ماہِ شعبان اور رمضان کی تیاری - خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 14 شعبان 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "ماہِ شعبان اور رمضان کی تیاری" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کی طرف سے وقت نیکیوں کا ظرف ہے، اس میں کیے ہوئے تمام اعمال انسان دیکھ لے گا، اس لیے فضیلت والے اوقات گنوانے والا حقیقی محروم ہے۔ رسول اللہ ﷺ ماہ شعبان میں کثرت سے نفل روزے رکھتے تھے اور اس کی وجہ یہ بتلاتے کہ اس ماہ میں اعمال اللہ کے ہاں پیش کیے جاتے ہیں، نیز نصف شعبان کی رات میں مشرک اور دل میں کینہ اور عداوت رکھنے والے کے علاوہ سب کی مغفرت فرماتا ہے۔ ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس دن بھی مشرک اور اپنے بھائی سے لڑے ہوئے مسلمان کے علاوہ سب کو بخش دیا جاتا ہے۔ ماہ شعبان رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے اس ماہ میں روزے رکھ کر رمضان کی تیاری کی جاتی ہے، اگر کسی پر سابقہ رمضان کے روزے ہوں تو ان کی قضا دے دے، رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سیدہ عائشہ اسی مہینے میں قضا دیا کرتی تھیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ: رمضان کے روزے مسلمانوں پر فرض ہیں ، تاہم مریض اور مسافر وغیرہ بعد میں روزوں کی تعداد پوری کر سکتے ہیں، ماہ رمضان میں روزوں اور قیام کا اہتمام کرنے سے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، لیلۃ القدر کے قیام سے بھی سابقہ گناہ معاف ہوتے ہیں، پھر آخر میں انہوں نے سب کے لئے دعا فرمائی۔

ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اسی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اندھیرا اور اجالا بنایا، وہی ایام اور مہینوں کو چلانے والا ہے، سالہا سال فنا کرنے والا ہے۔

 میں تمام معاملات میں اسی کی حمد بیان کرتا ہوں جب تک ایام، مہینوں اور سالوں کا آنا جانا لگا رہے، جب تک مشرقی اور مغربی ہوائیں چلتی رہیں ۔

میں سچائی اور یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ بر حق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، یہ گواہی اس دن اللہ کے ہاں کام آئے گی جب کوئی جان کسی جان کے لئے کچھ بھی کرنے کی صلاحیت نہ رکھے گی اور اختیارات صرف اللہ کے پاس ہوں گے۔

اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، آپ نے پیغام رسالت کی تبلیغ کر دی، امانت پہنچا دی، اور امت کی خیر خواہی فرمانے کے ساتھ ساتھ راہ الہی میں کما حقہ جہاد بھی کیا یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

بلا شبہ قرآن بہترین حدیث اور کلام ہے، اللہ کے ہاں بہترین دین اسلام ہے، اور بہترین سیرت جناب محمد ﷺ کی سیرت ہے، {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَا يَجْزِي وَالِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَالِدِهِ شَيْئًا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ} اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈر جاؤ جب نہ تو کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے۔ اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے لہذا یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ کوئی دغا باز تمہیں اللہ کے بارے دھوکا دے۔ [لقمان: 33]

مسلم اقوام!

اللہ تعالی نے وقت کو اعمال کا ظرف بنایا ہے، اس لیے اس وقت میں جو کوئی بھی ذرہ برابر بھی بھلائی کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر بھی برائی کرے گا وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔

تو خسارہ زدہ وہی ہے جو بہترین اوقات گنوا دے، نیکیوں کی بہاروں سے محروم ہو جائے۔ اللہ تعالی نے وقت کو اہل ایمان کے لئے اللہ کی اطاعت کا راستہ قرار دیا جبکہ اپنے آپ سے غافل رہنے والوں کے لئے اسی وقت کو وبال جان بنا دیا ہے، تو اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت سے جِلا بخشو؛ کیونکہ دلوں کو اللہ کے ذکر سے ہی جِلا ملتی ہے: {وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ} اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے پیش کرو گے وہ اللہ کے ہاں پا لو گے۔[المزمل: 20]

اللہ کے بندو!

