نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے- محمد ابوبکر

متحدہ ہندوستان سے پاک و ہند کی تقسیم کی بنیادی وجہ دو متضاد نظریات کے حامل لوگوں کا ایک خطے میں جمع ہونا تھا۔ ایک قوم ہندووں کی شکل میں تھی، جو اپنا الگ مذہبی تشخص اور رسم و رواج رکھتے تھے۔ دوسری قوم مسلمان تھے، جو اِسلامی شعائر اور اِسلامی تہذیب وتمدّن کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ یہی دو قومی نظریہ پاک و ہند کی تقسیم کا سبب بنا۔

بر صغیر کے مسلمان انگریز کے دورِ حکومت میں دوسری اقوام کے ساتھ غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے۔ وہ آزادی و خود مختاری کے متلاشی تھے لیکن ہندو اکثریت کاغلبہ صاف نظر آرہا تھا۔ بڑے غور و فکر کے بعدمسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ ایسے علاقوں میں، جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، ایک مسلم مملکت قائم کی جائے۔ یہ سوچ رفتہ رفتہ مضبوط ہوئی اور بالآخر ایک عظیم تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ جس کی قیادت سر سید احمد خان رحمہ اللہ، علامہ اقبال رحمہ اللہ اور قائد اعظم رحمہ اللہ جیسی باوقار ہستیوں نے سنبھالی۔ گویا کہ پاکستان ایک ٹھوس نظریے کی بنیاد پہ معرضِ وجود میں آیا۔ پاکستان کے نظریے کی اساس دین اسلام ہے، جو مسلمانوں کی زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی کرتا ہے۔ اسلامی نظام قرآن مقدس اور سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر استوار ہے۔ یہی نظام نظریہ پاکستان ہے۔ وہ بطل حریت جس نے مسلمانان برصغیر کے اندر ایک محفوظ مقام حاصل کرنے کی سوچ بیدار کی اور اَپنی زندگی کا وافر حصہ اس مقصد کو پانے کے لیے خرچ کر ڈالا۔ انہیں آج پاکستانی قوم بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ گاندھی نے بانی پاکستان سے پوچھا کہ: ”تم ایگ الگ خطے کا مطالبہ کرتے ہو، تمہارے پاس کوئی آئین و دستور ہے؟ جس کو تم اپنے ملک میں نافذ کرسکو“۔

تو بانی پاکستان نے جواب دیا کہ: ”مسٹر گاندھی! آئین و دستور کی فکر تو تمہیں کرنی چاہیے۔ میرا آئین تو 14 صدیاں پہلے میرا نبیﷺ قرآنِ حکیم کی صورت میں مجھے دے گیا ہے۔ ہم اس آئین کو اپنے خطے میں نافذ کریں گے“۔ تو بانی پاکستان ، پاکستان میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام کے عملی نفاذ کے خواہاں تھے۔ علاّمہ محمداقبال رحمہ اللہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے پاکستان کا نقشہ پیش کیاتھا۔ علامہ اقبال رحمہ اللہ دستور پاکستان اور نظریہ پاکستان کو اِن الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: جن کا ترجمہ ہے (تو نہیں جانتا کہ تیرا آئین کیاہے۔ تیرا نظریہ کیا ہے۔ تیرے استحکام کا سبب کیا ہے؟ تیرا آئین و نظریہ وہ مقدس کتاب ہے۔ جس کی تعلیمات کو نافذ کرنے سے وہ لوگ جو بتوں کے پجاری تھے، لوٹ مار کرنے والے تھے اور شرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے تھے، زمانے کے امام اور مقتدی ٹھہرے) علامہ اقبال رحمہ اللہ نے بر صغیر میں واحد قوم کے تصور کو مسترد کیا اور مسلم قوم کی جداگانہ حیثیت پر زور دیا۔ تومصور پاکستان بھی الگ ریاست میں اسلامی نظریات کے عملی نفاذ کی نیک شگونی رکھتے تھے۔ جس کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے بانی پاکستان کے ہاتھوں کو مضبوط کیا۔ دنیا بھر کے تمام ممالک میں سے صرف دو ملک ایسے نظر آتے ہیں، جن کی بنیاد و اساس کسی خاص مذہب اور نظریے پہ رکھی گئی ہے۔

ان میں سے ایک ملک اسرائیل ہے، جس کی بنیاد خالصتاً یہودی نظریات پہ رکھی گئی۔ دوسرا ملک وطن عزیز پاکستان ہے جس کی بنیاد خالصتًا اسلامی نظریات پہ رکھی گئی ہے۔ آج شاید ہم نئی نسل کو اِس بات کا اندازہ نہ ہوگا کہ اِس خطے کے حصول کے لیے کتنی لازوال قربانیاں دی گئیں۔ کتنی ماو ں، بہنوں، بیٹیوں کی عزت وناموس کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ آزادی کا یہ سفر پھولوں کی سیج پہ نہیں بلکہ کانٹوں کی باڑھ پہ طے ہوا تھا۔ منزل ِمقصود تمام مسلمانانِ ہند کی یہ تھی کہ ایک فلاحی ریاست کاقیام عمل میں لایا جائے، جس میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں نظریہ پاکستان کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ بالآخر خالقِ ارض و سما نے لاکھوں شہدا کی قربانیوں کے صدقے ایک مستقل ریاست عطا فرمائی۔نظریہ پاکستان کی بقا کی سب سے اوّل صورت یہ ہے کہ من حیث القوم ہم اپنے ملک میں قرآنِ مقدس کو سپریم لاءقرار دلوائیں اور صحیح معنوں میں اسلامی نظام کو وطن عزیز میں نافذ کرنے کے لیے عوام و خواص اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں۔ حکومتی عہدوں کی حلف برداری کے وقت اس بات کو عیاں کیا جائے کہ نظریہ پاکستان ہی بقا پاکستان ہے۔

1973،کے آئین میں دفعہ 62 اور 63 کے تحت اخلاقیات کے ضمن میں اس بات کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ ”نظریہ پاکستان ہی ریاست کی بقا ہے“ ہم اپنے تعلیمی اداروں میں ”مطالعہ پاکستان “ کو محض وقت گزاری کے لیے نہ پڑھائیں بلکہ آزاد پاکستان کی ساری صورتحال کی تصویرکشی کرکے آنے والی نسل کی تربیت کی جائے اور ان پر اس بات کو بآور کیاجائے کہ ”نظریہ پاکستان ہی بقا پاکستان کاضامن ہے“۔ پھر وہ وقت دور نہیں کہ آج جو ہماری نئی نسل میں نظریہ پاکستان کے حوالے سے فقدان پایاجاتا ہے وہ گاہے بگاہے ختم ہوجائے گا۔ اگر ان چند صورتوں کو سامنے رکھ کر ان پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تو نظریہ پاکستان کی بقاصرف ممکن ہی نہیں بلکہ یقینی ہوگی۔ آئیے! ہم سب یک جاں و یک قالب ہوکرعزمِ مصمم کریں کہ اپنے اسلاف کی نیک امنگوں اور امیدوں کو پورا کریں گے۔ بالخصوص نظریہ پاکستان کی بقا کے لیے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