برما سے میانمار (حصہ اول) - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد مانگٹ

برما کا نام آتے ہیں ہمارے ذہن میں جو بات ابھرتی ہے وہ ہے برمی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا ظلم ہے. یہ ظلم کئی دہائیوں سے ہو رہا ہے اور لاکھوں مسلمان اس ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور تاحال بھی یہ ظلم جاری ہے. المیہ یہ ہے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے بھی بہت کم ہیں اور آنے والے سالوں میں اس کے ختم ہونے کے امکانات بھی نظر نہیں آ رہے.

مجھے جب برما جانے کا پروگرام بنانے کا کہا گیا تو میری سب سے بڑی دلچسپی اس بات میں تھی کہ میں خود یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس ظلم و ستم کے خلاف برما کے لوگ کیا سوچتے ہیں اور برما کے دیگر علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کے خیالات کیا ہیں. 3 اپریل 2019 کو صبح 6:00 بجے رنگون ایئر پورٹ پر اترے اور امیگریشن کے لئے گئے تو میں نے دیکھا کہ بیس کے قریب کونٹر موجود تھے اور تقریبا دس منٹ کے اندر ہم سب لوگ امیگریشن سے باہر آگئے. میں نے اور عادل بٹ صاحب نے اپنا سامان لیا اور ہوٹل کی ٹیکسی کو ڈھونڈنے لگے اس دوران ہوٹل کی ٹیکسی کا ڈرائیور ہمارے ناموں کے کارڈ لیے آگیا اور ہم اس کے ساتھ بیٹھ کر Lotte ہوٹل کی طرف چل پڑے. ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کا فاصلہ تقریبا 20 منٹ کا تھا. کافی کھلی سڑک تھی. حیرانی والی بات یہ تھی کہ ساری ٹریفک سڑک کے دائیں طرف چل رہی تھی جبکہ اکثر گاڑیاں دائیں طرف ڈیراونگ سیٹ والی تھی. عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی انگریزوں نے حکومت کی ہے وہ وہاں پر گاڑیاں ہمیشہ سڑک کے بائیں طرف چلتی ہیں لیکن یہاں بالکل مختلف تھا. جو اس بات کا ثبوت تھا کہ برما کے لوگوں نے انگریزوں کی اس روایت کے خلاف کام کیا ہے حالانکہ اس علاقہ کے پاس جتنے بھی ممالک ہیں جن میں انڈیا پاکستان بنگلادیش تھائی لینڈ ان سب میں لوگ سڑک کے بائیں طرف گاڑی چلاتے ہیں.

برما کی سرحد چین سے ملتی ہے وہاں پر گاڑیاں سڑک کے دائیں طرف چلتی ہیں شاید اسی وجہ سے برما نے بھی اس چیز کو اپنایا ہے. ہوٹل جو کے فائیو سٹار ہے تھا اس کے اندر داخل ہونے والے گیٹ پر کوئی چوکیدار بھی نہیں تھا بلکہ گیٹ بھی نہیں لگا ہوا صرف اندر داخل ہونے کا راستہ ہے. اور جب ہم ہوٹل کے دروازے پر پہنچے تو وہاں پر بھی کوئی سپاہی یا سکورٹی کا آدمی نہیں تھا بس صرف لڑکے تھے جو مسافروں کا سامان اٹھا رہے تھے تھے. صرف ایک چیز وہاں پر تھی اور وہ تھا سکینر. اس کے اندر ہر ایک بیگ کو اسکین کیا جاتا تھا. چند سال پہلے یہ سکینر بھی نہیں تھے. کسی بھی طرح کا کوئی بھی آدمی سیکورٹی کے نقطہ نظر سے موجود نہیں تھا. پورے راستے میں کسی بھی جگہ پر کوئی بھی پولیس کی چیک پوسٹ بھی نہیں تھی بلکہ میں چار دن رہا ہوں میں نے کسی بھی جگہ پر کوئی بھی چیک پوسٹ نہیں دیکھی. اور نہ ہی کسی بھی ہوٹل یا کسی بڑی دکان یا کسی بڑی فیکٹری کے گیٹ پر سیکورٹی کے نام پر کسی طرح کا کوئی بھی سٹاف دیکھا.
بلکہ اس دوران میں صرف ایک جگہ پر جہاں پر کافی رش تھا دو ٹریفک پولیس کے لوگ تھے. ورنہ پورے شہر میں کسی بھی جگہ کسی بھی وقت کوئی بھی پولیس کی گاڑی یا ان کی موٹر سائیکل یا ان کا ٹرک وغیرہ نظر نہیں آیا. اور ہم نے یہ بات آپس میں ڈسکس بھی کی. عادل بٹ صاحب کی بھی یہی آبزرویشن تھی.

