خوش نصیب - ضیغم قدیر

خوش نصیب تھے وہ لوگ جو جنگ بدر میں نبی اکرم ﷺ کیساتھ کھڑے تھے۔ خوش نصیب اُن کو کہتے ہیں۔ خوش نصیب وہ تھے جو روم و ایران کی سلطنتوں کیساتھ جا کر ٹکراتے تھے۔ جن کے پاس نہ تیر تھے اور نہ ہی تلواریں، نہ لباس تھے اور نہ ہی سواریاں تھی، خوش نصیب طارق بن زیاد تھے۔

ہر طرف سے صلیبی خطرے میں گھری مسلم ریاست میں جب دو صلیبی روضہ اقدس کو کھود کر اس کی بیحرمتی کا سوچ رہے تھے تو سلطان نُور الدین زنگی کو نبی اکرم ﷺ خواب میں آ کر بتاتے ہیں اور وہ مدینہ منورہ آکر اُنکا سر قلم کرتے ہیں، خوش نصیب ان کو کہتے ہیں۔ جب صلیبیوں نے بیت المقدس پہ قبضہ کیا، ہزاروں مسلمان ایک دن میں شہید کیے۔ مسلمان بچوں کو چھتوں سے گرایا گیا ، عورتوں کی بے حرمتی کی گئی، نوے سال تک قبلہ اوَل ان کے قبضے میں رہا، اُمت کسی نجات دہندہ مجاہد کی تلاش میں تھی، تب اللہ نےایک مجاہد کو پیدا کیا، اس کا نام سُلطان صلاح الدین ایوبی تھا، خوش نصیب تھے وہ۔ میسور کا شیر، جس کو ایک طرف سے مرہٹہ نے، دوسری طرف سے انگریز، تیسری طرف سے غداروں نے گھیر رکھا تھا، چوتھی طرف نظام حیدر آباد کی فوجیں تھی، اُس سے انگریز ہتھیار ڈالنے کا کہتا ہے مگر بدلے میں وہ کہتا ہے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے، اور پھر جام شہادت نوش کر لیتا ہے۔ خوش نصیب تھے وہ لوگ، اپنے مُلک کی خاطر لڑنے والے۔

انگریز راج چھوڑ کر جانے کا سوچ رہے ہیں، ایسے میں ہزار سال تک ہمارے محکوم رہنے والے ہم پر حکومت کرنے کا سوچ رہے ہوتے ہیں لیکن ایسے میں اللہ کے بندے اقبال، جناح، لیاقت علی خان وغیرہ کی شکل میں آتے ہیں اور مسلمانوں کو ایک نئی جہت دیتے ہیں اور ملک پا کر ہی رہتے ہیں، ان کو خوش نصیب کہتے ہیں۔ آزادی کا سال چل رہا ہے، مشرقی پنجاب سے انسانوں سے بھری ٹرین لاہور کی طرف چلتی ہیں، لیکن لاہور تک صرف لاشیں ہی پہنچتی ہیں مگر پھر بھی کوئی نہیں ڈرتا، لوگ جوق در جوق پاکستان ہجرت کرتے ہیں، وہ آتے جاتے ہیں اور کاٹے جاتے ہیں مگر ڈرتے نہیں، خوش نصیب تھے وہ لوگ۔ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں کسی بھی قوم کا وقت صدا ایک جیسا نہیں رہا، ہر قوم پہ عروج بھی آیا اور زوال بھی آیا، ہم پر آزادی کے وقت سے ہی تقریبا زوال چلا آرہا ہے مگر ایسے میں ایک ایسی لیڈر شپ ضرور آئے گی جو اس قوم کو ایک نئی جہت دے گی، ترقی کی راہوں پہ گامزن کریں گے اور وہ قیادت ایک خوش نصیب قیادت ہوگی۔ اور ایسا ہو کر رہے گا۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر تھا اور ان شاءاللہ رہے گا۔