آپریشن پوپ آئی (موسمیاتی جنگ) : ضیغم قدیر

ویسے تو ویتنام میں مون سون کا سیزن تباہ کُن تو ہوتا ہی ہے لیکن ویتنام کی جنگ میں امریکہ نے مون سون کی بارشوں کے دورانیے کو مصنوعی طریقے سے تیس دن تک بڑھایا تھا۔ یہ کیمائی موسمی تغیَر تھائی لینڈ سے کمبوڈیا ،لاؤس اور ویتنام تک پھیل گیا تھا۔جسے ہنری کسنجر اور سی آئی اے نے سیکٹری آف ڈیفنس کی اجازت کے بغیر آپریٹ کیا تھا۔

شروعات : سی سیا کی رپورٹ کیمطابق کیلیفورنیا نیول ائر ویپن سٹیشن سے اڑنے والے ائر کرافٹ جس میں لیڈ آئیوڈائڈ اور سلور آئوڈائڈ موجود تھی اس نے ان کو اکیناوا(جاپان) ، گوام (امریکی جزیرہ) ، ٹیکساس، فلپائن اور فلوریڈا میں ایک سمندری طوفان کے تحقیقی پراجکٹ سٹروم فیوری کے تحت گرایا تھا۔ جبکہ پراجکٹ پوپاۓ کو ویتنام میں بارشوں کو طول دینے کے لئے استعمال کیا گیا۔ بادل بنانے کے پچاس سیڈنگ تجربات کئے گئے اور انکے نتائج بیاسی فیصد درست حاصل ہوئے۔ایک اور رپورٹ کیمطابق ان میں سے ایک سیڈ کے بادل ہوا کے دوش پہ امریکی فوجی کیمپ کی طرف بھی چلے گئے تھے جسکے نتیجے میں وہاں تقریبا چار مسلسل گھنٹوں کے لئے نو انچ بارش ہوئی تھی۔
مقاصد : اس آپریشن کے بنادی مقصد ویتنامی فوج کے لئے رستوں کو خراب کرنا اور دریائی بہاؤ کو بڑھا کر انکی مشکلات میں اضافہ کرنا تھا۔
بے نقابی : اس مشن کو جیک اینڈرشن نامی صحافی نے بے نقاب کیا تھا ، جبکہ پنٹاگون کے پیپر لیک ہونے پر اس مشن کا نام :پوپ آئی: بھی عام عوام کے سامنے آ گیا تھا۔
پابندی : جیک اینڈرسن کی رپورٹ کے بعد امریکی حکومت اور باقی حکومتوں کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ وہ کسی بھی سائنسی موسمیاتی تغیر لانے والے پراجکٹ کو اس طرح استعمال نہیں کریں گے۔ گو امریکی حکومت اس بات کو نہیں مانتی کہ یہ پراجکٹ نقصان پہنچانے ے لئے تھا مگر حقاِق کچھ اور ہی گواہی دے رہے ہیں۔

HAARP ہارپ صنوعی بارشیں برسا کر موسمیاتی جنگ لڑنے کا ایک ٹول؟
موسم میں تغیر لانا انسانوں کے لئے ایک آسان کھیل بن جاۓ گا جسے تباہی لانے یا بہتری لانے جیسے دونوں مقاصد کے لئے استعمال کیا جاۓ گا۔
ہارپ ٹیکنالوجی میں الیکٹرومگنیٹک لہروں اور انرجی کی مدد سے آئنو سفئیر جوکہ پچاس کلومیٹر اونچائی تک موجود ہے اس میں موجود پارٹیکلز کو مینیپولیٹ (اپنی مرضی کے مطابق چلاۓ جانے ) کا دعوی کیا جاتا ہے۔ اور یہ دعوی ہارپ کی آفیشل ویب سائٹ پہ موجود ہے۔ اسکے علاوہ ہارپ فقط کانسپریسی میں ہی وجود نہیں رکھتی بلکہ یورپیئن یونین کے ایک مشترکہ اجلاس میں اس پراجکٹ کو عالمی مسلۂ قرار دیکر اس پر ایک قراداد بھی منظور ہوئی تھی جس میں اسکے صحت اور ماحول پر اثرات کو زیر غور لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس سے آپ مزید بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ہارپ کی آفیشل ویب سائٹ اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ الیکٹرومیگنیٹک شعاؤں کی مدد سے انرجی کو ریگولیٹ کرکے آئنو سفئیر کے چھوٹے سے حصے کو تحریک دے سکی ہے۔ (مطلب موسمیاتی تبدیلی لا سکی ہے۔)
بات کریں ملٹری تکنیکوں کی تو جدید ملٹری تکنیک میں سے ایک تکنیک یہ بھی ہے کہ اگلے ملک میں جاۓ بغیر اسکو قحط یا قدرتی آفات میں مبتلا کرکے اس کو خود پہ منحصرکیا جاۓ اور اپنا غلام بنا لیا جاۓ۔