پورے شہر میں کسی بھی جگہ پر ہمیں حفاظتی نقطہ نظر سے کوئی بھی چیز نظر نہیں آئی یہ بات ہمارے لئے کافی عجیب تھی. کیونکہ پاکستان کے اندر تو یہ قانون ہے کہ آپ کو اپنی دکان کے سامنے مسلح شخص بٹھاناپڑتا ہے ورنہ پولیس والے اعتراض کرتے ہیں. اور ہمارے فائیو سٹار ہوٹل کے گیٹ پر دس آدمی اور ان کے ساتھ ایک کتا بھی ہوتا ہے اس کے باوجود بھی جب ہم اندر جاتے ہیں تو وہاں بھی سکینر سے گزرنا پڑتا ہے . ہم ہوٹل میں آ گئے ہوٹل بہت بڑا بہت ہی خوبصورت تھا یہ ہوٹل ایک جھیل کے کنارے پر ہے اور میرے کمرے کی کھڑکی جھیل کی طرف تھی. بہت ہی خوبصورت نظارہ تھا. یہ کمرہ کوئی زیادہ ہی بڑا تھا اس میں ایسی ایسی چیزیں تھیں جس کا تصور بھی نہیں کر سکتے. اس کا کموڈ مکمل طور پر الیکٹرونک تھا. صفائی ستھرائی کا کام خودی کرتا تھا یہ میں نے زندگی میں پہلا کموڈ دیکھا تھا.
نقشے کو غور سے دیکھنے سے آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ بحر ہند سے نکلنے والی ایک خلیج جس کو خلیج بنگال کہتے ہیں سری لنکا سے شروع ہوکر ہندوستان کے مشرقی حصے اور بنگلہ دیش تک اور دوسری طرف برما کے سب سے نچلے علاقے تک پھیلی ہوئی ہے.

یعنی اس خلیج کے ساتھ تیین ممالک کی سرحدیں لگتی ہیں ہندوستان بنگلہ دیش اور برما. برما کا شمالی حصہ تبت سے ملتا ہے اور جنوب میں یہ تھائی لینڈ تک پھیلا ہوا ہے. اس کے مشرق میں لاؤس اور چین کی سرحد ہے اور مغرب اور شمال میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد ہے. اور جنوب میں تھائی لینڈ واقع ہے. اس کی سرحد کی لمبائی تقریبا پانچ ہزار آٹھ سو کلومیٹر ہے جو کہ کافی طویل ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لمبائی میں زیادہ ہے اور چوڑائی میں زیادہ نہیں ہے. رقبہ تقریبا پونے سات لاکھ مربع کلومیٹر ہے اور آبادی تقریبا چھ کروڑ کے قریب ہے. پاکستان کا رقبہ نو لاکھ مربع کلو میٹر کے قریب ہے اور آبادی بیس کروڑ سے زیادہ ہے اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ رقبے کے لحاظ سے اس ملک کی آبادی کم ہے. اس سے پہلے کہ میں آپ کو اس کے موجودہ حالات بتاؤں. میں یہ چاہوں گا کہ آپ کو اس کی تاریخ بتاؤں. تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس کو آباد کرنے والے لوگ تبت سے آئے تھے. اور وہ خاص قوم تھی جس کی وجہ سے اس علاقے کا نام برما پڑ گیا تھا.
برما کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتاتھا . ایک کو اپر برما کہتے تھے اور دوسرے کو لوئر برما کہتے تھے.

