قضیہ شام اور شطرنج کی میز، کھلاڑی کیا کررہے ہیں (1) طیب سکھیرا

شامی قضیے کو سات سال گزرچکے ہیں . درعا نامی قصبے سے شروع ہونے والا یہ قضیہ انسانیت کے قلب پر خنجر کی طرح گڑا ہوا ہے، شروع دن ہی سے اقوام متحدہ ،امریکہ سمیت طاقتور نیٹو اتحاد شامی قضیے پر مجرمانہ بے حسی کا شکار ہیں . کتنی عجیب بات ہے نا کہ وہ سیکولر مغرب ( امریکہ و یورپ ) جو مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان جیسے دور پار کے علاقوں میں شورش بپا ہوتے ہی تڑپ اٹھتا ہے اورعیسائیوں کے حقوق کیلئے فورا سلامتی کونسل کا رخ کرتا ہے، یوں چشم و زدن میں انڈونیشیا اور سوڈان جیسے بڑے اسلامی ممالک کو کیک کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے،اور انہی کے قلب میں مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان نامی دو نئی عیسائی ریاستوں کو خنجر کی طرح گاڑ دیا جاتا ہے، جو مغرب ساری دنیا کے سامنے سینہ تان کر " امن کا پیامبر " اور " انسانی حقوق کا چیمپئن " ہونے کے نوبل ایوارڈ وصولتا ہے.

وہی مغرب آج شام میں فاسفورس گیسز کے استعمال اور لاکھوں خواتین اور بچوں کے بے رحمانہ قتل کے باوجود بھی خاموشی سے تماشا دیکھ رہا ہے، یہ وہی سیکولر مغرب ہے، جو ریف محمد القنون اور آسیہ بی بی جیسے اسلام بیزار لوگوں کیلئے فورا تڑپ اٹھتا ہےاور انسانی ہمدردی کے عنوان سے ان کیلئے فوری پناہ کے انتظامات کرتا ہے، وہی سیکولر مغرب سات سال سے لاکھوں شامی مسلمانوں کا خون بہتا دیکھ کر بھی چپ سادھے بیٹھا ہے . کیونکہ شامیوں کے گلے میں صلیب نہیں ہے، نہ ہی مغرب کا شام سے کوئی معاشی مفاد وابستہ ہے، یہ کون نہیں جانتا کہ جہاں " مہذب مغرب " کے مذہبی و معاشی مفادات نہیں ہوتے، وہاں انسانی حقوق کا بھی کوئی بھاؤ نہیں ہوتا شام بھی کچھ ایسا ہی بدقسمت خطہ ہے، جہاں انسانی حقوق مغربی و یورپی نرخوں میں کوڑیوں کے بھاؤ بھی نہیں ہیں، شام کا محاذ ایسا محاذ ہے، جو عالمی طاقتوں کو اپنے سحر میں لے چکا ہے، تمام عالمی طاقتیں اپنے اپنے پیادے شامی میدان میں اتار چکی ہیں، محاذ اتنی تیزی سے ہاتھ بدل رہا ہے کہ روز ہی حلیف اور حریف تبدیل ہورہے ہیں، دنیا کے بہترین دماغ شامی شطرنج پر سر جوڑے بیٹھے ہیں، لیکن ہر کھلاڑی کی چال اسی پر پلٹ رہی ہے، شامی منظرنامے پر ایسی دھند چھائی ہے کہ بڑے بڑے شہ دماغ بھی پیشن گوئی سے عاجز ہیں، آئیے شام کی شطرنج پر کھلاڑیوں کی چالوں کا جائزہ لیتے ہیں، بنیادی طور پر ہم کھلاڑیوں کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں .

