میرا جسم میری مرضی - بشارت حمید

انسان کی دسترس میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اس پر اپنی ملکیت قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن یہ حق ملکیت ایک دھوکے اور خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ انسان کا اپنا کچھ بھی نہیں یہاں تک کہ جسم بھی نہیں جس کے بارے آج کل کا معروف نعرہ لگایا جاتا ہے۔ آئیں اس کا تجزیہ کر لیتے ہیں کہ اس نعرے کی حقیقت کیا ہے۔

جسم کا بہت اہم عضو سینے میں دھڑکتا دل ہوتا ہے۔ ذرا اپنے جسم پر حق ملکیت جتانے والے ہر لحظہ دھڑکنے والے دل کو کچھ دیر ریسٹ کروانے کے لئے روک کر تو دکھائیں۔ پتہ تو چلے جسم کی ملکیت پر کتنا اختیار رکھتے ہیں۔

چلیں یہ مشکل کام لگتا ہے تو ذرا آسان کر لیتے ہیں۔ یہ ہر وقت سانس لے کر فضا سے آلودگی اپنے پھیپھڑوں میں ٹھونسنے کی بجائے چند منٹ سانس ہی روک لیں اور ماحول کو بھی پھیپھڑوں سے باہر نکالی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے محفوظ رکھیں۔

ایک اور آپشن بھی ہے۔ ذرا ہر وقت پورے جسم میں گردش کرنے والے چند لٹر خون تو روکیں یہ کیوں ہر وقت بنا رکے بھاگ دوڑ کرتا رہتا ہے۔ ہے کوئی مرضی کی مالک دلیر بندی یا بندہ جو ان میں سے کسی بھی آپشن پر اپنی مرضی سے عمل کرکے دکھا سکے۔

یہ دل نہ ہمارے چاہنے اور خواہش سے دھڑکتا ہے نہ ہماری خواہش پر رکے گا۔۔ یہ سانس بھی نہ ہماری مرضی سے آتا ہے نہ ہماری مرضی سے رکے گا یہی معاملہ خون کی گردش کا بھی ہے۔ یہ چند موٹی موٹی مثالیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ جسم جسے ہم اپنا سمجھتے اور کہتے ہیں یہ درحقیقت ہماری ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے خالق و مالک کی عطا ہے اس نے جو چاہا جیسا چاہا بنا دیا۔ جب میں اس جسم کو میرا جسم کہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ "میں" اس جسم سے الگ کوئی اور شے ہوں تب ہی تو "میرا" کہہ کر اپنی طرف نسبت دے رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   انسانوں کا انسانوں سے تعلق - محمد فہد صدیقی

ہمیں اپنی اصل ذات یعنی اس "میں" کو پہچاننے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس عارضی جسم کی ملکیت کے دھوکے میں نہیں رہنا چاہیے۔ جو لوگ یہ نعرہ لگا رہے ہیں ان کا مقصد سوائے بے راہ روی عام کرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔۔ اس غلط سوچ سے خبردار رہنے اور اس سے بچ کر رہنے کی ضرورت ہے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.