یہ بھی پڑھیں:   افغانستان کا مستقبل اور مفادات کی جنگ

اس علاقے میں کب لوگ آباد ہوئے اور وہ کون لوگ تھے اس کی بہت تفصیل تو نہیں ملتی. یہاں پر بہت پرانی اشیاء ملیں ہیں جس سے یہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ یہ علاقہ ایک قدیم تہذیب کا قدیم علاقہ مانا جا سکتا ہے. یہ بات آپ کے لیے بڑی ہی دلچسپی کی بات ہوگی قبلائی خان جس نے بہت سارے علاقے فتح کئے اور اس کا تعلق چین سے تھا اس نے برما کو بھی فتح کیا تھا اور یہ بات تیرہویں صدی کی ہے. سب سے دلچسپ واقعات قبلائی خان کی اس علاقہ پر چڑھائی ہے. اس نے تین دفعہ اس علاقہ کے بادشاہ کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنے آپ کو سرنڈر کر دے. لیکن اس نے تین دفعہ انکار کیا. بالآخر قبلائی خاں نے حملہ کر دیا اور اپر برما پر قبضہ کرلیا اور برما کا بادشاہ لوئر برما کی طرف چلا گیا. یہ قبضہ قبلائی خان کی موت تک رہا. بعد میں یہاں کے لوگوں نے اپنی بادشاہت کو خود ہی تقسیم کرلیا اور اپر برما اور لوئر برما کے نام سے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی اپنی حکومتیں قائم کرلیں. سولہویں اور سترہویں صدی میں جب یورپ کے ممالک نے ہندوستان اور اس سے ملحقہ ملکوں پر حملہ کرنے شروع کیے اور ان پر قبضہ کرنے شروع کئے تو اس دوران پرتگیزیوں نے برما پر بھی حملہ کیا. لیکن اس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے. مقامی لوگوں نے ان کا سخت مقابلہ کیا اور اس طرح سے ان کو یہاں سے جانا پڑا. جب کہ ہندوستان میں ان کو کافی حد تک کامیابی ہو گئی تھی... کون بہادر نکلا.؟

اٹھارہویں صدی میں چین کے لوگوں نے ایک دفعہ پھر اس علاقے کو اپنے قبضے میں کرلیا اور تقریبا سو سال سے زیادہ تک اس علاقے پر اپنا قبضہ رکھا. اور پھر وہ وقت آیا جب 1824 کے اندر انگریزوں نے اس علاقے کے اوپر قبضہ کیا اور یہ ان کا قبضہ 1948 تک برقرار رہا. ان کے دورے حکومت پر تفصیل سے بات اگلی قسط میں ہوگی. اس طرح سے اگر ہم برما کی تاریخ کو دیکھیں تو اس کی تاریخ میں بہت دلچسپ باتیں ملتی ہیں. برمی دنیا کی پہلی قوم ہے جس نے باقاعدہ چاول کی کاشت کی اور اس کی تجارت کی اور یہ واقعہ بہت ہی پرانا ہے. اس علاقہ میں میں بڑی سلطنت کے قیام سے پہلے شہری سلطنتوں کا کام شروع ہوا تھا جن کو ہم سٹی اسٹیٹ کہہ سکتے ہیں. برما ان علاقوں میں ایک ہے جہاں پر سب سے پہلےسٹی اسٹیٹس قائم ہوئی. برما کی حیثیت اس لحاظ سے بھی بہت اہم رہی ہے کہ یہ چین سے تجارت کے لیے ایک گزرگاہ کے طور پر بھی کام کرتا تھا. اگر آپ نقشے میں دیکھیں تو جہاں پاکستان کے جنوب سے شمال کی طرف جائیں تو بحرہ عرب سے ہمیں چین کی سرحد تک جانے کے لیے پاکستان سے گزرنا پڑتا ہے.

