹھیک ہو، گاوں میں سب خیر ہو اور عادتا پاس پڑے فون پر نظر جمائی میری سہیلی چھنو کے چار فون آچُکے تھے مجھے حیرت بھری فکر ہوئیی چھنو مجھے سال بھر میں ایک بار ہی فون کیا کرتی تھی وہ بھی چھوٹی عید سے پہلے کبھی کبھار وہ مجھے اپنے ہاتھ سے کاڑھی ہوئیی شال بھیج دیتی اور یقین کرنے کے لیے کہ آیا مجھ تک پہنچی ہے یا نہیں ۔۔۔

وہ فون کر کے اپنی تسلی کیا کرتی تھی ۔ مجھے چادر اسی دوکاندار کا ملازم دے جاتا تھا ، جسےوہ اپنا مال بیچتی وہ مجھے خون پینے والا بھیڑیے جیسا لگاکرتا تھا کیونکہ وہ میری معصوم سہیلی کی محنت کو انتہائی کم قیمت پر خریدا کرتا اور دیہات میں رہنے والوں کی سادگی اور مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوۓ انہیں انتہائی کم قیمت دےکر استحصال کرتا اور گاہک سے بہت سے نوٹ بٹورتا میرا دل کرتا تھا کہ اس پہ ہراساں کرنے کا پرچہ کٹوا دوں پر یہ فقط سوچا ہی جا سکتا تھا۔
چھنو کے ہاتھ کی ریشم اور دوسوتی سے کاڑھی ہوئیی چادریں بہت نفیس اور رنگدارہوا کرتیں بالکل خود بانکی چھنو کی اپنی طرح میں اکثر اپنا اور اپنی سہیلی کی عادات کا موازنہ کرتی ،چھنو چھیل چھبیلی تھی اور میں چپ چاپ ، جانے کیوں۔ ؟ شاید وہ اپنی ماں ماسی بھاگ بھری کے ٹوکرے میں رکھی لال ہری نیلی پیلی چوڑیوں کی طرح چھنک دار تھی اور میں اپنی بیوہ ماں بانو کی سلائی مشین میں رکھے دھاگوں کی طرح خاموش ،بچے آخر کار اپنے گھر کے ماحول اور ماں باپ پہ ہی جایا کرتے ہیں ۔ میرا بچپن اپنے گھر سے زیادہ چھنو کے گھر گزرا تھا ہمارے گھر عجیب سی خاموشی ہوا کرتی تھی بس مشین کی آواز مسلسل دکھڑا روتی رہتی اور اماں سر جھکائے چپ چاپ مشین کی حرکت دیکھے جاتی تب میں ماسی بھاگ بھری کے گھر بھاگ آتی جہاں ہر دم میلے کا سا سماں رہتا دن میں کانچ کی چوڑیاں پہننے لڑکیاں آجاتی تو کبھی ماسی ٹوکرا اٹھاے باہر نکل کھڑی ہوتی شام میں دوہنی پہ ٹپے گاۓ جاتے۔رونق میلہ سب کو بھاتا ہے۔

