سوشل میڈیا اور صحابہ کرام کی اہانت - محمد اسماعیل آزاد

سوشل میڈیا پر جہاں ایک طرف علمی و أدبی شخصیات سے براہ راست استفادے کے مواقع ملتے ہیں، وہاں لامحالہ قارئین کی نظروں سے کئی فتنہ پرور اور فتنہ انگیز لکھاریوں کی تحاریر بھی گزر جاتی اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے اور احتیاط کا تقاضی بھی یہی ہے کہ ہر کس و نا کس کی رطب و یابس تحاریر پڑھنے سے گریز کیا جائے۔ ایک بندہ اگر اچھی اردو لکھنے والا ہے، بہترین منظر کشی کرنے والا یا بڑا لفْاظ و طبْاع ہے تو اس کا ہر گز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے عقائد بھی اس سطح کے پاکیزہ اور سیدھے ہوں گے۔ ان کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے ، کہ اول اپنی اچھی لچھے دار باتوں اور مسجع و منقع تحاریر سے قارئین کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں، اور پھر شوگر کوٹڈ زہر اس کی نسوں میں اتارنا شروع کر دیتے ہیں۔

اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں غوطہ زن ہو کر دیکھیں یا موجودہ کج فہم و کم فہم اور بد عقیدہ لوگوں کو جانچیں، تو یہ جاننے میں دیر نہیں لگے گی کہ جتنے بھی فتنہ پرور اور بد عقیدہ لوگ یا ان کے ہمنوا ہوتے ہیں، تمام کے تمام کسی نا کسی وصف مرغوب سے متصف ہوتے ہیں، یا تو وہ بلا کے ادیب و لفّاظ ہوں گے، یا غضب کے مقرر و لسّان، عجب کےخوش گفتار و خوش اخلاق، یا انسانیت و ہمدردی کے دلدادہ۔

یہ بدطینت و بدعقیدہ لوگ ان مخصوص اوصاف اور ہتھیاروں کے ذریعے ایک مجمع کو اپنے ارد گرد جمع کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، اور پھر اپنے قلمِ مسموم اور لسانِ ملعون کے ذریعے یا تو دین داروں اور نیکوں کاروں سے بدظن کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور یا صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور اہل بیت حضرات کے خلاف صراحتًا یا اشارتًا اپنے اندر کی غلاظت باہر انڈیلتے نظر آتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی اہانت اور سب و شتم کرنا ان کا تو مستقل یہی شیوہ رہا ہے، لیکن حد درجہ افسوس اور ملال تو ان نام نہاد روشن خیال و دماغ سنیوں پر ہوتا ہے جن کے قلم اور زبان بھی ان پاک اور برگزیدہ ہستیوں کی اہانت سے محفوظ نہ رہ سکے، یا للاسف. جن صحابی کی شان میں جو چاہا کہ مارا، اور جو دل میں آیا لکھ ڈالا، نہ کوئی پوچھنے والا ہے،نہ روکنے والا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہم کبھی قوم بن بھی پائیں گے ؟ - شبیر بونیری

حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ جو میرے صحابہ کو گالیاں دے، اس پر اللہ کی لعنت ہے فرشتوں کی لعنت ہے تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالی ان قلمی و لسانی فتنوں سے امت محمدیہ کی حفاظت فرمائیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بالکل بجا ارشاد فرمایا۔ آپ نے ایک انتہائی اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مصری فضلاء، سید قطب شہید، رشید رضا مصری اور طہ حسین کی تحریروں کے سامنے آنے کے بعد پاکستان میں مرحوم سید ابوالاعلی مودودی نے ''خلافت و ملوکیت'' میں بعض صحابہ کرام کے طرز عمل پر تنقید کی ۔ جس کے رد میں اہل سنت کی طرف سے بیسیوں کتابیں تحریر ہوئیں ۔ مولانا مرحوم کے بعض رفقاء نے دفاع میں بھی کتابیں لکھیں۔ جس سے اہل سنت کے حلقوں میں بھی تنقید بر صحابہ کا بیج پڑ گیا۔ بہر طور صحابہ کرام پر تنقید کرنے والوں کی خدمت میں یوسف لدھیانوی شہید کا یہ تبصرہ پیش خدمت ہے:
    ''''اس امر سے قطع نظر کہ ان ''تحقیقات'' میں دیانت و امانت کے تقاضوں کو کس حد تک ملحوظ رکھا گیا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بہ ادب یہ عرض کرنا ہے کہ آیا مولانا کی اس خود ساختہ عدالت کو اس کیس کی سماعت کا حق حاصل ہے؟ کیا۔۔۔یہ ان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے؟ کیا ان کی یہ حیثیت ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے شاگردوں کا مقدمہ نمٹانے بیٹھ جائیں ۔۔۔۔۔؟ مجھے نہیں معلوم کہ مولانا کے مداحوں کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صحابہ کرام کے مقدمے کی سماعت ان سے اوپر کی عدالت ہی کرسکتی ہے اور وہ یا تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں یا خود احکم الحاکمین، ان کے سوا ایک مولانا مودودی نہیں ، امت کا کوئی فرد بھی اس کا مجاز نہیں کہ وہ قدسیوں کے اس گروہ کے معاملے میں مداخلت کرے۔''
    بحوالہ : اختلاف امت اور صراط مستقیم، صفحہ نمبر 141