کیا ایردوان کی گرفت کمزور ہورہی ہے؟ - عبداللہ فیضی

ترکی کے تاریخی شہر استنبول کے انتالیس (۳۹) ڈسٹرکٹس ہیں اور ہر ڈسٹرکٹ کی الگ پہچان، الگ الگ رنگ حتی کےلوگوں کی بودوباش میں بھی فرق نظر آتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سیاسی طور پر بھی یہ ڈسٹرکٹس کسی حد تک منقسم ہیں، جہاں فاتح کے علاقے اور شہر کے مضافات میں ایردوان یا حکمران اتحاد مظبوط رہا ہے، وہیں استنبول کے بعض علاقوں جیسے کادی کوے اور تاکسیم ( جنہیں میں سیکولر ڈسٹرکٹس کہتا ہوں ) میں اردوان کو ہمیشہ شکست کا سامنا رہا۔

گزشتہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات پر دنیا بھر کی نظریں تھیں، ترکی سےکچھ خاص لگاؤ کی وجہ سے میں بھی ان انتخابات کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ اس حوالے سے ترکی میں مقیم عزیز دوست سے تبادلہ خیال بھی رہا جس میں میں نے اپنے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اس دفعہ حکومتی اتحاد کو بڑے شہروں خاص کر انقرہ میں مشکلات کا سامنہ ہوسکتا ہے بلکہ الیکشن سے پہلے ہونے والے اکثر تجزیے اس نتیجے کی پیش گوئی کر رہے تھے کہ اس دفعہ اردوان کے لیے انقرہ کا انتخاب جیتنا ممکن نہیں۔ اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق مجموعی طور پرتو حکومتی اتحاد ہی آگے ہے جہاں انہیں زیادہ تر کامیابی چھوٹے شہروں خاص کر دیہی علاقوں سے ملی لیکن دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں اپوزیشن اتحاد نے کامیابی کا دعوی کیا ہے۔ انقرہ میں ایردوان کی شکست مذہبی حلقوں کے لیے ایسے ہی پریشان کن ہے جیسے سنہ دوہزار دو کے انتخابات میں اسلام آباد سے جماعت اسلامی کی کامیابی کی خبر ہمارے سکولر دوستوں کے لیے تھی۔

اگراپوزیشن اتحاد کا یہ دعوی درست ثابت ہوتا ہے توگزشتہ سولہ سالوں میں جب سے ارگان حکومت میں ہیں یہ حکومتی اتحاد کی سب سے بڑی شکست سمجھی جائے گی۔ ترکی الیکشن کے تناظر میں یہاں ایک اہم بات پیش نظر رہے کہ پاکستانی عوامی سیاسی مزاج کے برعکس جہاں جذباتی نعروں اور الزامات کی سیاست غالب رہی ہے، ترکی میں عوام کی اکثریت ملکی معیشت اور حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتی ہے، جہاں ماضی میں حکومتی کارکردگی اور معیشت واقعی قابل رشک رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   باد نسیم کا ہلکا سا جھونکا - مولانا یحیی نعمانی

ماضی کے برعکس اس دفعہ ترکی کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ لہذا بڑے شہروں میں جہاں کی معیشت براہ راست بین الاقوامی منڈیوں سے جڑی، ترکی کرنسی کی کمزوری اور مجموعی ملکی معیشت میں تنزلی حکمران اتحاد کی مشکلات کا کلیدی سبب رہا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ انتخابات کو ایردوان کے اکنامک کراسسز سے نمٹنے کی اہلیت کے حوالے سے ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ اس حوالے سے اب اگر معاشی مشکلات اور دارالحکومت میں ممکنہ شکست کو دیکھا جائے تو بعض حلقے اسے ایردوان کی اقتدار پر کمزور ہوتی گرفت کی طرف ایک اشارہ قرار دے رہے ہیں لیکن میری نظر میں مجموعی نتائج سامنے رکھتے ہوئے فی الوقت ایسا کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنا قبل ازوقت ہوگا، کیونکہ حکمران اتحاد نے مجموعی طور پر اکاون فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور زیادہ شہروں میں جیتا ہے۔ آخری تجزیہ میں حکمران اتحاد انقرہ اور استنبول جیسے بڑے شہر ہارا ضرور ہے لیکن کمزور نہیں ہوا۔

Comments

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی

عبداللہ فیضی ملائشیا میں بین الاقوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کے مرحلے سے نبرد آزما ہیں۔ قانون، انسانی حقوق، شخصی آزادی اور اس سے جڑے سیاسی و مذہبی خدشات و امکانات دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔ خود کو پرو پاکستان کہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.