اسلام اور مسلم - محمد فیضان

سبحان اللہ، ماشاءاللہ، انشاءاللہ کہنے والے ایسے حضرات جو اپنے اولین تعارف میں کسی دینی بزرگ سے نسبت یا ماضی میں لگائے ہوئے سہ روزوں، چِلوں اور چار ماہ گِنوانے کو ضروری سمجھتے ہیں، میں ایسے لوگوں سے تھوڑا زیادہ ہی محتاط رہتا ہوں-

وجہ یہ نہیں کہ اس بابرکت تبلیغ کی محنت نے انہیں کوئی غلط درس دیا ہے- بلکہ اس لئے کہ ہمارے دلوں میں اس کام اور شعائرِ دین کی عظمت کا ناجائز فائدہ اُٹھانا کسی بھی مکار و عیار انسان کے لئے قدرے آسان ہے-
پاکستان میں موجود تبلیغی جماعت، جماعتِ اسلامی، تنظیمِ اسلامی یا دعوتِ اسلامی جیسی کسی بھی مذہبی تنظیم کو مطلقاً غلط یا بُرا کہنا ازخود نیم گمراہی اور ذاتی غفلت کی نشانی ہے- لیکن اُمت کے عظیم مقاصد کی محافظ ان تنظیموں میں چُھپے مفاد پرستوں سے ہوشیار رہنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے- میرے مشاہدے میں بہت کم ہی لوگ اس بات کا ادراک رکھتے ہوئے اپنے معاملات سرانجام دیتے ہیں- دیندار حلقوں میں حقوق العباد کی اہمیت پر دو رائے نہ ہونے کے باوجود کچھ ایسی کمی شاید مسلسل رہی ہے کہ جس کی وجہ سے حقوق العباد اور حقوق اللہ کے تقابل کی بحث اب تک زندہ ہے- جس طرح کسی شہر کے لوگوں میں موجود صبر و تحمل اس شہر کے ٹریفک کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے، اسی طرح کسی گروہ یا قوم کے اخلاق و کردار اس میں رائج آپس کے لین دین اور دیگر معاملات کو دیکھ کر لگانا کافی معتبر ہے-

درس، تدریس، اشاعت اور ذرائع ابلاغ میں وسعت اور مسلسل ترقی کے باوجود معاشرے میں اقدار کا پروان نہ چڑھ پانا کسی سنگین مسئلہ کی طرف نشاندہی کرتا ہے- میری نظر میں ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ اہلِ مذہب کی جانب سے اپنے لئے لی جانے والی "رخصت" میں گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ دیکھا گیا ہے- لہٰذا اگر داعیانِ دین اپنے لئے رخصت اور دوسروں کے لئے عزیمت کا انتخاب ترک کر دیں تو ایک بڑی اور فوری بہتری دیکھنے میں آ سکتی ہے-
اخلاق و عمل کے میزان خصوصاً داعیانِ اسلام کے لئے سخت تر ہیں کیونکہ یہ دوسروں کو "عملاً" اُس دین کی طرف بُلاتے ہیں جس پر وہ خود عمل پیرا ہیں نا کہ اُس دین کی طرف جو اللہ نے قرآنِ مجید اور نبوت کے ذریعے اُمت کو عطا فرمایا ہے- یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے مجموعی کردار کے درمیان فرق کو بڑھتا دیکھ کر دین سے نامانوس لوگ خوفزدہ اور بیزارگی سے دوچار ہوجاتے ہیں- قرآنِ کریم کے اصول "لا اکراہ فی الدین" کی روح ہی یہ ہے کہ دعوتِ دین کردار کے ذریعے دی جانی چاہیے- انتہائی فکر کی بات یہ ہے کہ آج دعوت الی اللہ دیتے ہوئے بھی داعیان حضرات طنز و طعن سے نہیں چُوکتے، چہ جائیکہ ان اخلاقی برائیوں کے خاتمے کے لئے دعوت دیتے-

یہ بھی پڑھیں:   دورنگی چھوڑ کر یک رنگ ہوجا - انصرمحمودبابر

اسی طرح قرآن کریم کا ایک دوسرا اصول کہ" لم تقولون ما لا تفعلون" بھی نظر انداز ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ جہاں لوگ اپنے روز مرہ کے معاملات میں اپنی دعوت (یا دعوے؟) سے پورے معاشرے کو بدل دینا چاہتے ہیں جبکہ وہ خود اپنے عمل سے رشتہ داروں اور اہل و عیال کو ان حسنات سے محروم رکھتے ہیں- سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کسی انسان کا دل ایسے داعی کے لئے آخر کیوں کھول دے جو مطلوبہ طریقے سے ہٹ کر دعوت دینے پر مُصِر ہے؟ ایک صاحب جنہوں نے اپنے دو ہی تعارف بنا رکھے تھے (مولانا طارق جمیل اور جنید جمشید شہید) انہوں نے بذریعۂ شیریں دہنی اپنی شادی سے چند دن قبل جہیز کا مطالبہ کچھ اس مہارت سے کیا کہ بڑے بڑے دنیادار بھی شرما جائیں- ان کے اس طرزِ عمل سے خاندانوں کو جو نقصان ہوا سو ہوا، لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل اس دائمی سبق کی صورت میں ہمیں یہ مِل گیا کہ بھئی یہ نہ دیکھو کوئی کیا "کہہ" رہا ہے، بلکہ نظر اس بات پر رکھنی چاہئے کہ وہ "کر" کیا رہا یے-
ان خیالات کو دردِ دل اور ذہنی کشمکش کے نتیجے میں واضح کرنے کا مقصد محض یہ یاددہانی ہے کہ کسی شخص کے دیندار حلقوں میں جُڑ جانے سے اُس پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ اپنے معاملات میں عقل اور تجربہ کو مستقل بروئے کار لانا چاہیے-
واللہ اعلم