اگر دورانِ نماز موبائل کی گھنٹی بجنے لگے - محمد رضی الاسلام ندوی

سوال: آج کل موبائل کا رواج بہت عام ہوگیا ہے اور ان میں طرح طرح کی رنگ ٹونز (Ring Tones) ہوتی ہیں۔ بارہا ایسی صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے کہ دورانِ نماز باجماعت کسی مصلّی کا موبائل بجنے لگا اور کافی دیر تک بجتا رہا۔ اس سے اس نمازی کے ساتھ دیگر نمازیوں کی بھی توجہ بٹتی ہے اور ان کے خشوع و خضوع میں خلل پڑتا ہے۔ مسجدوں میں موبائل بند کرنے کی ہدایات آویزاں کی جاتی ہیں، مگر پھر بھی کوئی نہ کوئی نمازی اپنا موبائل بند کرنا بھول جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کا موبائل بجنے لگے تو وہ کیا کرے؟ کیا اپنی نماز توڑ کر موبائل بند کرے ، پھر نماز میں شامل ہو، یا اپنی نماز جاری رکھے اور موبائل بجنے دے؟ یہ سوال پوچھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ، کیوں کہ دیکھا گیا ہے کہ بعض حضرات اپنی نماز میں مشغول رہتے ہیں اور ان کا موبائل بجتا رہتا ہے۔

جواب: مسجد عبادت کی جگہ ہے۔ وہاں ایسا ماحول قائم رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے کہ تمام لوگ پورے اطمینان ، سکون ، انہماک اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرسکیں اور ان چیزوں سے بچنا چاہیے، جو نمازیوں کے خشوع و خضوع میں مخل ہوں اور ان کی توجہ بٹاتی ہوں۔ ایک مرتبہ ایک شخص کا اونٹ کھو گیا۔ اس نے مسجد میں اس کا اعلان کردیا ۔ آں حضرت ﷺ نے ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا : اِنَّمَا بُنِیَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِیَتْ لَہٗ۔(سنن ابن ماجہ، کتاب المساجد، باب النھی عن انشاد السؤال فی المسجد، حدیث : 765) ’’مسجدیں تو مخصوص کام ( عبادت ِ الٰہی ) کے لیے بنائی گئی ہیں۔‘‘
موبائل کی گھنٹی سے یقینی طور پر مسجد میں موجود تمام افراد کے انہماک و خشوع میں خلل پڑتا ہے ، اس لیے مسجد میں داخل ہوتے ہی فوراً موبائل بند یا وائبریشن پر کردینا چاہیے ۔ اگر کوئی شخص اپنا موبائل بند کرنا بھول جائے اور وہ دورانِ نماز بجنے لگے تو فوراً اسے بند کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ جیب میں ہاتھ ڈال کر ، یا موبائل باہر نکال کر معمولی حرکت سے اسے بہ آسانی بند کیا جاسکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   مسجد میں خواتین - محمد رضی الاسلام ندوی

بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ارکانِ نماز کی ادائی میں اعضائے جسم کی ، جو حرکت ہوتی ہے ، اس کے علاوہ معمولی سے معمولی حرکت سے بھی نماز خراب ہوجاتی ہے ۔ حالاں کہ یہ بات صحیح نہیں ہے ۔ حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ اِلٰی شَـْیئٍ یَسْتُرُہٗ مِنَ النَّاسِ ، فَاَرَادَ اَحَدٌ اَنْ یَّجْتَازَ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلْیَدْفَعْہٗ فَاِنْ اَبٰی فَلْیُقَاتِلْہُ۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، باب یرد المصلی من مرّ بین یدیہ، حدیث: 509 ، صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب سترۃ المصلّی، حدیث: 260 ،259 ،258 ) ’کوئی شخص اپنے آگے سترہ رکھ کر نماز پڑھ رہا ہو ، پھر کوئی دوسرا اس کے آگے سے پار ہونے کی کوشش کرے تو اس کو دھکا دے دے ، اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو اس کے ساتھ اور سختی کرے ۔‘‘
راویِ حدیث حضرت ابو سعید خدریؓ نے ایک مرتبہ خود اس حدیث پر اس طرح عمل کیا کہ ایک نوجوان نے ان کے سامنے سے گزرنے کی کوشش کی ۔ انھوں نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دیا ۔ اس نوجوان نے دوبارہ نکلنا چاہا تو حضرت ابو سعیدؓ نے دوبارہ اور زور سے دھکا دیا۔ اس نوجوان نے حضرت ابو سعیدؓ کو برا بھلا کہا اور کودتا پھاندتا باہر نکل گیا ۔

معلوم ہوتا ہے کہ وہ نوجوان حکم راں خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس نے خلیفۂ وقت مروان سے شکایت کی ۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت ابو سعیدؓ بھی خلیفہ کے پاس پہنچ گئے ۔ انھوں نے اس نوجوان کی شکایت کا تذکرہ حضرت ابو سعیدؓ سے کیا۔ انھوں نے اس موقع پر درج بالا حدیث سنائی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم، حوالہ سابق) اس طرح کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دورانِ نماز وقتِ ضرورت کسی قدر حرکت سے نماز باطل نہیں ہوتی ۔ اس سلسلے میں فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ’عمل کثیر‘ (زیادہ عمل) سے نماز باطل ہوجاتی ہے ۔ ’عملِ قلیل‘ (معمولی عمل) سے باطل نہیں ہوتی۔ ان کے نزدیک عملِ کثیر سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص دورانِ نماز کوئی ایسا کام کرے جس سے دیکھنے والا یہ سمجھ لے کہ وہ نماز نہیں پڑھ رہا ہے۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ، 226/27)

اگر کسی شخص کا موبائل معمولی عمل سے نہ بند ہوتا ہو تو اسے چاہیے کہ اپنی نماز توڑکر موبائل بند کرے اور دوبارہ نماز میں شامل ہو ۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنی نماز جاری رکھے اور اس کے موبائل کی میوزک پوری مسجد میں گونج رہی ہو ۔