گرمیوں کی چھٹیاں اور بچے - فیصل اقبال گوپےراء

پنجاب سمیت پاکستان کے بہت سے علاقوں میں گرمیوں کی چھٹیاں لگ بھگ تین مہینے ھوتی ھیں۔ یہ ایک لمبا عرصہ ہے۔ بہت سے والدین تو ابھی سے سوچ سوچ کر ہلکان ہیں کہ تین مہینے ایسی "آفتوں" کو کیسے سنبھالیں گے ؟ البتہ بہت کم والدین ہی اس سے آگے کچھ سوچتے ہیں کہ کرنا کیا چاھیئے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ اگر کوئی پلانگ کرلے بھی لے تو زیادہ سے زیادہ یہی ھوگا کہ فلاں اور فلاں جگہ ٹیوشن بھیج دیں گے ۔

پریکٹیکلی آجکل کے والدین چھٹیوں میں بچوں کا موبائل ،ٹیبز اور ٹی وی کے ذریعے "دھیان" بٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بچوں کا دھیان تو بٹ جاتا ھے شاید لیکن نظر نہ آنے والے ایسی مسائل جنم لیتے ہیں جنکا احاطہ کرنا نا ممکن ہے۔ ظاہر ھے سخت گرمی اور دھوپ میں باہر کھیلنے دینا بھی کوئی اچھا آپشن نہیں ۔ اوپر سے ان اسکولوں کی تربیت سب کے سامنے ہے ۔ماں باپ ،رشتوں کا کوئی لحاظ کم ہی دیکھا گیا ہے۔دینی تعلیم وتربیت کا تو یہ حال ھے کہ ناظرہ تک پڑھنا نہیں آتا . ایسے میں راقم کی رائے ھے کہ ان تین ماہ کا بہترین استعمال یوں کیا جاسکتا ہے کہ بچے کو کسی قریبی مدرسے میں بھیجا جائے ۔روٹین بھی بنی رہے گی ، روحانی ماحول اور اسلامی تربیت بھی ھوسکے گی ،اور قرآن کا کچھ حصہ حفظ بھی کرلے گا ۔بلکہ ابتسام الہی ظہیر صاحب فرماتے ہیں کہ انہوں نے قرآن تب حفظ کیا جب وہ ایف ایس سی کے امتحان سے فارغ ھوئے اور یونیورسٹی میں داخلے اور رزلٹ کا انتظار تھا۔سبحان اللہ ۔ ایک سال کی چھٹیوں میں ناسہی لیکن وہ تین سال بچوں کی گرمیوں کی چھٹیوں کا اگر ایسا استعمال کیا جائے تو امید ھے بچہ حافظ بھی بن جائے گا اور شاید کچھ مزید دینی علوم ،عربی لغت وغیرہ سیکھ جائے۔ اب تو ویسے مسجدوں میں جوحال ھے، کہ امام اگر بھول جائے تو پیچھے قرآن بتانے والا نہیں ملتا ، دل کرتا ھے کہ منت کرکے کچھ والدین سے انکے بچے مانگ لوں کہ کم ازکم رٹا تو لگ ہی جائے قرآن کو ۔یہ اسکول کا سمر ویکیشن کا کام نرا ٹائم پاس ھے ۔ویسے یونیورسٹی کے طالب علم بھی اپنی گرمیوں کی چھٹیاں ایسے مثبت انداز میں گزار سکتے ۔