یہ خونِ خاک نشیناں بھی رزقِ خاک نہ ہو! امجد اسلام امجد

فیض صاحب کے اس مصرعے میں یہ تبدیلی میں نے جان بوجھ کر کی ہے۔ مجھے یقین ہے اگر کسی طرح اُس تبدیلی کا پس منظر اور جواز اُن کی نظر سے گزرے گا تو وہ بخوشی اس کی اجازت دے دیں گے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان اور بالخصوص کوئٹہ شہر میں ہزارہ برادری کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہر صاحبِ دل پاکستانی کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہی نہیں ایک مقام شرمندگی بھی ہے کہ جس دین کے نام پر ملک بنایا گیا تھا اُس کا تو بنیادی سبق بھی انصاف، آزادی ، ایثار اور رواداری ہے اور یہ کہ مذہب یا عقیدے کے فرق کی بنیاد پر کسی بھی شخص کے انسانی اور شہری حقوق میں کسی بھی طرح کا فرق روا نہیں کیا جائے گا۔

کوئٹہ کے احباب اور بالخصوص ہزارہ برادری کے نمایندوں سے بات چیت کے بعد جو پہلا تاثر ذہن میں اُبھرتا ہے وہ یہی ہے کہ اس برادری سے اس جاہلانہ ، سفاکانہ اور افسوسناک رویئے کی بنیاد میں جو عناصر کارفرما ہیں وہ صرف مذہبی نوعیت کے نہیں البتہ ان کو جان بوجھ کر یہ رنگ دیا جاتا ہے کہ اس کی آڑ میں وہ محرکات بھی چھپائے جاسکتے ہیں جن کا تعلق وہاں کی حیثیت، تہذیب اور ذہنی ترقی سے ہے ۔

یہ بات میرے ذاتی تجربے میں ہے کہ اس برادری کے نوجوان طبقے میں تعلیم کا شوق اور رجحان نہ صرف بہت زیادہ ہے بلکہ ان بچوں اور بچیوں کا ادبی ذوق اور سماجی سائنسز سے تعلق بھی نسبتاً بہت گہرا اور مضبوط ہے۔ عقائد کی بحث میں اس لیے نہیں پڑنا چاہتا کہ یہ ایک خالصتاً ذاتی مسئلہ ہے اور جب تک یہ کسی کی ذات تک محدود رہے اُسے چھیڑنا جائز نہیں ۔ ذوقؔ نے کہا تھا۔
واجب القتل اُس نے ٹھہرایا

آیتوں سے، روایتوں سے مجھے

مگر یہاں تو مرنے والوں کو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ اُن کا جُرم کیا ہے۔ کوئی پندرہ برس قبل عزیزی محسن چنگیزی اور اُس کے کچھ احباب نے مجھے اپنے علاقے میں مدعو کیا تو مجھے پہلی بار اس کمیونٹی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو اس اعتبار سے بہت خوشگوار تھا کہ سامعین میں خلافِ توقع خواتین کی تعداد مردوں کے تقریباً برابر تھی اور یہ سب نوجوان لوگ ادب سے محبت رکھنے اور کتابوں سے محبت کرنے والے تھے جو بلوچستان کی بھی ایک نسبتاً پسماندہ کمیونٹی کہلانے کی وجہ سے یہ بات کچھ اور زیادہ دلچسپ اور حوصلہ افزا تھی کہ کم از کم اس جلسہ گاہ کی حد تک نوجوان نسل کی ایسی ادب دوست موجودگی ایک خوش خبری سے کم نہ تھی۔

میں نے اس کمیونٹی کو درپیش مسائل کے بارے میں سنا اور پڑھا تو تھا مگر وہ جو کہتے ہیں کہ ’’ شنیدہ کے بود مانندِ دیدہ‘‘ تو یہ تجربہ اُس کی ایک بھرپور مثال تھا تب سے لے کراب تک ان کے حالات بدلے تو ہیں مگر سنورے نہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ’’بگاڑ ‘‘ کی وجوہات جیسے دیوار پر لکھ رکھی ہیں مگر نہ تو مرکز اور نہ ہی صوبے کی سطح پر ان لوگوں پر روا ظلم اور زیادتی کو روکنے کی کوئی باقاعدہ اور دیرپا کوشش کی گئی ہے۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس طرح کی کارروائیوں کو ہوا دینے میں بعض غیر ملکی قوتوں کا بھی ہاتھ ہے تب بھی یہی بات اپنی جگہ پر رہتی ہے کہ ہر پاکستانی شہری کی طرح اس ہزارہ برادری کے ارکان کی حفاظت بھی حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے ۔ عمران خان کی حکومت کی مبینہ ناکامیوں پر ہونے والی تنقید اپنی جگہ مگر پتہ نہیں کیوں مجھے یقین سا ہے کہ وہ اس مسئلے کا کوئی مستقل اور انصاف پر مبنی حل ضرور نکال لے گا۔

غزلیہ شاعری کے استعاروں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ ان میں سے نِت نئے مطالب نکال سکتے ہیں سو میں بغیر کسی تمہید کے نوجوان شاعر محسن چنگیزی کے کچھ ایسے اشعار آپ سے شیئر کرتا ہوں ۔ جو میرے خیال میں کسی نہ کسی حوالے سے اس صورت حال سے متعلق ہیں۔

شبِ گزشتہ عجب اک عذاب دیکھا تھا

اُڑی تھی نیند مگر ایک خواب دیکھا تھا

کسی کا نام نہیں تھا جو میں نے آخری بار

ورق اُلٹ کے محبت کا باب دیکھا تھا

……

ڈوب جانے کے علاوہ کوئی چارا ہی نہ تھا

اُس کی آنکھوں کے سمندر کا کنارا ہی نہ تھا

شہراِفسوس سے جب کُوچ کی ساعت آئی

دے کے آواز ہمیں کوئی پکارا ہی نہ تھا

ہم اگر دل نہ جلاتے تو بتا کیا کرتے

شامِ ہجراں تری مُٹھی میں ستارا ہی نہ تھا

……

کریں گے کیا ، ترے خانہ بدوش سوچتے ہیں

کہ اب تو خیمہ کشی کے لیے زمیں بھی نہیں

قلم ہے بارِ امانت سے مضمحل محسنؔ

اور ایک کاغذ خالی ہے جو امیں بھی نہیں

……

حکایت شاخِ تنہا کی صبا سے کیوں نہیں کہتے

خدا سے جو بھی شکوہ ہے خدا سے کیوں نہیںکہتے

پرندے جو پروں سے منحرف بیٹھے ہیں شاخوں پر

اُڑا کر ان کو لے جائے ہوا سے کیوں نہیں کہتے

اور یہی سب باتیں اُس نے ایک نظم’’شہر افسوس‘‘ میں کھل کر اس طرح سے کہی ہیں کہ

شہر،ِ افسوس میں اُٹھتے ہیں جنازے اتنے

جن کو گننے کے لیے وقت ہی کم پڑتا ہے

تعزیت کو نہیں آتا ہے خدائے زندہ

بس اسی رنج ہر آنکھ میں نم پڑتا ہے

……

ماں کے آنچل سے بندھے وعدے فراموش ہوئے

بہن کی آنکھ میں آنسو کے سوا کچھ بھی نہیں

کفِ افسوس پہ ہے رنگِ حنا، خُوں بن کر

قریۂ دل میں بس اک ہُو کے سوا کچھ بھی نہیں