عمران خان صاحب! کبھی آئیے ناں کراچی - زبیر منصوری

جناب خان عمران خان صاحب! کبھی آئیے ناں کراچی، انتظام ہمارے ذمہ!

آپ کو ٹھہراتے ہیں کھجی گراؤنڈ، یا پھر کٹی پہاڑی سے ادھر اورنگی کی کسی بستی میں یا پھر شاہ فیصل کالونی کے ریتہ پلاٹ پر ملیر ندی کے کنارے یا ادھر لیاقت آباد کے اندر کی گلیوں میں ذرا خود سے گھوم پھر کر اپنے ان ''نفیس لوگوں'' کو تو جانیے. ذرا ان ماؤں سے مل کر تو دیکھیے جن کے بیٹوں کے گھٹنوں میں کیل ٹھوک دیے گئے، ڈرل مشین سے زندہ انسانوں میں سوراخ کر دیے گئے، جن کے جسموں پر تین سو زخموں کے نشانات پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ملے.

وہ کھجی گراؤنڈ کا علاقہ جو رات رات بھر آپ کے ''نفیس لوگوں'' کے کالوں کانوں کان کٹوں اور ٹچوں کے ہاتھوں مظلوموں کی چیخوں سے گونجتا رہتا تھا. ذرا آپ کو کبھی ملے نا کسی ''نفیس لوگ'' بھائی کی پرچی کہ ”بیٹا دس لاکھ روپے کل شام تک سیکٹر آفس پہنچا دینا ورنہ ہمیں پتہ ہے تیری جوان بیٹی کس کالج میں پڑھتی ہے اور چھوٹے والے کی وین کب گہاں سے گزرتی ہے۔“

وزیر اعظم صاحب! ہمارے عامر سعید شہید، جمال طاہر، اسلم مجاہد اور جنید زاہدی کو تو چھوڑیے، اپنی زہرہ آپا ہی کے خون کا لحاظ کر لیجیے. چلیے مان لیتے ہیں، انھیں ساتھ بٹھانا آپ کی مجبوری ہے، کچی آپ کی نوکری ہے۔ مگر اب یوں ہم کراچی والوں کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکیے. آپ بنائیے دوستیاں، بھول جائیے اپنے پرانے بیان، پورا کیجیے نظریہ ضرورت، مگر خدا کے لیے قاتلوں کے سر پرست ان حق پرستوں کو نفیس کہہ کر نفاست لفظ کو تو شرمندہ نہ کیجیے۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.