اور یہ بہت پر اثر تکنیک ہے۔ اسکی مدد سے امریکہ ویتنام میں ویتنامی آرمی کو کیچڑ میں دھنسا کر مشکلات میں ڈال چکا ہے. لیکن کیا یہ تکنیک ملٹری جنگ کا مستقبل ہوگی اس پر بات کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے کچھ پوائنٹ ہیں جیسا کہ اگر امیرکہ کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود ہے جسکی مدد سے وہ کہیں بھی بارش برسا سکتے ہیں طوفان پیدا کرسکتے ہیں تو کیلی فورنیا جیسی سوکھی ریاست میں امریکہ بارشیں برسا کر خوشحالی کیوں نہیں لا رہا؟ اس بات کے دو جواب ہوسکتے ہیں، آیا یا تو امریکہ کے پاس ہارپ نامی ٹیکنالوجی ہے ہی نہیں؛ یا پھر امریکہ کے پاس ٹیکنالوجی تو ہے لیکن وہ جان بوجھ کر اسے کیلیفورنیا میں استعمال نہیں کررہا کیونکہ اسکی زیادہ تر آبادی ہسپانوی ہے، سو انکو ہجرت پہ مجبور کرنے اور پانی کی مہنگی قیمتوں اور مصارف زندگی کو بڑھا کر منافع کمانا مقصود ہے۔
اس بات سے آپ ہارپ ٹیکنالوجی کے بارے میں اپنی راۓ آسانی سے پیدا کرسکتے ہیں۔ کلاؤڈ سیڈنگ یا مصنوعی بارش کی مدد سے بہت سے علاقوں میں بارشیں برسائی جاچکی ہیں لیکن اتنے وسیع پیمانے پہ اسکو کبھی بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ شائد اسی وجہ سے ہارپ ایک کانسپریسی ہی ہے۔

پاکستان میں حالیہ بارشوں پہ بہت سے دوستوں نے سوال اٹھائے کہ کیا یہ بھی ہارپ کا نتیجہ ہے، سو ہارپ پہ لکھنا ضروری سمجھا۔ پاکستان میں ہونے والی بارشیں میرے خیال میں قدرتی بارشیں ہی ہیں۔ کیونکہ میرے پاس جتنی انفارمیشن ہے ہارپ ٹیکنالوجی کو اتنے وسیع پیمانے پہ استعمال کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ یہ موسمیاتی شدت ایران اور پاکستان جیسے دو ملکوں میں مشترکہ طور پہ ہے اور اتنے بڑے لیول پہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال کافی مشکل ہے۔ لیکن ملٹری واقعی میں ایسے ہتھیار بنانے کی کوشش میں ہے جو موسم کو مینیپولیٹ کرسکیں تاکہ اپنا کوئی فوجی مرواۓ بغیر اگلے ملک میں موسمی تغیر لایا جاسکے۔ اور جنگ جیتی جاسکے۔ باقی اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کچھ کیا جاتا بھی ہے یا نہیں یہ تو مستقبل ہی بتاۓ گا۔