اس کھیل کا پہلا فریق : شامی حکومت ، روس ، ایران ،شیعہ عسکری تنظیموں اور چین پر مشتمل ہے، جیسا کہ پچھلی نشست میں بھی ان کے کردار پر روشنی ڈالی گئی کہ یہ پہلا فریق زمینی طور پر بشار کاحامی ہے البتہ ان میں سے ہر ایک فریق کے خطے میں اپنے اپنے مفادات ہیں، شامی حکومت اپنا اقتدار بچانے کیلئے ان طاقتوں کی محتاج ہے اور اس کیلئے وہ دن رات ایک کئے ہوئے ہے اسی اتحاد کی بدولت وہ جنگ میں واپس آئی ہے، دو سال پہلے تک دارالحکومت اور چند اضلاع تک محدود ہوجانے والی حکومت اب شام کا 70 فیصد علاقہ واپس لے چکی ہے، روس کا تعاون اس واپسی میں فیصلہ کن رہا ہے لیکن روسی تعاون کا سلسلہ شامی جنگ کے بعد ختم نہیں ہوجاتا، سرخ ریچھ یعنی روس 1990 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد مشرق وسطی میں اپنا کھویا مقام پھر سے واپس حاصل کرنا چاہتا ہے اور وہ یہی مقصد لئے شام آیا ہے اب عملا یہ صورتحال ہے کہ روس شام کے علوی ساحلی علاقے اللاذقیہ میں طرطوس اور شام کے دوسرے مقامات پر مضبوط بحری و بری اڈے
بنا کر عملا خلیج میں اپنے پنجے گاڑچکا ھے، روس کا اہم بحری بیڑہ ہر وقت شام کے پانیوں میں موجود ہے جو کروز میزائلوں سمیت جدید جنگی جہازوں تک سے لیس ہے، روس شام کو ایس 300 نامی جدید ائیر ڈیفنس سسٹم بھی فروخت کرچکا ہے جو شام میں نصب ہوکر اپنا کام شروع کرچکا ہے،.

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ کو گولان کا علاقہ اسرائیل کو دینے کا کوئی اختیار نہیں - رجب طیب ایردوان

یہ دفاعی نظام شام میں امریکی و اتحادی طیاروں کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے، ساتھ ہی ساتھ روس اس دفاعی نظام کا ایک جدید ماڈل ترکی کو بھی فروخت کرنا چاہتا ہے، روس اور ترکی کے مابین اس جدید ایس 400 نامی ائیر ڈیفنس سسٹم کی فروخت بارے مذاکرات ہورہے ہیں ترکی امریکہ و نیٹو کے دہرے معیار کی وجہ سے روس سے اپنے مفادات کے حصول کو ممکن بنارہا ہے لیکن امریکہ و نیٹو یہ بھی برداشت نہیں کرسکتے کہ کوئی رکن نیٹو کے ازلی دشمن روس سے کوئی اسلحہ کی ڈیل کرے کیونکہ اس سے نیٹو کی سرحدیں غیر محفوظ ہوجائیں گی امریکہ و یورپ ترکی کو اس ڈیل سے باز رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں یہاں تک کہ امریکہ اپنا جدید ائیر ڈیفنس سسٹم جو روسی سسٹم سے بھی جدید ہے، ترکی کو فروخت کرنے کی پیشکش کرچکا ہے، ترکی اس پیشکش پر بھی سنجیدگی سے غور کررہا ہے، اسلحہ کی مارکیٹ کی ان عالمی طاقتوں کے نزدیک کیا حیثیت ہے .؟
ایک مثال سے اندازہ لگائیے : صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی جیت کے بعد سعودیہ بارے ٹرمپ کے تاثرات کچھ اچھے نہیں تھے، سعودیہ نے متبادل اسلحہ مارکیٹ تلاشنا شروع کی، روس نے فورا ہی اپنا جدید اسلحہ سعودیہ کو فروخت کیلئے پیش کردیا ، ابھی روس سے اسلحہ خریداری بارے مذاکرات چل ہی رہے تھے کہ اسلحہ ساز کمپنیوں نے ٹرمپ کو مجبور کیا، ٹرمپ نے اچانک یوٹرن لیا، سعودیہ کا گرم جوش دورہ کیا اور 125 ارب ڈالر کا امریکی اسلحہ سعودیہ کو بیچ دیا گیا .

