جرگہ پاکستان اور میرا نقطہ نظر - عامر خاکوانی

جرگہ پاکستان کے حوالے سے میرا ردعمل غیر جانبدار سا رہا ہے۔ اس کا آغاز عابد آفریدی نے کیا، میں اتفاق سے انہیں نہیں جانتا، ہارون وزیر سے البتہ فیس بک کے ذریعے آشنائی ہوئی، خاص کر جس طرح اس نوجوان نے وطن پرستی والا سٹینڈ لیا، مجھے اچھا لگا، اس کی پوسٹیں بھی شیئر کرتا رہا۔ عارف خٹک البتہ دوست ہیں، بھائی ہیں۔ ان کے بارے میں اچھی رائے ہے۔

تو تین باتیں ہوئیں، ایک تو ہمیں کسی نے اس طرف بلایا ہی نہیں، دوسرا ہم نے خود بھی زیادہ دلچسپی نہیں لی کہ اپنے کچھ نجی مسائل میں بری طرح الجھا ہوا ہوں،والدہ علیل ہیں، خوش دامن جو ہمارے ساتھ رہتی ہیں، ان کی طبعیت بھی ناساز ہے، ایک عدالتی کیس نے بھی یکسوئی ختم کر رکھی ہے،کچھ گھرکی اور زیادہ تر دفتر کی مصروفیت ، تو ایسے میں آدمی دعا کرتا ہے کہ کوئی دوست کھانے پربھی مدعو نہ کرے۔ (خاکسارکی صحت دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس دکھے دل سے یہ دعا مانگی جاتی ہوگی۔

جرگہ پاکستان کا تصور کچھ مجھے زیادہ سمجھ نہیں آیا، اس کی افادیت کا بھی اندازہ نہیں، مگر جو مقصد لے کر یہ لوگ کھڑے ہوئے ہیں، وہ مثبت، تعمیری اور اعلیٰ ہے۔ میرا ہمیشہ سے طریقہ رہا ہے کہ ہر مثبت کام کو سپورٹ کیا جائے۔ جو بھی نیا کام اچھا لگے ، اس کی حمایت کی جائے، ہوسکے تو اس میں شامل ہوا جائے ، ورنہ اخلاقی حمایت تو ضرور کی جائے۔ چھوٹے بھائیوں جیسے ثاقب ملک نے سیک سمینار کا ڈول ڈالا، برادرم انعام رانا نے مکالمہ کانفرنس کرائی تو ان سب میں شامل رہا ،ان کی کوششوں کو سراہا ۔ الحمدللہ وہ تجربے کامیاب رہے۔ جس تعمیری کام سے اتفاق نہ ہو تب بھی اس کی مخالفت نہیں کرتا، خاموشی اختیار کرتا ہوں۔

تیسری بات رہ گئی تھی، وہ یہ کہ مجھے لگا کہ جرگہ پاکستان میں وہ لوگ ہونے چاہئیں جن کی مکمل یا کسی حد تک غیر جانبدار حیثیت ہو یا پھر ان کا موقف پی ٹی ایم کے حوالے سے واضح نہ ہو۔

خاکسار کی پی ٹی ایم کے بارے میں ایک واضح اور سوچی سمجھی رائے ہے۔ میں اس نام ہی کو غلط سمجھتا ہوں۔ منظور پشتین جن مسائل کی بات کرتا ہے، ان کی میں حمایت کرتا ہوں، اس کے حق میں کالم لکھ چکا ہوں۔ قبائلی علاقوں خاص کر وزیرستان ایجنسیوں میں آپریشن کے بعد بہت سے مسائل پیدا ہوئے، مقامی آبادی پریشان ہوئی۔ ان مسائل کو حل ہونا چاہیے، مکانات، دکانوں ، جائیداد کی تلافی، بارودی سرنگوں کی صفائی، چیک پوسٹوں میں کمی،مسنگ پرسنز کے مسئلے کا جس حد تک ہوسکتا ہے حل نکالا جائے۔ میرے نزدیک تو جو لوگ ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، ان کےاہل خانہ کوبھی زرتلافی دیا جائے ، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

