گرمی اور پسینے کی ناخوشگوار بو - بشارت حمید

پاکستان میں گرمی کے موسم کی آمد آمد ہے۔ اس موسم میں ہر ایک کو شدید پسینے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔ یہ پسینہ جہاں ایک بہت بڑی نعمت ہے وہیں اسکی وجہ سے انسانی جسم میں ناخوشگوار بو بھی پیدا ہو جاتی ہے جسکی وجہ سے دوسرے لوگوں کو ناگواری محسوس ہوتی ہے۔

بعض حساس طبعیت لوگ اپنی بو سے خود بھی الجھن محسوس کرتے ہیں ۔ پسینے کی یہ بو ہر انسان میں مختلف درجے کی ہوتی ہے۔۔ بعض لوگوں کے پسینے سے نہ ہونے کے برابر بو آتی ہے . جبکہ کئی لوگوں کو معمولی سا پسینہ بھی آ جائے تو اس سے اتنی زیادہ تیز بو آتی ہے کہ دوسروں کا قریب بیٹھ کر سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے ۔ یہ بو ہر انسان میں مختلف درجے کی ہوتی ہے اس کی شدت کو ختم کرنا تو شاید کسی کے اختیار میں نہیں لیکن کچھ تدابیر اختیار کرکے اس کے لیول کو کم کیا جا سکتا ہے۔۔ سب سے پہلے تو ہم اپنا جائزہ لیں اور اپنے پسینے سے پیدا ہونے والی بو کا لیول محسوس کریں۔۔ بعض لوگوں کو اپنی بو کی شدت کا احساس نہیں ہوتا اور وہ بڑے آرام سے دوسروں کی سانسیں جلاتے پھر رہے ہوتے ہیں اور قریب بیٹھے لوگ مروت کی وجہ سے انہیں کچھ کہتے بھی نہیں کہ کہیں یہ توجہ دلانے پر ناراض ہی نہ ہو جائیں ۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اگر ہمیں اپنی بو خود محسوس نہیں ہوتی تو دوسروں کو بھی اس کی اذیت سے ضرور گزارا جائے ۔

جن خواتین و حضرات کی بو کا لیول بہت زیادہ ہو انہیں چاہیئے کہ وہ گرمیوں میں روزانہ ایک سے زیادہ بار نہانے کی عادت ڈالیں۔۔ بغل کے ناپسندیدہ بال کم از کم ہفتے میں ایک بار ضرور صاف کریں۔۔ نہانے کے بعد کوئی اچھا سا باڈی سپرے اپنے جسم پر ڈائریکٹ سپرے کریں خاص طور بغل میں اچھی طرح لگائیں کیونکہ زیادہ بری سمیل یہیں پیدا ہوتی ہے۔ ساتھ کوئی ٹالکم پاوڈر بھی بغل میں چھڑک لیں۔۔ کچھ کاسمیٹکس خاص طور پر اس مقصد کیلئے بازار سے ملتی ہیں وہ بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ کپڑے پہن کر اوپر پرفیوم کا استعمال ضرور کریں دن میں جتنی بار بھی نہائیں کوئی اچھا سا صابن ضرور استعمال کریں تاکہ پسینے اور میل کی صفائی اچھی طرح ہو سکے۔ اگر جسم بہت زیادہ پسینہ نکال رہا ہو تو بہتر ہے کہ شدید گرمی میں روزانہ کپڑے تبدیل کرنے کی روٹین رکھی جائے کیونکہ کپڑوں میں بھی یہ بو رچ بس جاتی ہے اور اس صورتحال میں صرف نہا لینے سے کام نہیں چلے گا۔ جہاں تک ممکن ہو سکے ٹھنڈی جگہ وقت گزارا جائے تاکہ پسینہ کم سے کم آئے۔

بو کے ناخوشگوار ہونے کا احساس اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اگر کسی وجہ سے اپنے جسم سے بو زیادہ محسوس ہو رہی ہو تو اس صورتحال میں دوسرے لوگوں کے قریب بیٹھنے سے گریز کریں۔ اگر کسی کمرے یا ہال میں زیادہ لوگ جمع ہیں تو حتی الامکان وہاں جانے گریز کریں کہ ائرکنڈیشنڈ بند کمرے میں اس بو کی شدت بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے اور دوسروں کو اذیت ہوتی ہے ۔ اگر ایسی جگہ جانا ضروری ہو تو پھر نہا کر اچھی سی خوشبو لگا کر وہاں جائیں تاکہ آپکی شخصیت کا کوئی برا اثر دوسروں پہ نہ پڑے۔ اگر آپکے جسم سے ناخوشگوار بو آتی ہے اور آپ اسی حالت میں بلا جھجک کسی محفل میں چلے جاتے ہیں تو یاد رکھئے چاہے اس محفل میں کوئی آپکو اس بارے توجہ دلائے یا نہ دلائے لیکن آپ کی موجودگی سے بہت سے شرکاء کوئی خوشی محسوس نہیں کریں گے ۔ لہذا ہم سب اپنا تجزیہ خود کریں یا اپنے کسی قریبی بے تکلف دوست رشتہ دار کی مدد سے اپنی بو کا لیول پہچانیں پھر اس کے مطابق گرمیوں کا موسم گزارنے کا لائحہ عمل بنائیں تاکہ اپنے آپکو شرمندگی سے اور دوسروں کو اذیت سے بچا سکیں .

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.