ہم بچے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کچی سڑک پہ لالیوں کے پنجوں سے بنے نقش ونگار کو ملیامیٹ کرتےتو کبھی گنے اڑانے گنے کی ٹرالی کے پہیوں کےپیچھے دور تک بھاگے پھرتے۔۔۔ بگولوں کی طرح ،کبھی گرم دو پہروں میں نظر بچا کے کچی امبیاں چرایا کرتےاور سرد شاموں میں قبرستان کی چپ کو توڑا کرتے تب ڈر کا چہرہ نہی ہوتا تھا۔۔اس کے علاوہ کچی دیواروں کو ناخنوں سے کرید کریدکر اس میں سجی سیپیاں سالم نکالنے کی کوشش کرتےاور حیران ہوتے دیواروں میں سیپیاں کون چنتا ہے۔
میری قسمت کہ قدرت نے مجھے سنجیدہ مزاج دیا تھا اور میں کسی کی دی ہوئی کتابوں اور پنسلوں کے طفیل پڑھ لکھ کے شہر میں اخباری رپورٹر لگ گئ تھی۔۔میرے پڑھنے کے پیچھے بھی ایک مہربان انسان کا کردار تھا ورنہ ابا کی موت کے بعد اماں کی سلائئ مشین صرف گھر کا خرچہ ہی نکالتی میرے ابا کی موت کے بعد رحمو چاچا نے دست شفقت سر پہ ہی رکھا میری تعلیم سے نوکری اور ہر معاملے میں اتنی مدد کی کہ کیا ہی کوئیئ سگا رشتےدار کرے گا۔
ماسٹرچاچا رحمو کا کردار میری زندگی پہ گہرا تاثر چھوڑ گیا تھا ان کی عادت تھی کہ وہ سب کے کام آتے تھے دوسروں کے لیے پریشان رہتے کم وسائل کے باوجود ہنس مکھ تھے اور ہنس مکھ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی ان سے بے تکلف ہو جاتا اور دل کی بات کھول دیتا وہ اتنے سمجھ دار تھے کہ آدھے معاملات سن کے ہی حل کر دیتے جبکہ آدھے معاملات اپنے دوستوں سے کہہ کے حل کرا دیتے ان کی جیب میں ہر طرح کا انسان تھا۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   قاتل شارع اور اصل محرکات - گہرام اسلم بلوچ

کہتے ہم کون سا کچھ اپنے پلے سے کرتے ہیں بس ادھر کا مال ادھر اورادھر کا مال ادھر اور ہنس دیتے پر میری نظر میں وہ خالی ہاتھ کے بابے تھے جن کا دل دریا تھااور وسائل نہ ہونے کے برابر مگر وہ دم مرگ لوگوں کے کام آتے رہے اور نہیں تو تسلی دے دیتے اور دعا کر دیا کرتے ان کی دعا میں بھی اثر تھا۔۔۔۔۔ایسے لوگ خالی ہاتھ ہی زندگی گزارتے ہیں اور خالی ہاتھ ہی چلے جاتے ہیں۔ لیکن ان کے بظاہر خالی ہاتھوں میں نجانے کونسا طلسم ہوتا ہے کہ جس کو چھو جائیں، اسے پارس کر دیں، جیسےدرد کو دوا مل جائے، بیمار کو شفا مل جائے۔ مبتلائے عشق کو محبوب کی رضا مل جائے۔ دل کے بادشاہ، تیسری آنکھ کے حامل یہ افراد معمولی نہیں ہوتے۔ ضرورت مند انہیں اور یہ ضرورت مند کو بخوبی پہچانتے ہیں۔ ان بابوں کے خالی ہاتھوں کی بھی اپنی ہی ایک مہک ہوتی ہے، محبت اور خلوص کی مہک ۔
سائیں راضی شاہ کے مزار پہ ایک مجاور دیکھا تھا ان دنوں چھنو کے ساتھ اکثر مزاروں پہ منت ماننے جانا پڑتا تھا مجھے وہ بھی خالی ہاتھ والا بابا ہی لگتا تھا میری نظر ایسے کرداروں کو بھانپ لیتی تھی جو ایثار کے پانی سے وضو کرتے تھے ۔وہ سارا دن مخلوق خدا کی خدمت کیا کرتا کبھی ایک کا دکھ سن کبھی دوسرے کا اور کیسی پھرتیلی چال سے نیاز کا بندوبست کرتا مخلوق کا پیٹ بھر کے جیسے اسے سکون ملتا تھا۔سنا تھا کسی سے عشق میں دل اور گھر بار ہار کے یہاں آبیٹھا اور یہاں مجاوری کرنے لگا .

