لبرلز اور "ایج آف کنسینٹ" - ڈاکٹر رضوان اسد خان

پاکستانی قانون کے مطابق لڑکی کی شادی کے لیے کم سے کم عمر 16 سال اور لڑکے کے لیے 18 سال ہے اور یہ 1929ء کے برطانوی قانون سے ماخوذ ہے. 2014ء میں سندھ اسمبلی نے یہ عمر لڑکی کے لیے بھی 16 سے بڑھا کر 18 سال کر دی تھی، البتہ دیگر صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں یہ بل منظور نہ ہو سکا. قومی اسمبلی میں اسے نظر ثانی کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف ریفر کر دیا گیا جس کا فیصلہ تاحال مؤخر ہے. اس دوران مختلف اوقات میں کونسل نے "چائلڈ میرج ایکٹ" کو خلاف اسلام قرار دیا ہے، کیونکہ اسلام میں بلوغت کا معیار محض عمر نہیں بلکہ وہ جسمانی تبدیلیاں ہیں جو کسی بھی عمر میں نمودار ہو سکتی ہیں.

اقوام متحدہ کے مطابق 18 سال سے کم عمر میں شادی "بنیادی انسانی حقوق" کے خلاف ہے. اس کے باوجود امریکہ کی کچھ ریاستوں اور برطانیہ سمیت دنیا کے کثیر ممالک میں جنسی تعلق کے لیے آزادانہ رضامندی کی عمر (ایج آف کنسینٹ) 16 سال ہے. دنیا میں اس غرض کے لیے کم سے کم عمر نائجیریا میں یعنی 11 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر بحرین میں یعنی 21 سال ہے. دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں یہ عمر 13 سال ہے.

لیکن یہاں جنسی تعلق کے لیے شادی کی کوئی قید نہیں. اور جن ممالک میں اس تعلق کے لیے شادی کو قانونی شرط قرار دیا گیا ہے، ان اسلامی ملکوں کے ان قوانین پر جدید دنیا کو کافی تشویش ہے.

الغرض منافقانہ لبرل پیمانوں کے مطابق رضامندانہ جنسی تعلق 18 سال سے کم عمر میں بھی جائز ہے، لیکن شادی کر لیں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے. اور یوں اس بےہودہ فلسفے پر بنائے گئے ریپ کے قوانین ایک عجیب ہی گورکھ دھندا ہیں ... نہ سمجھنے کے نہ سمجھانے کے.

یہ بھی پڑھیں:   دستک دینا ہر مرد کی فطرت ہے - ملک محمد

اس پس منظر میں مئی 2017 میں "دی نیوز" میں لکھا گیا ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، فیصل نقوی کا ایک آرٹیکل خاصا دلچسپ ہے اور بتاتا ہے کہ عملی طور پر پاکستانی لبرل کو ابھی بھی کافی کڑوی گولیاں نگلنی پڑتی ہیں. الحمداللہ

وہ لکھتے ہیں کہ سندھ میں اس بل کی منظوری کے فوراً بعد کراچی کے ایک گھرانے نے ان سے رابطہ کیا کہ ان کی 15 سالہ بیٹی نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی ہے اور اب اپنے شوہر کے ساتھ لاہور میں رہائش پذیر ہے. انھوں نے قانونی چارہ جوئی اور لڑکی کی بازیابی کی درخواست کی. وکیل صاحب لکھتے ہیں کہ جب میں نے اس پر کام شروع کیا تو مجھے پتہ چلا کہ پاکستان میں چائلڈ میرج کے یہ قوانین محض فریب نظر ہیں کیونکہ عملی طور پر یہ کم عمری کی شادیوں کو روکنے یا منسوخ کرنے میں غیر مؤثر ہیں. چونکہ 1939ء کے شریعہ ایکٹ کے مطابق (دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھی انگریز دور کا تحفہ ہے) برصغیر کے مسلمانوں کا "پرسنل لاء" شریعت ہے. لہٰذا جج نے نکاح نامے کو قانون اور شریعت کے مطابق قرار دیکر میرا مقدمہ خارج کر دیا.

یہاں جج صاحب کے جو الفاظ، نقوی صاحب نے آرٹیکل میں نقل کیے ہیں وہ لبرلز کے سینے پر مونگ دلنے اور اسلامسٹس کے سینے میں ٹھنڈ ڈالنے والے، سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں. جب فیصل نقوی صاحب نے حوالہ دیا کہ سندھ اسمبلی نے لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کر دی ہے تو معزز جج نے فرمایا، "میں آپکے قانون کو مانوں یا شریعت کو؟"

(اللہ اکبر کبیرا)

وکیل موصوف نے فیصلے کے خلاف اپیل کی تو کم از کم اتنی رعایت ملی کے عدالت نے لڑکی کو طلب کر لیا. لڑکی جب عدالت میں پیش ہوئی تو حاملہ بھی تھی اور بن سنور کر 21 سال کی عورت لگ رہی تھی. اس نے بیان دیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی مرضی سے رہ رہی ہے اور بہت خوش ہے. اور یوں کیس دوبارہ خارج کر دیا گیا.

یہ بھی پڑھیں:   شادی "زدہ" لوگ - محمودفیاض

اگرچہ لڑکی کے گھر سے بھاگنے کی "لبرل آزادی" کی کسی بھی طرح سے حمایت نہیں کی جا سکتی، لیکن لبرلز کی چالیں جب انھی کے خلاف پڑتی ہیں تو دلی خوشی محسوس کرنے سے اپنے آپ کو روکا تو نہیں جا سکتا ناں.