اچھا مقالہ نگار کیسے بنیں؟ محمد رضی الاسلام ندوی

جامعہ امام ولی اللہ اسلامیہ پھلت (مظفر نگر) میں طلبہ کی ثقافتی انجمن کے تحت 'بزم مقالات' میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ طلبہ کے مقالات سننے کے بعد مجھے ان پر تبصرہ کرنا تھا۔ میں نے اپنی گفتگو کے آخر میں طلبہ کے سامنے چند نکات بیان کیے، جنہیں ملحوظ رکھا جائے تو اچھی مقالہ نگاری کی جاسکتی ہے۔ وہ نکات درج ذیل ہیں:

(1) کثرت سے مطالعہ کیجیے :
جس موضوع پر لکھنا ہو اس پر جتنا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کر سکتے ہوں، اس میں دریغ نہ کیجیے۔ یہ تحقیق کا پہلا اور بنیادی اصول ہے۔ جدید اصطلاح میں اسے لٹریچر سروے (Literature Survey) کہا جاتا ہے۔ اس معاملے میں عموماً بہت کوتاہی پائی جاتی ہے۔ ایسے لکھنے والے بہت ہیں جو ایک مضمون پڑھ کر دوسرا مضمون لکھ ڈالتے ہیں، ایک کتاب کے چند صفحات پڑھ کر ان کا مقالہ تیار ہو جاتا ہے۔ ایسے لکھنے والے بھی بہت ہیں جو انٹرنیٹ پر بکھری ہوئی منتشر معلومات کی روشنی میں اپنے مضامین لکھ ڈالتے ہیں، لیکن علمی دنیا میں ان تحریروں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کے بارے میں ان کے شاگرد مولانا مجیب اللہ ندوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ علامہ اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کرتے تھے: "خوب پڑھو، خوب پڑھو، یہاں تک کہ جب ابلنے لگے تب لکھنا شروع کیا کرو۔" کسی موضوع پر صرف بنیادی مراجع کے مطالعہ پر اکتفا کرنا درست نہیں ہے۔ بنیادی اور ثانوی تمام طرح کے مراجع کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ معاصرین ہی نہیں، بلکہ اپنے خردوں کی تحریروں کو بھی دیکھنا چاہیے۔ کتابوں کے ساتھ متعلقہ موضوع پر مقالات و مضامین بھی مل جائیں تو ان کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے معلومات میں اضافہ کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوگا کہ آج کل کیا رجحانات چل رہے ہیں اور کسی موضوع پر کن کن خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے _ اس سے اپنی بات کو درست اور مدلل انداز میں پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

(2) لکھنے سے پہلے خاکہ بنائیے:
مطالعہ مکمل کرنے کے بعد بغیر سوچے سمجھے بلا ترتیب لکھنے کا آغاز نہیں کردینا چاہیے، بلکہ جو کچھ لکھنا ہے اس کا خاکہ نکات کی شکل میں ایک کاغذ پر نوٹ کرنا چاہیے۔ کیا بات مقالے کی ابتدا میں لکھنی ہے؟ کس چیز کا تذکرہ اس کے بعد کرنا ہے؟ کس بات پر مقالے کا خاتمہ کرنا ہے؟ اس میں کن کن واقعات کا تذکرہ کرنا ہے؟ کچھ چیزوں کا حوالہ دینا ہو تو پہلے حوالے فراہم کرلیجیے اور ان کے اقتباسات نقل کرلیجیے۔ خلاصہ یہ کہ مقالہ لکھنے سے پہلے اس کے تمام بنیادی نکات ایک کاغذ پر نوٹ کرلینا چاہیے۔ کچھ لوگ لکھنے بیٹھتے ہیں تو برجستہ لکھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کام کی باتیں لکھوا لے گا۔ اس طرح اخباری مضامین تو لکھے جا سکتے ہیں، لیکن معیاری مقالہ نگاری کے لیے یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اس کا امکان ہے کہ مقالہ لکھنے کے دوران ہمیں اپنی ترتیب پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہو۔ پہلے ہم نے جو بات مقالے کی ابتدا میں لکھنے کا ارادہ کیا تھا ، اسے بعد میں بیان کرنا زیادہ مناسب معلوم ہو اور جسے بعد میں لکھنے کا ارادہ کیا تھا اسے پہلے ذکر کرنا زیادہ موزوں لگے۔ ترتیب بدلنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن اپنے افکار کو مرتب کیے بغیر لکھنے کا آغاز کر دینا صحیح نہیں ہے۔