اسی طرح خلیج بنگال سے اگر آپ چین جانا چاہئیں تو برما سے گزر کر ہی آپ چین تک پہنچ سکتے ہیں. دونوں کے اوپر چین ہی موجود ہے. چین کی ہمیشہ سے دلچسپی اس بات میں کل بھی تھا اور آج بھی ہے کہ وہ ان راستوں کے استعمال کرتے ہوئے سمندر تک پہنچ جائیں. یہ بات آپ کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں گی جہاں پر پاکستان کے اندر چین سی پیک کے نام سے ایک سڑک بنا رہا ہے جو اس کے مغربی حصہ کو سمندر سے ملائے گی. وہیں پر وہ برما کے اندر بھی ایسی ہی کارروائی کر رہا ہے جس سے اس کو اپنے جنوبی حصے کو سمندر سے ملاءے گی.یہ راستہ صدیوں سے موجود ہے. جیسے پاکستان میں شاہرہ ریشم. برما کا علاقہ صدیوں سے چین سمندر تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتا آ رہا ہے. اس کی لمبائی تقریبا 1154 کلومیٹر ہے. سڑک پہلے سے موجود ہےاور اب اس کو بڑاکیا جارہا ہے جیسے پاکستان میں شاہراہ قراقرم کی تعمیر کی جا رہی ہے. اس طرح چین صرف پاکستان کے راستے سے سمندر تک نہیں جائے گا بلکہ اس کو برما کا راستہ بھی میسر ہوگا. برما کا مستقبل چین سے وابستہ ہے. یہاں پر اس کو منی چائنا کہا جانے لگا ہے. اس کی تفصیل اگلی اقساط میں بیان کئے جائیں گے لیکن یہ یاد رہے چین اپنے پاؤں بہت احتیاط سے پھیلاتا ہے اور مضبوطی سے رکھتا ہے. اور بندوق کی بجائے ڈالر سے کام لیتا ہے. پہلے زمانوں میں قبلائی خان طاقت کے زور پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اب کے دور میں یہ قبضہ ڈالر کے زور پر کیا جا رہا ہے. چین کے توسیع پسندانہ عزائم کچھ نئے نہیں ہیں.

آج 6 اپریل 2019 کو رنگون شہر کی سیر کا پروگرام بنایا تو یہاں کی مشہور عمارتوں کے متعلق پتہ کیا تو پتہ چلا کہ جو بھی لوگ رنگون کی سیر کرتے ہیں وہ ان عمارتوں کو ضرور دیکھنے جاتے ہیں جو انگریزوں نے انیسویں صدی کے آخر میں اور بیسویں صدی کے شروع میں اپنے دور حکومت میں بنائی تھیں. ان کی طرز تعمیر بہت مختلف ہے. بڑی بڑی بلڈنگزمیں ہائی کورٹ کی عمارت سیکرٹریٹ کی عمارت، اسٹرینڈ ہوٹل سٹی ہال کے علاوہ بھی بے شمار عمارتیں ہیں. طرز تعمیر بالکل ویسا ہی ہے جیسا ہمارے ہاں لاہور کے اندر انگریزوں کے دور کی بنائی ہوئی عمارتوں کا ہے. آج کی اس تحریر میں میں آپ کو برما میں انگریزوں کی آمد اور پھر یہاں سے روانگی جو کہ تقریبا ایک سو بائیس سال پر محیط ہے کے متعلق بتانا چاہوں گا. شہر کی پلاننگ میں بھی انگریزوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے. پرانے علاقے کو چھوڑ کر جو بھی نیا علاقہ ہے وہ باقاعدہ پلاننگ کے تحت بنایا گیا ہے. بہت بڑے بڑے چوک رکھے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انگریزوں نے یہاں پر بھی اپنے آثار ان عمارتوں کی شکل میں چھوڑے ہیں. اگر آپ برما کے نقشے کو غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ برما کی مغربی سرحد جو ہندوستان کے ساتھ لگتی ہے اس علاقہ کے اندر منی پور ناگالینڈ آسام اور میزورام کے علاقے ہیں. اٹھارہ سو چوبیس سے پہلے کلکتہ تک انگریز پہنچ چکے تھے اور اس وقت برما میں ایک طاقت ور بادشاہت تھی.