یہ مسائل اپنی جگہ ، ان کے لئے آواز اٹھانا درست ،مگر یہ ’’پشتونوں‘‘ کے مسائل اور جنگ نہیں ہیں۔ یہ متاثرین آپریشن کے مسائل ہیں۔ وہاں آپریشن پشتون ہونے کی وجہ سے نہیں کیا گیا تھا۔ کسی حد تک اہل سوات کے بھی یہ مسائل ہیں۔ اسے پشتون کا نام دینا ایک خاص ایجنڈے کی نشاندہی کرتا ہے۔ مجھے اس ایجنڈے ، اس محرک سے اختلاف ہے۔ دوسرا جس طرح منظور پشتین کی اس تحریک کو علی وزیر، محسن داوڑ جیسے جارحانہ نقطہ نظر رکھنے والوں نے ہائ جیک کر لیا، وہ بھی مناسب نہیں۔ اس سے نقصان ہوا۔ تیسرا محمود اچکزئی کی جماعت کا فاٹا سے کیا لینا دینا؟ تاریخ میں کبھی ان کا ان علاقوں میں عمل دخل نہیں رہا، کبھی ان کے لئے بات نہیں کی، اب اچانک کہاں سے سرپرست بن گئے؟ وزیرستان میں آپریشن کے متاثرین احتجاج ژوب ، پشین جا کر کریں تو حیرت ہونا فطری ہے۔ پشتون خواہ میپ نے اس تحریک کو سخت نقصان پہنچایا۔ اس لئے میرے جیسے لوگ مسائل کے حل کے تو حامی ہیں، مگر طریقہ کارجو اپنایا گیا، جس نام کے ساتھ یہ تحریک اٹھائی گئی، پلیٹ فارم جن لوگوں کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے، ان سب سے شدید اختلاف ہے۔

میری ذاتی رائے میں جن لوگوں نے مخصوص ایجنڈے کے تحت یہ سب کیا، وہ کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے، وہ اپنا چورن بیچتے رہیں گے۔ اس کے باوجود ’’جرگہ پاکستان‘‘ کے لئے جو لوگ کھڑے ہوئے، ان کے جذبے کو سراہنا چاہیے۔ یہ لوگ مثبت تعمیری سوچ لے کر آگے بڑھے ہیں، مقصد ان کا یہ ہے کہ شکوک وشبہات ختم کرا کر عوامی مسائل کا حل نکالا جائے۔ یہ سوچ اچھی ہے، مکالمہ ہونا چاہیے، ایک دوسرے کی بات سنی جائے۔ پی ٹی ایم کے نمائندوں کا آنا خوش آئند ہے، ان کی بات سنی ، سمجھی جائے ۔ اس میں وزن ہو تو ضرور اسے آگے بڑھایا جائے۔

میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ اس میں کئی مقررین اور نمایاں لوگ پشتون نہیں یا پنجاب کے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش جیسے جینوئن دانشور کسی ایک قوم یا نسل کے نہیں ہوتے، انہیں اس سطح تک محدود کرنا زیادتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب متوازن، معتدل ، منصفانہ سوچ کے علمبردار ہیں۔ دیگر لوگوں میں سے بھی زیادہ تر وہ ہیں جو دل سے چاہتے ہیں کہ متاثرین آپریشن کے مسائل حل ہوں، لوگوں کے مسائل کم ہوں اور انہیں ریلیف ملے۔ یہ اگر ریاست اور پی ٹی ایم کے مابین ٹکرائو کے امکانات کم کر کے پرامن، شائستہ جمہوری مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرانے کی سعی کرنا چاہ رہے ہیں تو انہیں سپورٹ کیا جانا چاہیے۔ یہ اچھی بات ہے کہ پنجاب سے لوگ پشتون متاثرین کی مدد کے لئے آگے بڑھے ہیں، ایک ایسی تحریک کے ساتھ مکالمہ اور انگیجمنٹ چاہتے ہیں جس میں صرف پشتون بلکہ قوم پرست پشتون غالب ہیں۔ یہ اچھی بات ہے، سراہنا چاہیے۔ ایک اور اہم بات ہے کہ سوشل میڈیا فورم سے ایسی بڑی کوشش ہو رہی ہے ۔ یہ عمدہ ٹرینڈ کی خبر دے رہی ہے۔ نتائج ہمارے اختیار میں نہیں، مگر کوشش اور جہد مسلسل ہمارے اختیار میں ہوتی ہے۔ کوشش کرنی چاہیے، اللہ اس کے بہترین نتائج پیدا کرے۔ آمین۔

پی ٹی ایم والے ہمارے اپنے پاکستانی ہی ہیں، سیاسی سوچ ، نقطہ نظر اور طریقہ کار سے اختلاف ہوسکتا ہے، مگر ایک بات پر سب متفق ہیں کہ عام آدمی کے دکھ درد کم ہونے چاہییں۔ جہاں آپریشن ہوا، وہاں لوگوں نے بہت تکالیف اٹھائیں، ان میں کمی آنی، انہیں غیر معمولی ریلیف ملنا چاہیے۔

جرگہ پاکستان پہلا قدم ہے، منزل نہیں، سفر طویل ہے ۔ میری بہترین دعائیں، نیک تمنائیں ان سب کے ساتھ ہیں۔ اللہ ان کی سعی قبول فرمائے۔ آمین۔

پس نوشت:
(میرا دل بھی جرگہ پاکستان اور اس طرح کے ہر مثبت پیش قدمی کرنے والوں کے ساتھ ہے اور تلوار یعنی قلم بھی۔ یعنی ہماری زبان، دل اور قلم تینوں کی حمایت بلا مانگے پیش کی جا رہی ہے۔ )

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.