محبت جو دیر سے ہوتی ہے - محمد سلیم

فرمانے لگے: میرے بچے سکول سے لوٹتے تو ماں کو ڈھونڈھتے ہوئے سیدھا کچن میں جا گھستے، اسے سلام کرتے، اس کے سر پر پیار کرتے اور اس سے لاڈ و پیار کرتے۔ میرا کمرہ کچن کے ساتھ ہی بائیں ہاتھ پر تھا، مگر میرے کمرے میں کبھی نہیں آتے تھے۔ پتہ نہیں کیوں انہیں میرا کمرہ اتنا دور نظر آتا تھا۔

کبھی کبھار میرے کانوں میں ان کی ماں کی آواز پڑ جایا کرتی تھی ، جو ان کو کہہ رہی ہوتی تھی کہ باپ کو سلام کیا ہے؟ اور اس آواز کے کافی دیر بعد کبھی کبھار میرے پاس بھی آ جایا کرتے تھے۔ صاف لگتا تھا کہ ماں کی بات سے شرمندہ ہو کر آئے ہیں۔ سلام کرتے تھے مگر صاف لگتا تھا کہ بادل نخواستہ ہے، سرد مزاجی اور لہجے کی خشکی عیاں ہوتی تھی۔ میں بھی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا اور آئی گئی کر دیا کرتا تھا۔ ایک بار کسی کام سے باہر نکلا تو دیکھا کہ میرا بڑا بیٹا اپنی ماں کے منہ میں کچھ ڈال کر اُسے زبردستی کھلانے کی کوشش کر رہا ہے۔میں نے نزدیک ہو کر دیکھا تو یہ ایک قیمتی چاکلیٹ تھا۔ میرے قریب جانے پر شرمندہ ہوا، جیب میں ہاتھ ڈال کر مجھے بھی کچھ نکال کر دیا، یہ ایک عام سی ٹافی تھی۔ ریپر کھلا ہونے کی وجہ سے جیب کا گرد و غبار اس پر جما ہوا تھا۔ میں نے دل رکھنے کیلیئے کھائی۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ میرے محسوسات مر چکے ہیں۔ کبھی کبھار یہ امتیازی رویے بہت تکلیف بھی دیتے ہیں۔ خیر کوئی بات نہیں۔ وقت گزرتا رہا اور یہ بچے بڑے ہوتے گئے۔

ان کے بھی آگے بچے ہوئے تو انہیں محسوس ہونے لگا کہ امتیازی رویئے کیسے مارتے ہیں۔ ان میں محبت جاگی مگر بہت دیر سے۔ آخر کیوں؟ گاڑی کے ڈرائیور کی قدر بس اُسی وقت پتہ چلے جب گاڑی خراب ہو جائے؟ بس اسی لیئے کہ وہ کسی کو نظر آئے بغیر ، دور بیٹھ کر گاڑی کو چلاتا رہتا ہے تاکہ آپ کا سفر آرام دہ بنا رہے اور خیر سے کٹتا جائے؟ ارے: یہی باپ ہوتا ہے جو سفر کرتا ہے، تھکتا ہے، زمانے کا سرد و گرم برداشت کرتا ہے تاکہ تمہارے شب و روز پرسکون بنے رہیں۔ تمہاری ہر ضرورت کے پیچھے اس کے ارمانوں کا خون ہوتا ہے، اس کی محنت کا کمایا ہوا دھن ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بیٹی کے سوال، والد کے جواب - احسن سرفراز

ارے: تمہیں تب ندامت ہوگی جب وہ مر جائے گا؟ تب تم اُس کیلیئے روؤ گے جب وہ مر جائے گا؟ تب اُس کیلیئے محبت جاگے گی جب وہ اس محبت سے بے نیاز ہو چکا ہوگا؟ ارے یہ باپ ہی ہوتا ہے جو چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا دنیا میں سب سے اچھا انسان بنے، اور وہ اس کیلیئے اپنے من کو مار کر آپ کو وہ کچھ دیتا ہے جو وہ خود نہیں کھاتا، خود پر خرچ نہیں کرتا، خود پر حرام کرتا ہے۔ ارے: تم نے تب باپ کی قدر کرنی ہے جب اُسے کھو دو گے؟ کچھ سمجھ آتی ہے تمہیں؟