محبت کی کرشمہ سازی - محمد رضی الاسلام ندوی

" میں نے چھ سال سے روٹی نہیں پکائی ہے _" میری اہلیہ ایک دن معلوم نہیں کس ترنگ میں تھیں کہ ان کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا _
" کیا مطلب؟ پھر یہ روزانہ دو وقت روٹی کہاں سے آجاتی ہے؟ " میں نے سوال کیا _ " پہلے میری ایک بیٹی پکاتی تھی ، پھر دوسری بیٹی نے پکایا ، اب تیسری بیٹی پکاتی ہے _" انھوں نے وضاحت کی _ میں نے کہا : " بیٹیاں تو اللہ کو پیاری ہوگئیں _ یہ کہیے ، پہلے ایک بھتیجی نے پکایا ، پھر دوسری بھتیجی نے ، اب بہو پکارہی ہے _" " نہیں ، میں نے ہر ایک کو بیٹی سمجھا ہے _ یہ میری بیٹیاں ہیں _ " یہ کہتے ہوئے وہ آب دیدہ ہوگئیں تو میں نے بھی مزید چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا _

اللہ تعالٰی نے ہمیں دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا _ بیٹا الحمد للہ حیات ہے ، بیٹیاں اللہ کو پیاری ہوگئیں _ ایک پیدائش کے دو دن بعد ، دوسری پیدائش کے دوران میں _ تینوں مرتبہ آپریشن ہوا _ پھر آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا _ اہلیہ جوڑوں کے درد میں ایسا مبتلا ہوئیں کہ بستر پکڑ لیا _ اس سے کچھ آرام ہوا تو ایک بار رکشے اور یکّے کی ٹکّر میں رکشے سے کود کر سڑک پر لیٹ رہیں ، جس سے ریڑھ کی دو ہڈّیاں پچک گئیں اور چلنا پھرنا مشکل ہوگیا ، کچھ دنوں کے بعد مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے گئیں ، جہاں ٹھوکر لگنے سے ایسا گریں کہ ران کی ہڈّی توڑ بیٹھیں ، راڈ پڑنے کے بعد چلنے پھرنے کے قابل ہوئیں _ میں نے اہلیہ سے سیکھا کہ اتنی تکالیف کے ساتھ صبر اور شکر کیسے کیا جاتا ہے؟
ہم علی گڑھ سے دہلی منتقل ہوئے تو وہ اپنے ساتھ اپنی ایک بھتیجی کو لے آئیں ، جس نے یہاں رہ کر ایم ، اے اور پی ، ایچ ، ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں _ یہیں انھوں نے اس کی شادی کردی _ پھر دوسری بھتیجی کو لائیں ، جس نے یہاں رہ کر ایم ، اے اور بی ایڈ کیا _ جب اس کے جانے کے آثار پیدا ہوئے تو وہ جھٹ سے بیٹے کی شادی کر لائیں _ ان کی نگاہِ انتخاب میری ایک بھتیجی پر پڑی _ چند ہی ایّام میں پیغام ، منگنی ، تاریخ اور نکاح سب مراحل مکمل ہوگئے _

یہ بھی پڑھیں:   کانچ کی گڑیا - ماہا عابد

میری اہلیہ کا تعلق اور معاملات اپنی دونوں بھتیجیوں اور بہو کے ساتھ مثالی ہیں _ تینوں نے ان کو آرام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی _ یہ اُن پر جان چھڑکتی ہیں اور وہ اِن پر واری نیاری رہتی ہیں _ پہلے یکے بعد دیگرے بھتیجیوں نے گھر کا سارا نظام سنبھال رکھا تھا ، اب بہو سارے کام بڑی خوش دلی اور سعادت مندی سے انجام دیتی ہے _ ہمارے سماج میں ساس بہو کے جھگڑے عام ہیں _ ساس بہو کے کاموں میں کیڑے نکالتی ہے ، روک ٹوک کرتی ہے اور طعنے دیتی ہے _ بہو ساس کو خاطر میں نہیں لاتی اور اس کے آرام کا خیال نہیں رکھتی _ نندوں اور بھاوج میں بھی کھٹ پٹ رہتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے روٹھی رہتی ہیں _ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ محبت کی مٹھاس اس طرح کی تمام تلخیوں کو کافور کرسکتی ہے _محبت کی جائے تو باہم ویسا ہی تعلّق قائم ہوسکتا ہے جیسا شہد کی مکھیوں کا اپنی ملکہ کے ساتھ ہوتا ہے _ محبت کی جائے تو ویسی ہی کشش پیدا ہوگی ، جیسی لوہے کے ٹکڑوں میں مقناطیس کی طرف ہوتی ہے _محبت افرادِ خانہ کو اسی طرح مضبوطی سے جوڑتی ہے جیسے سیمنٹ اینٹوں کو آپس میں جوڑتی ہے _ ہم کسی کو محبت نہ دیں اور امید رکھیں وہ ہم سے محبت کرے گا ، یہ خام خیالی ہے _

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
" الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ ".(احمد:9198)
"مومن سراپا محبت ہوتا ہے _اس میں کوئی خیر نہیں، جو نہ محبت کرے اور نہ اس سے محبت کی جائے _"