اس کشمکش سے آپ " اسلحے کے تاجروں " کی مشرق وسطی میں دلچسپی کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ مشرق وسطی کو کس قدر غیر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، یہ مفادات اور طاقت کا گورکھ دھندہ ہے کہ کوئی فریق بھی جنگ اور اسلحاتی طور سے زرخیز مشرق وسطی کو کھونا نہیں چاہتا روس کی اب بھی یہی کوشش ہے کہ سعودیہ سمیت مشرق وسطی کے بڑے اور امیر ممالک سے اچھے تعلقات استوار کئے جائیں تاکہ انہیں خطے میں روسی اسلحہ بیچنے میں آسانی ہو، روس اس وقت مشرق وسطی کی سیاست میں فعال کردار ادا کررہا یے، یہ مشرق وسطی میں امریکی چودھراہٹ کو کھلم کھلا چیلنج کرنے کے مترادف ہے دوسری جانب ایران ہے، جس کے عرب خطے میں اپنے عزائم ہیںایران کی عرصہ دراز سے خواہش تھی کہ وہ کسی بھی طرح سے بحیرہ احمر تک پہنچنا چاہتا تھا تاکہ دنیا کے مشہور تجارتی راستے پر اپنا اثر قائم کرکے عرب ممالک کی تجارت پر اثر انداز ہوسکے اورخود بھی اس رستے برآمدات میں اپنا حصہ ڈال سکے، اب ایران عراق میں موصل سے ہوتے ہوئے حلب کے راستے بحیرہ احمر تک رسائی کے منصوبے کے آخری مراحل میں ہے جو یقینا عرب ممالک کیلئے الارمنگ صورتحال ھے . عراق میں پہلے نوری المالکی اور اب شیعہ ملیشاؤں کے سیاسی اثر سے ایران عراقی راہداری کا بہترین استعمال کررہا ہے اور وہ عراق سے ہوتا ہوا شام میں جم کر بیٹھ گیا ہے،.

اب شام ہی ایران کا بیس کیمپ ہے، جہاں بیٹھ کر وہ مشرق وسطی میں اپنے مہرے آگے بڑھا رہا ہے . چونکہ لبنان کی سرحد شام سے منسلک ہے اسلئےایران شام ہی سے حزب اللہ کو معاشی و جنگی امداد دے کر لبنان میں اس کا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے یہیں سے وہ یمن کے حوثیوں کی پشت پناہی کررہا ہے، بحرین کی شیعہ اکثریت اور سعودیہ کے شمالی شیعہ اکثریتی علاقوں کو ہلہ شیری بھی یہیں سے دی جارہی ہے، ساتھ ہی ساتھ ایک خاص منصوبے کے تحت شیعہ ملیشاؤں کے ذریعے شام ، عراق اور لبنان میں شیعہ آبادی کو مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ ان عرب علاقوں میں شیعہ اثر کو بھی بڑھایا جارہا ہے، یہ ایران کی مستقبل کی پلاننگ کا حصہ ہے، جیسا کہ پاسداران انقلاب کے ایک جنرل کا بیان بھی تھا . کہ ایران جب چاہے پانچ مسلم دارالحکومتوں پر قبضہ کرسکتا ہے، صرف بیان ہی نہیں دیا گیا بلکہ صنعاء پر چشم زدن میں قبضہ کرکے دکھا بھی دیا گیا کہ ہم تیاری کے کس مرحلے میں ہیں، خطے میں ایک دم ایرانی اثر و روسوخ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ایران کا امریکہ و یورپ سے ایٹمی معاہدہ تھا، معاہدے کے بعد ایران کو ملنے والے اربوں ڈالر کا سب سے زیادہ اثر شام و یمن کے محاذ پر دیکھا گیا، ڈگمگاتی شامی حکومت کو سہارا دیا گیا، مدافع حرم کے نام سے نئی شیعہ ملیشائیں تشکیل دی گئیں. ان شیعہ ملیشاؤں کو مسلح کیا گیا، پاسداران انقلاب کی " ماہان ائیرلائین " میں پاکستان ، افغانستان ، عراق سے جنگجؤوں کو بھر بھر کر شام لے جایا گیا،

یہ بھی پڑھیں:   امریکہ کو گولان کا علاقہ اسرائیل کو دینے کا کوئی اختیار نہیں - رجب طیب ایردوان