یہ بھی پڑھیں:   67 لاکھ 50 ہزارکروڑ نہ لینا! یہ کیسی دردمندی ہے؟ صادق رضا مصباحی

برما کے بادشاہوں نے منی پور آسام وغیرہ علاقوں پر قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا اور کچھ حصے پر قبضہ کر بھی لیا. یہ بات انگریزوں کے لئے کافی تکلیف دہ تھی کیونکہ اس سے ان کا چین کا راستہ رک جاتا تھا اور انہیں ایک بڑی مارکیٹ سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا تھا. اس موقع پر انگریزوں نے آسام اور منی پور میں ان لوگوں کی امداد کرنا شروع کر دی جو برما کی فوجوں کے خلاف لڑ رہے تھے. یہ لڑائی بڑھ گئی اور 1824 کے اندر یہ لڑائی بھرپور طریقے سے شروع ہو گی دو سال تک ایک جنگ ہوئی اس میں 40 ہزار سے زائد انگریزوں نے اپنے ہندوستانی سپاہیوں کے ساتھ اس جنگ میں حصہ لیا اور ہندوستان کی تاریخ میں انہوں نے سب سے زیادہ نقصان یہاں اٹھایا. 15000 انگریز اور ہندوستانی سپاہی اس جنگ میں مارے گئے برمی کتنی تعداد میں مارے گئے اس کا حساب کسی کو معلوم نہیں . 1826 میں جب یہ جنگ ختم ہوئی تو ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت انگریزوں کے کچھ لوگ برما میں رہیں گے لیکن برما کی آزادی کو پامال نہیں کیا گیا. بلکہ جرمانے کے طور پر دس لاکھ پاؤنڈ برما کو ادا کرنے کے لیے کہا گیا. یہ رقم اشیا کی صورت میں دینا تھی. یہ بات برما کے لیے کافی شرمندگی کا باعث تھی. لیکن حکومت کمزور ہو چکی تھی بہت زیادہ نقصان ہو چکا تھا انگریزوں کے پاس تو پ کے بعد راکٹ بھی آگئے تھے اور برما کے لوگوں کے لیے ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں تھا.

اٹھارہ سو باون میں انگریزوں نے پھر حملہ کیا اور بالآخر اٹھارہ سو باسٹھ میں انگریزوں نے برما کو اپنے ساتھ ملا لیا. پھر تیسری جنگ 1885 میں ہوئی اور 1887 میں برما کو ہندوستان کا ایک صوبہ بنا لیا گیا اور یہاں پر براہ راست حکومت کرنا شروع کر دی. اور یہ حکومت 1948 تک قائم رہی.
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت جتنے بھی غیر برمی لوگ برما میں رہ رہے ہیں جن میں مسلمان بھی ہیں اور عیسائی بھی ہیں انکے آباؤ اجداد انگریز اپنے دور حکومت میں اپنے وفادار سمجھتے ہوئے ہندوستان سے لے کر آیا تھا. اور ان کو یہاں پر بڑی بڑی جاگیریں عطا کی گئیں اور تمام سرکاری اور غیر سرکاری اہم عہدوں پر ان کو لگایا گیا. ایسا بھی کیا گیا کہ جنگ کے دوران جن لوگوں نے انگریزوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا ان کو گھروں سے نکال دیا گیا اور ان کی زمینیں ہندوستان سے لائے گئے اپنے وفاداروں کو دے دی گئی. یہ تقریبا ایسی ہی کہانی ہے جیسی ہم ہندوستان کے دیگر علاقوں میں دیکھتے ہیں.
انگریزوں نے یہاں پر ریل کا نظام بنایا دریائے زیادہ ہونے کی وجہ سے موٹر بوٹ کا بھی انتظام کیا اور پہلی مرتبہ برما سے نہر سوئز کے راستے چاول انگلستان برآمد کرنا شروع کیے. اور ساتھ ہی بہت سارے طالبعلم بھی برطانیہ میں تعلیم کے لیے چلے گئے. ان میں سے جو واپس آئے انہوں نے انگریزوں کے خلاف تحریک میں حصہ لیا. یہ وہی سال ہیں جن سالوں میں ہمارے قائد اعظم بھی برطانیہ پڑھنے کے لیے گئے تھے.

