"جادوئی" ہندسے 137 کے بارے میں جانتے ہیں؟ ڈاکٹر رضوان اسد خان

اسے سائنس میں "فائن سٹرکچر کانسٹینٹ" کہتے ہیں. اسے طبیعیات کے تین بنیادی نظریات یعنی الیکٹرومیگنیٹک تھیوری، کوانٹم تھیوری اور آئنسٹائن کی تھیوری آف ریلیٹوٹی کے درمیان ربط اور ملاپ کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے اور کائنات کے "گرینڈ ڈیزائن" کی کلید بھی.

رچرڈ فینمین، ایک مشہور ماہر طبیعیات گزرا ہے، جو یہودی گھرانے میں پیدا ہوا، وکیپیڈیا کے مطابق ملحد لیکن اپنے بیانات کے مطابق اگناسٹک تھا. اسی نے اسے جادوئی ہندسہ اور طبیعیات کی سب سے بڑی گتھی قرار دیا تھا. اس کا کہنا تھا کہ یہ گویا خدا نے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے لیکن کیسے؟ یہ ہمیں نہیں پتہ. ہم بس اسکو اخذ کر کے اسکے آگے وجد میں رقص کر سکتے ہیں اور بس. اس کے بعد اس نے انتہائی گہری بات کی اور میرا خیال ہے کہ اس جملے میں لاشعوری طور پر ہی سہی پر اس نے خدا کی قدرت کا اور انسان کی بے بسی کا اقرار کیا ہے.

وہ کہتا ہے کہ "ہم نہیں جانتے کہ وہ کونسا طریقہ ہے کہ ہم اس قسم کے کسی محیر العقول ہندسے کو کسی بھی کمپیوٹر سے کسی بھی حساب کتاب کے ذریعے برامد کر سکیں سوائے اس کے کہ کسی (لافانی طاقت نے) اسے چپکے سے اس کمپیوٹر میں ڈال دیا ہو."

میں دراصل کہنا یہ چاہتا ہوں کہ یہ ملحد سائنسدان ہمیشہ چیزوں میں سے مشترک خصوصیات نکال کر انہیں کسی ایک سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں. جانداروں میں مماثلتیں ہوں یا بظاہر متفرق طبیعی نظریات میں، حتی کہ مادے اور توانائی کا بھی ربط نکال لیا اور سپیس اور ٹائم کو بھی ملا دیا... اور اب تو کوانٹم فزکس کے ذریعے بظاہر متضاد توجیہات کے بیک وقت درست ہونے کے امکان کو بھی مانتے ہیں... لیکن نہیں مانتے تو ان عظیم مماثلتوں کے پیچھے کسی واحد و یکتا، مقتدر و مشفق، علیم و حکیم ذات کے ہاتھ کو نہیں مانتے.

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.