سوال۔جواب۔ نثار موسیٰ

تجسس انسانی دماغ کاحُسن ہے اور تخلیقیت کی ماں ہے ۔انسان تجسس (Curiosity)سے وہ چیزیں دریافت کرتاہے جو حیران کن بھی ہوتی ہیں اور انسانی زندگی میں آسانی کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں ۔تجسس انسانی دماغ کو حرکت میں رکھتا ہے اور انسانی دماغ انسان کے ”جسم “ اور جسم اس کے ”ماحول “کو حرکت میں رکھتا ہے ۔

توتجسس دراصل ایک مثبت حرکت کا نام ہے اورحرکت انسان کی کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے ۔ تجسس ”پراسس“ ہے اور ” دریافت “ پروڈکٹ ہے ۔آپ کو معلوم ہے کہ تجسس دراصل ”سوال“ کا نام ہے انسانی دماغ اپنے ماحول ، فطرت اور اس کائنات میں ہمیشہ سے ایک ” تلاش “ کے سفر میں ہوتاہے ۔ یہ تلاش کا سفر اسے کبھی کبھی " تھکا " دیتا ہے تو کبھی کبھی " بنا " دیتا ہے ۔ اب اس تلاش کے سفر کا آغاز سوال کی کوالٹی پر ہوتاہے کہ ہم کس خوبی سے اپناسوال تیار کرتے ہیں ۔اگر ہم سوال کی تیاری میں کامیاب رہے اور ہم نے سوال کی ساخت پر قابو پالیا تو” جواب “ آسان ہوجاتا ہے ۔کچھ لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ سوال ہی اصل میں جواب ہوتاہے ۔وہ ایسا کیا چاہتے ہیں کہ اگر آپ کا سوال صحیح طور پر تیار کیا گیا تو آپ کا رخ اور سفر جواب ہی کی طرف گامزن ہوتا ہے ۔ مثال کے طورپر یہ سوال کہ انسان وہ کون کون سے اقدامات کرے کہ وہ ایک بہتر ، پرامن اور خوشحال،خوشیوں بھرا معاشرہ تشکیل دے سکے یا کیسے ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل آج کے انسان سے ممکن ہے ؟ یہ تو صرف ایک مثال ہے کہ آپ بے شمار ایسے تجسس بھرے سوالات اٹھاسکتے ہیں ۔ جواب سے پہلے سوال کی تیاری بہت اہم ہے ۔اس کے لیے محنت کی ضرورت ہے اور ٹریننگ کی بھی ضرورت ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   غیر ملکی نظام امتحانات - سید وقاص جعفری

ہمارے اسکولوں کو اس پر خاص توجہ دینی چاہییے کہ وہ طلبہ کو سوال کی تیاری کیسے سکھائیں ۔ ایسے سوالات جوہمارے معاشی ، معاشرتی ،سماجی ، مذہبی ، سائنسی اورتعلیمی نظاموں کو درپیش چیلنجز کا جواب ڈھونڈ کر دے سکتے ہوں۔ سوال پوچھنا ایک کلچر کا حصہ ہونا چاہییے اور تعلیمی اداروں میں ہر کورس کا آغاز چند بڑے بڑے سوالات کے کرنے سے بچوں کو اپنے دماغوں کو استعمال کرنے کا موقع ملے گا اور ہمیں تازہ تازہ افکار،نظام ،حل مل سکیں گے۔بجائے اس کے وہ دہائیوں سے تیار شدہ سوالات کے جوابات درسی کتب سے تلاش کریں۔ جو قوم ”سوالات“ سے ڈرتی ہے وہ زندگی کے خوبصورت ”جوابات “ کےلیے دوسروں کی محتاج بن جاتی ہے۔
قوم کو کامیابیوں کی معراج پر پہنچانا ہے یا قوم کو محتاج بنانا ہے فیصلہ آپ پر منحصر ہے اب ۔ اور یہ سوال کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں میں سوالات کا کلچر کیسے لاسکتے ہیں؟ سوالات مشکل ،ناممکن اور تکلیف دہ ضرور لگتے ہیں مگر انہی سوالات سے دریافت ،ایجادات اور کمال بھی ملتا ہے ۔ زندگی کے رازوں سے پردہ تبھی اٹھتا ہے جب آپ کے دماغ پر سوالات کے ”خوف“ کا پردہ چاک ہوتاہے ۔ کمال یہ نہیں ہے کہ سوال کو کیسے جواب ملتے ہیں بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ آپ اپنے جواب پر کتنے سوال اٹھاسکتے ہیں۔
کیا پھر آپ تیار ہیں "سوال - جواب - سوال کے خوبصورت سفر کیلئے ؟؟