جب چھنو وہاں جالی پکڑ کے رو رہی تھی اس نے آکر دیکھا تھا اور چھنو سے پوچھاکہ کیامعاملہ ہے اور جب ہم نے اسے بتایاکہ معاملہ دل کا اور سماج کا ہے اور حنیف تیلی کے گھر والے میراثیوں کی لڑکی لانے کو تیار نہیں تو مسکرا دیا کہنے لگا مٹھائی کابندوبست کرو فکر نہ کرو اس کے تھوڑے دنوں بعد حنیفے کے گھر سے پیغام آ گیا بس اتنا ہی دیکھا گیا تھا کہ وہ حنیفے کے گھر دو ایک بار گیا تھا لیکن ہم نے یہی سمجھا تھا کہ منت پوری ہوئی ہم چڑھاوا چڑھا آے تھے اس کے تھوڑے دنوں بعد چھنو بیاہی گئ تھی ۔ اب اللہ جانے نیکی کے یہ خیال مزار والے بابا کی طرف سے آتے تھے یا نیکی کی ایجینسیوں کی طرف سے!
بہر حال۔۔۔ اس کا بیاہ ہو گیا تیلیوں کے گھر میراثیوں کی دھی بیاہی گئ ،من چاہی مراد ملنے کے بعد چھنو سکھی تھی اس کے پاؤں خوشی کے مارے زمین پر نہیں ٹکتے تھے میری جب بھی ماں سے بات ہوتی وہ یہی دعا دیتی خدا میری رجو کے نصیب بھی چھنو جیسے کرے۔حنیف چھنو کو بے حد چاہتا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ اس کو فون کروں کہ فون بجا دوسری طرف روتی پیٹتی آواز آئ ۔۔۔رجو میں لٹی گئ ، وہ چلا رہی تھی کچھ کر رجو، ” ہوا کیا ” میں نے خود کو سنبھالا وہ ظالم چوری کا الزام ڈال کے تیرے ویر “حنیفے” کو پکڑ کے تھانے لے گۓ ہیں ۔؟ ہواکیا۔ ۔؟کیوں کیسے ۔؟

میں نے پے درپے سوال کر ڈالے ،اس نے روتے روتے بتایا ،”حنیفا جن کے دارے پر کام کرتا تھا ان کا لاکھ روپیہ چوری ہو گیا ہے” ، “مجھے شک پڑتا ہے ان کا پتر جواری ہے اسی کا کام ہے” ” “حنیفا” تو اندر جاتا ہی نہیں ، وہ تو دارے پہ چاکری کرتا ہے! میں نے دلیل دی ” پر کوئی سنے بھی تو غریب کی “،جھوٹا الزام لگا رہے ظالم ‘بیچارےمیرے راجے پہ” پولیس آئی اور اس بے قصور کوپکڑ کے لے گئ وہ کہتے ہیں ،مال بھرو،،، یا جیل کاٹو اب بتاوکیا کروں۔۔۔،گھر میں سارے سہمے ہوے ہیں ، آبا کوتو چپ لگ گئ اماں روتی ہاتھ نہیں آتی میں نے دل بڑا کر کے پوچھا کتنا مال۔؟ لاکھ روپیہ دوسری طرف سے آواز آئی ،”چل تو چپ کر جا کچھ کرتی ہوں تو فکر نہ کر چپ کر جا “اسے تسلی دے کر دونوں ہاتھوں سے سر تھامے میں کسی معجزے کی منتظر تھی۔ اس کی دکھ بھری آواز میری جان نکال دینے کے لیے کافی تھی ۔
وہ میری بچپن کی عزیزاز جان سہیلی جو تھی ۔۔ کاش چاچا رحمو زندہ ہوتےکسی نہ کسی کو کہہ کے کوئی حل نکالتے یا رقم کا بندوبست کرتے میں ایک خبر کے پیچھے سارا سارا دن ہلکان ہونےوالی رپورٹر میں نے جمع کیے ہوۓ پیسے گنے بہت کم تھے، سوچا کہ کل کوئی بندوبست کرنےکی کوشش کروں گی نماز پڑھی دعا مانگی اور سو گئ۔

یہ بھی پڑھیں:   بابا کی پیاری _ بریرہ صدیقی

اگلے دن اس کا فون آیا اس کی آواز میں خوشی کی لہک تھی ،کہنے لگی ، “رجو !مسئلہ حل ہو گیا۔۔۔ “مجھے بہت خوشی ہوئی پوچھا، “کیسے، ؟ “پیسے کہاں سے آۓ یا اصلی چور مل گۓ۔۔”۔مارے تجسسس کے اوپر نیچے سوال داغے۔۔ کہنے لگی رجو تو دو ڈبے مٹھائ کے لے اور کل ہی پہلی لاری سے گاوں آ جا ساری بات بتاؤں گی میں نے شکر ادا کیا کہ جان چھوٹی اس کی بھی اور میری بھی اور حنیفے بیچارے کی جومفت میں پکڑا گیا تھا۔۔ اگلے دن پہلی گاڑی سے گاوں پہنچی، ان کے گھر گئ حنیف دو دنوں میں ہی آدھا ہوا پڑا تھا۔۔ زرا فرصت ملی تو میں نے پیسوں کا پوچھا آنکھیں چمکا کے بولی۔۔۔۔ میرے ساتھ مزار چل ،منت مانی تھی پہلے منت پوری کر آئیں راستے میں راز کی بات بتاؤں گی ۔مٹھائی پکڑ کے ہم بھاگم بھاگ مزار کی طرف بڑھنے لگے بہت خوش تھی بولی رکھا مجاور جانتی ہو نا اسے۔ “ہاں” اسے سبھی جانتے ہیں اس دن میں مزار گئ تھی جالی پکڑ کے رو رہی تھی کہ اس نے مجھ سے پوچھا،” اب کیوں روتی ہو اللہ کی بندی، بتا اب کیا آفت آن پڑی ۔؟ میں نے اسے دل کا حال سنایا سن کے رونےلگا، اسے پولیس تھانے سے بہت ڈر لگتا تھا ۔۔کہتا یہ اچھا نہیں ہوا پر تو فکر نہ کر اللہ کوئی سبیل نکالے گا ، کہنے لگا اس بار معاملہ دعا سے آگے کا ہے پر میں کچھ بھی کروں گا شام تک انتظار کر ، مطمئن ہو کے گھر آ گئ ،وہ بات کا سچا نکلا ، آیا اور کہنے لگا بس ایک ڈبہ مٹھائی کابندوبست کر نیاز دینی ہوگی اور اسی شام وہ پیسے دے گیا ۔۔۔ کہتا تھا کسی کو بتانا نا۔۔۔

جوں ہی مزار کے قریب پہنچے دل کی ندیا میں حیرت کے چپو چلنے لگے،،، پولیس ہی پولیس اور آدم ہی آدم پوچھنے پر معلوم ہوا رکھا مجاور غائب ہے اور احاطے کی تعمیر کے لیے جمع ہونے والی صندوقچی خالی ۔ مجھے پہلے ہی شک تھا ۔۔۔پولیس نے ہمیں آگے جانے سے روکا اور ہم حیران پریشان گاوں کی طرف بھاگے۔ مجھے ایک خبر ملی تھی ،”ایک مجاور چندے کی رقم لے اڑا” ۔ وہ چور تھا یا سادھو۔؟ یا خالی ہاتھ کا بابا ۔ کچھ کردار کچھ عوامل انسان کے ذہن پر عجیب سا تناو چھوڑ جاتے ہیں ۔۔۔یہ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا اس سے پہلے بھی میں ایک دو سوالوں پر اٹک گئ تھی تو اس کو حل کرنے کیے لیے سر شفیق نے میری مدد کی تھی وہ سوال تھا کہ مشرق میں ہی کیوں عشق مجازی اور حقیقی کا تصور پایا جاتا ہےصوفی ازم اور دیگر معاملات میں مغرب پاک کیوں ہے۔۔۔سر شفیق اخبار کے ایڈیٹر اور دانش مند بابے تھے منٹوں میں معاملہ سلجھا دینے والے کہنے لگے جہاں سماج جتنا زیادہ بٹا ہوا ہو اور نظام میں انصاف نہ ہو جہاں اچھا کام کرنے سے پہلے سوچنا پڑے اور اداروں کی زمہ داری افراد پہ آ پڑے وہاں نفسیات الجھ کے نۓ نۓ سوانگ بھرتی ہے۔۔۔۔تم خبر لگاو اور موج کرو۔۔۔۔ایثار کرنے والا ہر شخص خالی یا بھرے ہاتھ والا بابا ہے ۔

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.