یہ کاغذ پر بھی عورت کا بدن آدھا بناتے ہیں- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے بیان میں ایک جملہ کہا ہے۔ ’’اب پاکستان میں عام آدمی سر اٹھا کے چلے گا۔‘‘ ان کی خدمت میں فیض کا ایک شعر عرض ہے۔

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

مریم نواز سیاسی معاشرت میں بھی بہت اچھے بیانات دیتی ہیں۔ کبھی کبھی ایک تخلیقی رنگ بھی ان کی باتوں میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ ان سے ابھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ملاقات تو نواز شریف سے بھی نہیں ہوئی۔ ’’لوگو تمہیں نواز شریف یاد آئے گا‘‘ مریم نواز یہ بھی بتائیں کہ کیا خاص بات نواز شریف کے دور حکومت میں ہوئی ہے۔ انہیں اور کسی نے نہیں عدالت نے نااہل کیا ہے۔ جس پر ان کا یہ جملہ بہت مقبول ہوا ’’مجھے کیوں نکالا‘‘؟ اس کے بعد کئی ٹی وی چینلز پر ایک پسندیدہ گیت کا یہ مصرع گنگنایا جاتا رہا

تم کو ایک شخص یاد آئے گا

میری ملاقات صرف کلثوم نواز سے ہوئی تھی

٭٭٭

پنڈی اسلام آباد سے ایک اہم اورتخلیقی مزاج کی شاعرہ رفعت وحید لاہور آئیں تو میرے گھر بھی تشریف لائیں۔ وہ برادرم مقصود چغتائی کے کسی سیمینار میں آئی تھیں جہاں انہیں ایوارڈز تقسیم کرنا تھے اور اُن کی کسی سہیلی کی سالگرہ بھی تھی۔ اُن کے کچھ شاندار اشعار کالم میں شامل کر رہا ہوں۔

خورشید نما ہو کے بھی تابندہ نہیں ہوں

میں سانس تو لیتی ہوں مگر زندہ نہیں ہوں

ہو کے بھی نہیں ہوں میں نہ ہو کے بھی رہوں گی

پھر دُکھ یہ مجھے کیوں ہے کہ پائندہ نہیں ہوں

وہ کھیت ہوں جس کھیت میں اُگتے ہیں خیالات

میں پانچ زمینوں کی نمائندہ نہیں ہوں

آدم سے مرا عشق مرا جُرم تھا لیکن

رفعت میں گنا ہگار ہوں شرمندہ نہیں ہوں

٭٭٭

ہماری ایک بہت زبردست اداکارہ اور ہیروئن مہوش حیات نے نامور بھارتی اداکار امیتابھ بچن کو للکارا ہے۔ بچن نے ایک فلم میں پاکستانی کا کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہمارے کسی سیاسی اداکار یا اداکارہ کو یہ ہمت نہیں ہوئی۔ خوبصورت اداکارہ کو پاکستانی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ یہ اپنے میدان میں اُن کی اعلیٰ کارکردگی کا ثبوت ہے۔

٭٭٭

ہم فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر اقبال چودھری کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اُن کی مقبولیت اور اعلیٰ کارکردگی کا یہ کمال ہے کہ وہ 14 ویں دفعہ منتخب ہوئے ہیں۔ انہیں دوستوں نے یہ پیشکش بھی کی تھی کہ وہ فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے لیے مستقلاً منتخب صدر بن جائیں۔ اقبال چودھری بہت دوست آدمی ہیں۔ کوئی آدمی کسی ذمہ داری کے لیے دوسری بار بھی منتخب ہو پائے تو لائق تحسین ہوتا ہے۔ اقبال چودھری نے ریکارڈ قائم کر دیا ہے جسے توڑنا کسی کے لیے بھی ناممکن ہو گا۔

٭٭٭

مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے دوران صدر آصف زرداری نے سفید کپڑے کی ٹوپی پہنی ہوئی تھی جو انہیں اچھی لگ رہی تھی۔ اُن سے گزارش ہے کہ وہ مستقلاً کپڑے کی ٹوپی پہنا کریں۔

ٹی وی چینلز نے بار بار یہ پروگرام دکھایا۔ اینکر پرسن نے بڑی دردمندی سے پروگرام آگے بڑھایا۔ ایک پولیس وین نے ایک موٹر سائیکل کو ہٹ کیا۔ مبینہ طور پر اس میں سوار پولیس اہلکار نشے میں دُھت تھے۔ موٹر سائیکل پر سوار ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا اور دو نوجوان زخمی ہو گئے۔ ایک شہری نے سرکاری کلاشنکوف اٹھاکر پولیس افسر کو دی مگر متاثرین کو شک ہے کہ پولیس اہلکار اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی تک کوئی گرفتاری بھی عمل میں نہیں آئی۔ اپنے پیٹی بھائیوں کو دکھاوے کے طور پر گرفتار کیا گیا مگر وہ صبح حوالات میں نہیں تھے۔ لوگوں نے مشیر پنجاب برادرم اکرم چودھری سے بھی اس سلسلے میں بات کی۔ انہوں نے توجہ سے بات سنی اور کہا کہ ہم اس واقعے میں انصاف کروائیں گے۔

چودھری صاحب نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں باقاعدگی سے آتے ہیں وہ برادرم شاہد رشید کے دوست ہیں۔ وہ بہت سرگرم ہیں۔ خاص طور اتوار بازاروں کے لیے ان کی توجہ بہت گہری ہے۔ میں نے اتنا کام کرنے والا کوئی صوبائی وزیر بھی نہیں دیکھا۔ اسلم اقبال کے لیے عمران خان کی گواہی بہت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ تازہ تازہ سیاست میں داخل ہوئے تھے تو ایک اخبار کے مینجر ملک لیاقت کے پاس آیا کرتے تھے۔ میری بھی ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ اب تو ان سے ملاقات کم کم ہوتی ہے۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ ایک نوجوان کے قتل ہونے اور دو نوجوانوں کے زخمی ہونے کے واقعے کو سنجیدگی سے لیں۔ وہ میڈیا پر آئے تھے اور یقین دہانی کرائی تھی۔