وقت کی لمحات، ایام اور مہینوں کے اعتبار سے الگ الگ فضیلتیں ہیں۔ نیک اعمال، خیر و بھلائی اور اطاعت گزاری زندگی اور وقت کو آباد کرنے کے لئے بہترین اعمال ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا} اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو بار بار ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا۔ اب جو چاہے اس سے سبق حاصل کرے اور جو چاہے شکر گزار بنے [الفرقان: 62]

متنبہ رہیں! کہ تم اس وقت ایک عظیم مہینے میں ہو اس سے بہت سے لوگ غافل رہتے ہیں۔ غفلت محروم اور سست لوگوں کا بد ترین نصیب ہے۔

توجہ کریں! تم ایک عظیم مہینے میں ہو اس ماہ میں اعمال اللہ رب العالمین کے ہاں پیش کیے جاتے ہیں، اس کا اختتام توبہ اور نیک اعمال کے ذریعے کرنا، ممکن ہے کہ یہی تمہاری زندگی کا آخری مہینہ ہو!

متوجہ رہیں! تم ایک عظیم مہینے میں ہو کہ رسول اللہ ﷺ اس مہینے کے روزوں کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔

چنانچہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: " اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے آپ شعبان میں رکھتے ہیں؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (یہ وہ مہینہ ہے کہ رجب اور رمضان کے درمیان آنے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت کر جاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں رب العالمین کے ہاں اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔) احمد ،نسائی ۔ یہ حدیث حسن ہے۔

اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: (رسول اللہ ﷺ اتنے نفل روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے اب روزے نہیں چھوڑیں گے، اور پھر اتنے دن روزہ نہ رکھتے کہ ہم سمجھتے کہ آپ اب روزے نہیں رکھیں گے۔ میں نے آپ ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی بھی مہینے کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، اور شعبان سے بڑھ کر آپ کسی مہینے میں نفل روزے نہیں رکھتے تھے۔) مسلم

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ: (جس مہینے کے روزے رکھنا آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھا وہ شعبان کا مہینہ تھا) ابو داود، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

مسلم اقوام!

اللہ تعالی شعبان کے درمیان میں تمام مؤمنوں کو مغفرت عطا کرتا ہے، لیکن عداوت، کینہ اور حسد رکھنے والے اور کافر اس مغفرت سے محروم رہتے ہیں، چنانچہ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالی نصف شعبان کی رات لوگوں پر نظر فرماتا ہے ، پھر مشرک اور عداوت رکھنے والے کے سوا سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔) اس حدیث کو ابن ماجہ وغیرہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان و البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اس لیے اللہ کے بندو! تم سب کو معاف کر دو اور درگزر سے کام لو۔ ایک دوسرے کے ساتھ چشم پوشی اور رحمدلی اپناؤ۔ غلطیوں سے صرف نظر کر کے صلہ رحمی کرو۔ حسد نہ کرو، دھوکا مت دو، بغض مت رکھو اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر مت بھاگو، نیز اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جنت کے دروازے سوموار اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں، تو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنے والے تمام بندوں کو بخش دیا جاتا ہے، لیکن ایک شخص کو نہیں بخشا جاتا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ چپقلش ہو، تو کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دے یہاں تک کہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دے یہاں تک کہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دے یہاں تک کہ صلح کر لیں) مسلم

اللہ کے بندو!

ماہ شعبان اسلام کے ایک رکن سے پہلے آتا ہے اور وہ ہے ماہ رمضان کے روزے جس ماہ میں قرآن نازل ہوا۔

ماہ شعبان رمضان کی تیاری اور مشق کا میدان ہے، قوت و صلاحیت بڑھانے کا میدان ہے۔ ماہ شعبان ؛ ماہ ایمان کے آنے کی نوید اور ماہ رمضان کا استقبالی مہینہ ہے۔

ماہ شعبان کا رمضان کے ساتھ رشتہ فرض نمازوں کے ساتھ سنت مؤکدہ والا ہے، لہذا ماہ شعبان رمضان کے روزوں کے لئے مشق ہے؛ تا کہ رمضان کے روزوں میں مشقت اور کلفت کم ہو، آپ روزوں کی مٹھاس اور لذت پائیں۔ اس طرح انسان رمضان کے روزوں کا آغاز بھر پور نشاط اور قوت سے کرتا ہے۔

مسلم اقوام!