بیسویں صدی کے شروع میں انگریزوں کے خلاف تحریک چلنی شروع ہو گئی. جس طرح ہندوستان میں علی گڑھ کے طلباء نے اس میں حصہ لیا اسی طرح سے رنگون یونیورسٹی کے طلباء نے بھی اس میں حصہ لیا اور انیس سو بیس میں پہلی ہڑتال ہوئی اور ایک موومنٹ کا آغاز ہو گیا. کی طلبہ تحریک کی قیادت Aung San کر رہے تھے جو موجودہ وزیراعظم Aung San Suu Kyi کے والد تھے. تحریک نے جب زور پکڑا تو انگریزوں نے انیس سو سینتیس کے اندر ایک حد تک آزادی برما کو دی اور پہلا برمی پرائم منسٹر مقرر کیا گیا. یہ تقریبا وہی وقت ہے جب ہندوستان کے اندر بھی مقامی لوگوں کو الیکشن کے ذریعے حکومت کرنے کا اختیار دیا گیا تھا. ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان کے بادشاہ کے حکم سے انیس سو بیالیس میں برما پر حملہ کیا گیا اور برما کا کچھ علاقہ قبضے میں لے لیا گیا جو انگریزوں کے لیے ناقابل قبول تھا اور پھر ایک جنگ شروع ہوئی جو 1942 سے لےکر 1945 تک جاری رہی. جو جنگ عظیم دوم بھی کہلاتی ہے . اس جنگ میں جاپان کو شکست ہوئی اور اس دوران انگریز مخالف طاقتوں نے جاپان کا ساتھ دیا اور جب جنگ ختم ہوئی تو اگلے تین سال میں انگریزوں کے خلاف تحریک نے بہت زور پکڑا اور 4 جولائی 1948ءکو انگریزوں کا اقتدار ختم ہوگیا اور برما آزاد ہو گیا.

اس دوران Aung San کو کچھ مقامی لوگوں نے سازش کرکے قتل کردیا. قتل ہونے والوں میں کابینہ کے لوگ بھی شامل تھے اور اس کا بھائی بھی شامل تھا. اس دن کو بھی برما میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اور Aung San کو برما میں لوگ اپنا ہیرو سمجھتے ہیں اور اس کی تصویر برما کے نوٹوں پر بھی ہے.
میں نے انگریزوں کے برما پر قبضے کے واقعے کو جو پڑھا ہے اور ان کی عمارتیں آج میں دیکھ کر آیا ہوں تو مجھے ان کا طریقہ واردات آنے اور جانے کا اسی طرح کا لگتا ہے جیسے انھوں نے ہندوستان کے باقی علاقوں میں جیسے پنجاب وغیرہ میں کیا. ان کی انتظامی صلاحیت کا ایک منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے دہلی کے اندر بیٹھ کر بہت سارے علاقوں کو براہ راست کنٹرول کیا. لیکن بالآخر وہ مقامی لوگوں کے احتجاج کے سامنے کھڑے نہ ہو سکے اور چلے گئے اور بہت ساری معاشی اور معاشرتی نشانیاں چھوڑ گئے. ان کے سب سے کم اثرات برما نے باقی رکھے ہیی. جس کا ثبوت یہاں کر طرز تعلیم ہے. اب بھی تمام ابتدائی تعلیم برمی زبان میں دی جاتی ہے. بہت کم لوگوں کو انگلش آتی ہے. سب فخر سے برمی بولتے ہیں اور سڑک پر دائیں طرف گاڑی چلاتے ہیں اور انگریزوں کے طے کردہ اصولوں کو رد کرتے ہوئے آزادی کی اصل روح کا مزہ لیتے ہیں.
اگلی قسط میں آپ کو برما کے موجودہ حالات کے بارے میں بتانے کی کوشش کروں گا. انشاءاللہ

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.