یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود - سمیرا امام

دنیا کی کسی بھی قوم اور کسی بھی ملک کے قابل فخر لوگ وہاں کا تعلیم یافتہ طبقہ ہوتا ہے ـ پاکستان میں جہاں ہم ہر شعبے میں اچھے افراد کی قلت کا رونا رو رہے ہیں وہیں تعلیمی شعبہ جات کا حال زبوں حالی کا شکار ہے ـ کراچی کے علاقے الیون بی نارتھ کراچی کے گورنمنٹ کالج کے تحت منعقد ہونے والے ایف ایس سی کے بوٹنی کا اٹھارہ اپریل کو ہونے والا پرچے میں باپردہ بچیوں کو جو ذہنی کوفت اٹھانی پڑی اسکا اندازہ فقط وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو اس تکلیف سے گزرے ہیں ـ

بچیاں گھروں سے عبائے پہن کر خود کو ڈھانپ کر کالج پہنچیں ـ کالج انتظامیہ نے عبائے میں ملبوس بچیوں کو کالج میں داخل ہونے سے روک دیا ـ اور یہ تقاضا کیا گیا کہ بچیاں بر لب سڑک اپنے عبائے اتاریں اور بغیر ستر پردے کے کالج میں داخل ہوں ـ بچیوں نے اس بات پر احتجاج کیا کہ سڑک پہ سینکڑوں مردوں کی موجودگی میں وہ اپنا پردہ نہیں اتاریں گی لیکن پیپر کا وقت شروع ہونے کی بناء پہ وہ روتی دھوتی عبایا اتار کر کالج میں داخل ہوئیں ـ اس قدر ذہنی اذیت سے گزرنے کے بعد ان بچیوں کے دل کا کیا عالم ہوگا یہ ناقابل بیان ہے ـ ہتک ' تضحیک بے پردگی سبھی جذبوں نے ان کس طرح سے گھائل کیا انکی ویڈیوز دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے ـ
مجھے فقط ذمہ دار افراد سے یہ سوال کرنا یے کہ اس سارے ڈرامے کا مقصد آخر کیا تھا؟ اگر مقصد نقل سے پاک امتحانات کروانا ہے تو کیا گورنمنٹ کالج اس قدر اجڑ چکے ہیں کہ کالج کے احاطے کے اندر بچیاں عبائے نہیں اتار سکتیں؟ کیا کوئی ایک کمرہ اس بات کے لیے مختص نہیں کیا جا سکتا جہاں بچیاں عبائے اتار کر پرچہ دینے کے لیے امتحان گاہ جا سکیں؟ کیا اب چیکنگ سڑکوں پر ہوا کرے گی؟ یہ تمام کروائی کس قانون کے تحت کی گئی؟

یہ بھی پڑھیں:   دور حاضر کا حجاب، پردہ یا فیشن - طوبی صدیقی

ہمارے ملک کے آئین میں تو پولیس تک کو یہ اجازت نہیں کہ وہ پردہ نشین خواتین کا پردہ اتروائیں یا انکے گھروں میں داخل ہوں کجا کہ ایک گورنمنٹ کالج کی انتظامیہ؟ کالج کے بایر بچیوں اور والدین کا شور ہنگامہ بڑھنے پر پولیس اور میڈیا کے لوگ اکٹھے ہوئے جنہیں ویسے تو کبھی ہوش نہیں آتا لیکن کوئی تماشا مفت کا ہو تو کوریج میں برائی کیا ہے ـ جب ان بچیوں کے عباے اتروائے گئے تو اس وقت میڈیا سمیت آدھا شہر موبائل فونز سے ویڈیوز بنا رہا تھا ـ کیا واقعی معاشرے میں کوئی شرم حیا باقی نہیں رہی؟ ؟ کیا امتحانات کنڈکٹ کرنے والے ادارے بالکل ہی عقل سے پیدل ہو چکے ہیں یا آج کل بھنگ پی کر آتے ہیں؟ ہم اس قبیح فعل کی شدید مذمت کرتے ہیں اگر یہی حال رہا تو وہ وقت دور نہیں جب حجاب اس مسلمان معاشرے کے لیے ایک گالی بن کر رہ جائے گا ـ وہ تمام بچیاں جو اس واقعے کی وجہ سے ذہنی اذیت کا شکار ہوئی ہیں ـ سٹیزن پورٹل پہ اپنی شکایت درج کروائیں ـ انکے والدین کالج انتظامیہ سے بات کریں اور اس غیر اخلاقی سرگرمی کو روکنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں ـ بہ حیثیت ایک قوم ہمارا کیا حق بنتا ہے آپ سب اپنے کمنٹس میں مینشن کر دیجیے تا کہ اس قسم کی سرگرمیوں کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے ـ

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اور لڑکیوں کا ئہ بهی کہنا ہے کہ ارد گرد قانونی یا غیر قانونی پلازے کهڑے ہیں..اور سڑک پر گٹر بہہ رہے ہیں ...اس عالم میں ارد گرد کے لوگ بهی جمع تهے .
    کم از کم الفاظ میں اسے شرمناک کہا جائے گا