جس پر گزشتہ رمضان کے روزوں کی قضا ہے اسے رمضان شروع ہونے سے پہلے پہلے ان کی قضا دے دینی چاہیے؛ کیونکہ ممکن ہے کہ اس سے مزید تاخیر کوتاہی کا سبب بن جائے ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: "مجھ پر رمضان کے روزے ہوتے تھے اور میں ان کی قضا رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے صرف شعبان میں ہی دے پاتی تھی "

اللہ تم پر رحم فرمائے! نیکی میں دیر مت کریں، قبل ازیں کہ موت کا وقت آ جائے، اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی جانب تیزی سے بڑھو کہ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو کہ متقین کے لئے تیار کی گئی ہے۔

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جناب محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے ماہ رمضان کے روزے اسی مہینے یعنی شعبان میں سن دو ہجری میں فرض فرمائے، تو اس طرح نبی ﷺ نے 9 رمضانوں کے روزے رکھے اور پھر اپنے رب سے جا ملے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (183) أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (184) شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} اے ایمان والو تم پر روزے اسی طرح فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ[183] گنتی کے چند دن [روزے]ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دیگر ایام میں [روزوں کی]گنتی پوری کر لے اور [روزے کی مشقت کے ساتھ ]طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم با علم ہو۔ [184] ماہِ رمضان میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے، اس میں ہدایت ،حق و باطل میں تمیز کی نشانیاں ہیں۔ تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ اس میں روزہ رکھے۔ اور جو بیمار ہو یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں یہ تعداد پوری کرے۔ اللہ تعالی کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں ۔وہ چاہتا ہے کہ تم تعداد پوری کر لو اور اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ [البقرة: 183 - 185]

ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے علاوہ ہر چیز کا انکار کیا جائے، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج بیت اللہ کرنا، اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا) مسلم

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جو شخص ماہ رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی امید سے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ جو شخص ماہ رمضان میں قیام ایمان اور ثواب کی امید سے کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ جو شخص لیلۃ القدر میں قیام ایمان اور ثواب کی امید سے کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) بخاری

اس عظیم مہینے کی آمد میں گنتی کے دن باقی ہیں، اس لیے مسلمانوں کو اس مہینے کی تیاری کرنی چاہیے، اس کے لئے ضروریات پوری کر لیں، اور اس مہینے میں بڑھ چڑھ کر اللہ تعالی کی بندگی کریں۔

تو اسے مبارک ہو جو رمضان پا لے، اور اسے بھی مبارک ہو جسے ماہ رمضان میں خیر و بھلائی کے کام کرنے کی توفیق مل جائے۔ خیر و بھلائی کے متلاشی! آگے بڑھ، اور برائی کے رسیا ! باز رہ۔

تو تم اللہ کے سامنے اپنی نیکیاں رکھو؛ کیونکہ بد بخت وہی ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے محروم کر دیا گیا، نیکیوں کی بہاریں آ کر چلی گئیں اور اسے احساس تک نہ ہوا، وہ اپنے آپ سے زیادتی کرتا رہا کہ موت نے اسے اچانک دبوچ لیا اور گناہ سے توبہ کا موقع ہی نہ ملا۔

{وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ} اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی جانب تیزی سے بڑھو کہ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو کہ متقین کے لئے تیار کی گئی ہے۔ [آل عمران: 133]

یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان نصیب فرما، یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان نصیب فرما، یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان نصیب فرما۔ یا اللہ! ہماری ماہ رمضان میں قیام و صیام کے لئے مدد فرما، یا اللہ !ماہ رمضان میں ہماری عبادات قبول بھی فرما، یا رب العالمین! یا اللہ !ماہ رمضان میں ہماری عبادات قبول بھی فرما، یا رب العالمین! یا اللہ !ماہ رمضان میں ہماری عبادات قبول بھی فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! اپنے موحد بندوں کی مدد فرما۔

یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما، یا اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما، اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے دین اسلام کو غلبہ عطا فرما، انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا سمیع الدعاء!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ/ پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.