حضرت خضر علیہ السلام انسان تھے یا فرشتہ؟ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

جاوید احمد غامدی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ جس ’’عبد‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی حضرت خضر علیہ السلام، انہیں فرشتہ کہا ہے۔ اس سوال و جواب کو درج ذیل لنک پر سنا جا سکتا ہے۔

https://www.meezan.tv/audios/khizr-pbuh-angel-or-human-being-2289

اب ذرا قرآن مجید کی اس مقدسہ پر غور کیجیے :
فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا [١٨:٧٧]

''پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب دونوں ایک بستی والوں کے پاس آپہنچے، دونوں نے وہاں کے باشندوں سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان دونوں کی میزبانی کرنے سے انکار کر دیا، پھر دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی تو (خضر علیہ السلام نے) اسے سیدھا کر دیا، موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اگر آپ چاہتے تو اس (تعمیر) پر مزدوری لے لیتے۔''

اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ موجود ’’عبد‘‘ دونوں نے گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا اور انہوں نے ان کی ضیافت سے منع کر دیا۔ ان دونوں کی طرف قرآن مجید میں کھانے کو طلب کرنے کی نسبت کی گئی ہے، جو اس بات پر دلیل ہے کہ انہیں بحیثیت بشر کھانے کی حاجت تھی۔

جبکہ ضیف ابراہیم علیہ السلام یعنی فرشتوں نے انسانی صورت میں ہونے کے باوجود کھانا نہیں کھایا تھا۔ قرآن مجید میں ہے: فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ [٥١:٢٦] فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ [٥١:٢٧] ''پھر جلدی سے اپنے گھر کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے کی سجّی لے آئے، پھر اسے ان کے سامنے پیش کر دیا، فرمانے لگے: کیا تم نہیں کھاؤ گے۔''

سورہ ھود میں ایک اور مقام پر ہے: فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ ﴿هود: ٧٠﴾ ''پھر جب (ابراہیم علیہ السلام نے) دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (کھانے) کی طرف نہیں بڑھ رہے تو انہیں اجنبی سمجھا اور (اپنے) دل میں ان سے کچھ خوف محسوس کرنے لگے، انہوں نے کہا: آپ مت ڈریے! ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔'' امام رازی فرماتے ہیں: اتفقوا على أن الملائكة لا يأكلون ولا يشربون ولا ينكحون یعنی تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ فرشتے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں اور نہ ہی نکاح کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان کی عظمت و قدر - محمد اسامہ اسلم

غامدی صاحب اپنی تفسیر میں ضیف ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں: اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانے سے حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ یہ فرشتے ہیں جو انسانی صورت میں آئے ہیں۔ جبکہ اس بارے میں مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں: }معلوم ہوتا ہے ان لوگوں کے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں یہ کھٹک پیدا ہوئی کہ یہ لوگ بشر نہیں ہیں، جیسا کہ انھوں نے گمان کیا ہے، بلکہ فرشتے ہیں۔ فرشتوں کا کھانا نہ کھانا ایک معروف بات ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر سے مخفی نہیں ہو سکتی تھی۔

اب صورت یہ سامنے آئی کہ غامدی صاحب کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ’’عبد ‘‘ یعنی خضر علیہ السلام فرشتے تھے ۔جبکہ قرآن مجید میں یہ ذکر ہے کہ انہوں نے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کھانا طلب کیا۔مولانا امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب دونوں نے اس بات کا ذکر اپنی تفسیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کے بارے میں کیا ہے کہ انہوں نے فرشتے ہونے کی بنا پر کھانا نہیں کھایا جس کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر یہ واضح ہو گیا کہ یہ بشر نہیں ہیں۔

پس یہ معلوم ہو گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ موجود شخصیت انسان تھے نہ کہ فرشتے ۔ جاوید احمد غامدی صاحب کو اپنے اس موقف پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.