اس ایرانی مالی اثر کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان شیعہ جنگجؤؤں کی صرف ماہانہ تنخواہیں ہی کروڑوں میں تھیں، جو ایران سے آتی تھیں، اسلحہ اور باقی اخراجات کا حساب اس کے علاوہ ہے، اس سرمایہ کاری کا اثر عراق و لبنان کے حالیہ انتخابات میں واضح ہوگیا ہے کہ عراق میں ایران نواز نوری المالکی اتحاد اور شیعہ مسلح تنظیمیں پہلی بار عراقی پارلیمنٹ میں اتنی سیاسی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں کہ مقتدی الصدر کا اتحاد اکیلے جیت کر بھی ایرانی بلاک کی مدد کے بغیر حکومت نہیں بناپایا، مجبورا نوری المالکی اور شیعہ مسلح تنظیموں کو ایرانی شرائط پر حکومت میں شامل کرنا پڑا، دوسری طرف حالیہ مہینوں میں سنی اکثریتی ملک لبنان میں حیران کن طور پر شیعہ مسلح تنظیم حزب اللہ پارلیمانی انتخابات جیت گئی ہے، سعد حریری کی سنی پارٹی کو غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا، یہ سب اچانک نہیں ہوگیا، اس کیلئے سالوں کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، شامی محاذ نے اس جلتی آگ پر تیل کا کردار ادا کیا ہے، یمن میں ایرانی مداخلت بھی عروج پر ہے. ایران یمن میں حوثیوں کی خوب پشت پناہی کررہا ہے اسی پشت پناہی کا اثر ہے کہ عبدالمالک حوثی اور اس کا حوثی اتحاد تین سال سے عرب اتحاد کے سامنے ڈٹا ہوا ہے . جہاں تک ایران اور روس کے قریبی تعلقات کی بات ہے تو ایران انقلاب کے بعد سے فطرتا روس کے قریب رہا ہے لیکن شامی محاذ پر قربت کی وجہ سے ایران و روس مزید قریب آچکے ہیں، .

یوں روس اور ایران مل کر مشرق وسطی کی شطرنج پر پیادے آگے بڑھارہے ہیں، ٹرمپ کا ایٹمی معاہدے سے نکلنا اور ایران پر پابندیاں عائد کرنا شاید اسی امر کا غماز ہے کہ امریکہ خلیج میں ایرانی اثر کو ہر صورت ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ مشرق وسطی میں عرب اور اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ عرب خطے میں روس کو تنہا کیا جاسکے، اسی وجہ سے امریکہ و روس مذاکرات میں شام سے ایرانی انخلاء کی گونج ضرور سنائی دیتی ہے، اس پر مستزاد یہ کہ چین بھی شامی محاذ کا باقاعدہ حصہ بن گیا ہے چین شامی حکومت کا پرزور حامی ہے لیکن شام میں چینی دلچسپی کا مرکز بشار الاسد نہیں بلکہ چینی ترکستان موومنٹ کے وہ مسلمان جنگجو ہیں، جو چینی صوبہ سنکیانک سے تعلق رکھتے ہیں اورشامی سنی جنگجؤوں کے درمیان شجاعت اور بے خوفی کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں. چین کو یہ خطرہ ہے کہ اگر انہیں شام میں تربیت اور منظم ہونے کا موقع مل گیا تو یہ جنگجو چینی مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانک میں واپس آکر چین کیلئے درد سر بن سکتے ہیں اور سنکیانک کی آزادی کی جدوجہد کو مزید ہوا دے سکتے ہیں .چین ان جنگجؤوں سے شام میں ہی نمٹنا چاہتا ہے اسی لئے وہ شام میں غیر اعلانیہ فوج بھیجنے کے ساتھ ساتھ شامی حکومت سے بھرپور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے .

( اس جنگ کا دوسرا اہم فریق امریکہ ، اسرائیل تین اہم یورپی کھلاڑی برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ ساتھ " ایس ڈی
ایف " یعنی کرد مسلح جنگجو ہیں اس پر اگلی نشست میں گفتگو کریں گے )