بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ سعدیہ نعمان

بچے والدین کے پاس سب سے قیمتی متاع اور اللہ کی امانت ہیں. ابتدائی عمر ہی سے جو بیج ہم بوئیں گے اسی کا پودا پروان چڑھے گا جس قدر بنیادیں مضبوط اٹھائی جائیں گی اسی قدر عمارت پائیدار ہوگی. اگر ہم والدین ابتدائی عمر کے سات سال بچوں پہ محنت نہ کریں انہیں ڈھائی تین سال کی عمر سے اونچی فیسوں والے اداروں کے سپرد کر کے مطمئن اور خوش رہیں کہ بچے آداب بھی سیکھ لیں گے اور انگلش بول چال بھی، تو پھر بچے محض یہی نہیں سیکھیں گے بلکہ وہ اسی تہذیب میں ڈھلتے جائیں گے جس تہذیب سے یہ نظام تعلیم مستعار لیا گیا ہے.

پھر فصل کاٹنے کا وقت آئے اور ہم پھولوں کی توقع رکھیں جبکہ بوئے تو کانٹے ہی تھے تو یہ ناممکن ہے. پھر یہ کہنا کہ بچے تو ہاتھ سے نکل گئے ہیں، بات ہی نہیں سنتے تو دراصل بچے اغوا ہو چکے ہیں، وہ جسمانی طور پہ آپ کے سامنے اور آپ کے ساتھ ضرور ہیں لیکن ذہنی اور قلبی طور پہ نہیں. عقائد پختہ اور مضبوط کرنے کا وقت ہاتھ سے پھسل چکا ہوتا ہے. جدید تحقیقات بھی یہی بتاتی ہیں کہ ابتدائی عمر کے تین پانچ اور سات سال تک کی عمر میں بنیادی شخصیت کی تعمیر ہو جاتی ہے. ایک ننھے منے بچے کو ماں پیار سے ساتھ سلاتے وقت پہلا کلمہ طیب سے لے کر انبیا کرام کی ساری قرآنی کہانیاں اس کے اندر انڈیل سکتی ہے. اللہ اس کے رسول نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت دل میں گہری اتار سکتی ہے، جنت دوزخ کا تصور پختہ کر سکتی ہے، انعام اور سزا کے بارے میں سمجھا سکتی ہے، اچھا انسان اور رب کا پسندیدہ بندہ بننے کا طریقہ بتا سکتی ہے، بشرطیکہ ماں پوری ذمہ داری سے اپنا یہ کردار نبھانے کے لیے تیار ہو اور اس معاملہ میں کوتاہی اور لاپرواہی نہ برتے.

یہ بھی پڑھیں:   آپکی محبت کے منتظر - امم فرحان

عملی طور پہ تدابیر کیا ہوں؟ اس سلسلہ میں ایک واقعہ نے میری بہت رہنمائی اور مدد کی آپ بھی غور سے پڑھیے. منہاج القاصدین کے مصنف ابن جوزی رح تحریر کرتے ہیں کہ حضرت سہل بن عبداللہ نے کہا: "میں تین برس کا تھا اور رات کے وقت کھڑا ہو کر اپنے ماموں محمد بن سوار رح کو نماز پڑھتے دیکھا کرتا تھا. ایک دن انہوں نے کہا: کیا تو اللہ کا ذکر نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا کیا. میں نے کہا میں اس کا ذکر کیسے کروں؟ تو انہوں نے کہا: اپنے دل میں بغیر زبان ہلائے تین مرتبہ کہو اللہ معی (اللہ میرے ساتھ ہے)، اللہ شاھدی (اللہ مجھے دیکھتا ہے). میں نے کئی رات ایسا ہی کہا. پھر آپ نے کہا اسے ہر رات گیارہ مرتبہ پڑھو. میں نے ایسا ہی کیا اور میرے دل میں اس کی لذت پیدا ہو نے لگی.

ایک سال گذر گیا تو ماموں نے مجھ سے کہا: "جو میں نے تمھیں سکھایا ہے اسے یاد رکھو اور قبر میں جانے تک اس کی پابندی کرنا، چنانچہ میں نے کئی سال تک اس کی پابندی کی. مجھے اپنے باطن میں اس کی لذت محسوس ہوئی، پھر میرے ماموں نے مجھ سے کہا: اے سہل !جس کے ساتھ اللہ ہو اور وہ اسے دیکھ رہا ہو اور وہ اس کا نگران بھی ہو تو کیا ایسا شخص اللہ کی نافرمانی کر سکتا ہے؟ پس اللہ کی نافرمانی سے بچو. پھر میں مدرسہ چلا گیا اور میں نے سات سال کی عمر میں قرآن پاک یاد کر لیا. اب میں روزے بھی رکھتا اور رات کو قیام بھی کرتا اور میری غذا جو کی روٹی تھی.

اس واقعہ میں بے شمار سبق پوشیدہ ہیں اسے بار بار پڑھنے سمجھنے اور جہاں تک ممکن ہو عمل کرنے کی ضرورت ہے. اللہ کریم ہمیں اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے. آمین

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.