(3) اپنی تحریر کے خود ناقد بنیے:
مقالہ لکھنے کے بعد اسے بار بار پڑھیے _ زبان و بیان اور اسلوب کی اصلاح کیجیے۔ مذکر، مؤنث واحد، جمع، مبتدا، خبر وغیرہ درست کیجیے۔ لسانی اعتبار سے اسے معیاری بنائیے۔ تعبیرات پر غور کیجیے۔ یہ دیکھیے کہ مثبت بات کو اگر استفہامی انداز میں لکھا جائے تو کیسا رہے گا؟ کیا تشبیہات و استعارات کو استعمال کرنے سے تحریر میں خوبصورتی پیدا ہوجائے گی؟ جملے چھوٹے لکھیے۔ کوئی جملہ بڑا ہو گیا ہو تو اسے کئی چھوٹے چھوٹے جملوں میں تقسیم کیجیے۔ خلاصہ یہ کہ اپنی تحریر کے خود ناقد بنیے۔ یہ نہ سوچیے کہ "مستند ہے میرا فرمایا ہوا"۔ جو شخص اپنی تحریر پر جتنا زیادہ تنقیدی اعتبار سے نگاہ ڈالے گا اور جتنی بےدردی سے اس کی کاٹ چھانٹ کرے گا اتنی ہی اس کی تحریر زیادہ مرتّب، معیاری اور مؤثّر ہوگی۔ آپ دیکھتے نہیں کہ خودرَو پودے میں جب مالی کاٹ چھانٹ کرتا ہے تو اس میں بلا کا حسن پیدا ہوجاتا ہے۔

(4) مختصر لکھنے کی عادت ڈالیے:
تحریر کی خوبصورتی اس کا مختصر ہونا ہے۔ طویل تحریریں قارئین میں اکتاہت پیدا کرتی ہیں اور وہ دل جمعی سے ان کا مطالعہ نہیں کرپاتے۔ موجودہ تیز رفتار زندگی میں مختصر نویسی کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تحریر میں نہ بلا ضرورت اطناب ہو اور نہ اس قدر اختصار کہ قاری کو بات ہی سمجھ میں نہ آئے۔ ایک مرتبہ ایک تحریری مسابقہ کا اعلان ہوا۔ ایک شرط یہ تھی کہ مضمون 500 سے زیادہ الفاظ پر مشتمل نہ ہوا۔ مجھے شبہ ہوا کہ اتنا مختصر مضمون نہیں مانگا گیا ہوگا۔ 5000 الفاظ کی شرط ہوگی، پرنٹنگ کی غلطی سے ایک نقطہ چھوٹ گیا ہوگا۔ مسابقہ کے آرگنائزر سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ طباعت کی غلطی نہیں ہے۔ 500 الفاظ پر مشتمل مضمون ہی مطلوب ہے۔ میں نے مضمون لکھا، جو تقریباً 8 ہزار الفاظ کا ہوگیا۔ پھر میں نے اسے مختصر کرنا شروع کیا۔ ایک بار کاٹ چھانٹ کی، پھر دوسری بار، پھر تیسری بار، پھر چوتھی بار، غرض اتنی بار اسے پڑھا اور مختصر کیا کہ وہ 500 الفاظ کی حد میں آگیا۔ نتیجہ کا اعلان ہوا تو میرا نام بھی انعام پانے والوں میں شامل تھا۔ مختصر نویسی توجہ، انہماک اور محنت چاہتی ہے۔ مشہور ہے کہ مولانا محمد علی جوہر، جو جریدہ کامریڈ کے ایڈیٹر تھے، کہا کرتے تھے کہ میرے پاس مختصر لکھنے کا وقت نہیں ہے۔