طلبہ مدارس احساس کمتری کا شکار کیوں ہوں؟ محمد انس فلاحی سنبھلی

عزیز دوست محمد نور سے طویل گفتگو میں کئی ایک موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا. برادر کو اللہ نے دین کی تڑپ اور جذبہ عطا کیا ہے. دروس قرآن اور لوگوں سے انفرادی ملاقات کے ذریعے دین کی دعوت پہنچانا ان کا معمول ہے. دینی کتابوں کا مطالعہ، فقہی و عصری مسائل اور موضوعات پر لوگوں سے سوالات کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے. اللہ برادر کو مزید علمی گہرائی و گیرائی عطا فرمائے.

گفتگو کے دوران بات مدارس کے نصاب اور نظام تعلیم پر بھی ہوئی. میں نے تفصیل سے اس موضوع پر بات کی. چونکہ مجھے عصری اسکول St. Amtul public school (sambhal) اور دینی مدرسہ جامعۃ الفلاح (1962، اعظم گڑھ ) دونوں جگہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے. گفتگو میں اسکول کے نصاب ونظام اور مدرسے کے نصاب ونظام کا مقارنہ ہوا. میں نے اسکول کے بنسبت مدرسے کے نصاب و نظام تعلیم کو بہت عمدہ پایا ہے. مدرسے میں طلبہ کثرت نصاب (syllabus) کی وجہ سے کثرت مطالعہ کے عادی ہوتے ہیں. جبکہ اسکول کے اکثر طلبہ اسکول کے اوقات کے علاوہ صرف ٹیوشن پر ہی اکتفا کرتے ہیں. مدارس میں فجر کی اذان کے بعد سے ہی پڑھائی کا دور شروع ہوجاتا ہے. جو دیر رات تک چلتا رہتا ہے. اس کے برعکس اسکولز میں پڑھنے والے طلبہ ہوں یا پڑھانے والے اساتذہ بالعموم ان کاٹیوشن پر ہی پڑھنے پڑھانے پر فوکس رہتا ہے. مدراس کے نصاب میں طلبہ پر موٹی موٹی کتابیں مقرر ہونے کے باوجود طلبہ انہیں پڑھتے اور سمجھتے ہیں.

اسکول کے طلبہ کا بیگ تو آٹے کی بوری کے مانند ہوتا ہے. جبکہ پڑھا اور پڑھایا اس کا نصف ہی جاتا ہے. مدارس کے نصاب میں حسب ذیل مضامین ہوتے ہیں. حفظ، تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، اردو ادب، انگریزی، ہندی، فرق، ادیان، سیاست، معاشیات، عقیدہ، منطق. اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر وقتاً فوقتاً پر توسیعی خطبے اور لیکچرز ہوتے رہتے ہیں. اسکول کے نصاب میں حسب ذیل مضامین ہوتے ہیں. تاریخ، معاشرتی علوم، جغرافیہ، سیاسیات، ماحولیات، سائنس، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، انگلش، اردو، ہندی، ڈرائنگ وغیرہ یہ نصاب ہائی اسکول کا ہے. ممکن ہے کچھ چیزیں رہ گئی ہوں. لیکن اس تفصیلی نصاب پڑھنے والے طلبہ کا کیا حال ہے. وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے. مدارس میں طلبہ محدود وسائل، خستہ حال کمرے، سوکھا اور خشک کھانا کھانے کے باوجود حصول علم میں لگے رہتے ہیں. جبکہ اسکول اور کالجز میں تمام تر سہولیات میسر ہونے کے باوجود طلبہ پڑھائی صرف بوجھ یا مجبوری کی وجہ سے کرتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   "مدرسہ ڈسکورسز" کے متعلق چند نکات - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

یہاں اس بات کا ذکر بےمحل نہ ہوگا کہ یہ تبصرہ وتجزیہ عمومی ہے. ورنہ اسکول وکالجز میں پڑھنے والے طلبہ کی بھی خاصی تعداد اپنا وقت، محنت اور ہر طرح کی قربانی دے کر حصول علم میں ہمہ تن گوش رہتی ہے. مدارس کے طلبہ فراغت کے بعد علم سے رشتہ ختم نہیں کرتے بلکہ گود سے گور تک حصول علم کے لئے کوشاں رہتے ہیں. اس کے برعکس کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ کا عام طور سے نوکری(job )ملتے ہی علم سے رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے. مدارس کے طلبہ جب حصول علم کی خاطر یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں. تو سب میں نمایاں ہوتے ہیں. اپنے علم اور مطالعے کی بنا پر جلد ہی اپنا نام پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں. جب یہی طلبہ تعلیم کی تکمیل کے بعد یونیورسٹیز میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں. تو بقیہ اساتذہ انہیں رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں. اس کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ( دہلی، 1920) اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی( علی گڑھ ، 1928)میں موجود مدراس سے فارغ قاسمی، ندوی، فلاحی اور اصلاحی اساتذہ کو دیکھا جا سکتا ہے جو وہاں اپنا نمایاں مقام اور پہچان رکھتے ہیں.

برادر سے گفتگو کے بعد میں اس موضوع پر مزید سوچنے لگا، سوچتے میرے ذہن میں کئی ایک خیالات بجلی کی طرح دوڑنے لگے کہ مدارس کے طلبہ اتنا تفصیلی نصاب پڑھنے اور سخت نظام میں زندگی گزارنے کے باوجود اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر کیوں سمجھتے ہیں؟ وہ مدرسے سے نکلنے کے بعد احساس کمتری کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں؟

حالانکہ جو کتابیں اور نصاب انہوں نے پڑھا ہے. اس کا نصف بھی اسکولوں اور کالجوں میں نہ پڑھا اور نہ پڑھایا جاتا ہے. اور جن اساتذہ سے وہ علم حاصل کرتے ہیں. کالجز اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر سے ان کا مقابلہ کرنا تو دور اس کی کوشش بھی علم کی توہین ہی ہوگی. مدارس کے طلبہ ہدایہ کی دقیق عبارتیں، بدایہ اور قدوری، منطق اور عقیدہ کی گاڑھی بحثوں سے لے کر بخاری کے باب کیف بدء الوحی اور ابن ماجہ کے آخری باب تک پڑھنے اور پڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں. تو پھر احساس کمتری چہ معنی دارد ! مدارس میں تعلیم بامقصد ہوتی ہے. وہ علوم نبوت کے وارث بنتے ہیں.یعنی جو علم نبیوں کو دیا گیا تھا. مدارس کے طلبہ اس کے حاملین اور مبلغین بنتے ہیں. تو پھر کس بات کا غم کس بات کی فکر؟ اس پر تو خوش ہونا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے. کہ اللہ نے انہیں علوم نبوت حاصل کرنے کا موقع دیا ہے. جبکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو مادیت کی تعلیم اور مادی ذہن بنایا جاتا ہے یا بن جاتا ہے. مدارس کے طلبہ کو اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت ہے. اپنے مقام اور علم کو سمجھنے کی ضرورت ہے. اس سے والہانہ محبت اور لگاؤ کی ضرورت ہے. وہ کسی سے بھی کسی لحاظ سے کم ہیں نہ کم تھے اور نہ ہونگے. بس انہیں صرف اپنے احساس، شعور اور ضمیر کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے .