سمندر میں تیل، قبل از وقت شور شرابا - مسعود ابدالی

ہمارے وزیراعظم صاحب پاکستانیوں کی خوشی اور خوشحالی کے لیے بےچین ہیں اور اسی بنا پر وہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے کھودے جانے والے کنویں کیکڑا نمبر 1 کے بارے میں پرجوش و پرامید نظر آ رہے ہیں۔ تاہم اس ضمن میں جلد بازی ان کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔ پرامید ہونا تو اچھی بات ہے، لیکن کھدائی کی تکمیل سے پہلے ہی ایشیا میں تیل و گیس کے سب سے بڑے ذخیرے کے دریافت کی خوشخبری سنا دینا ہمارے خیال میں کسی طور مناسب نہیں۔

اس کنویں پر کامیابی کی امید صرف 12 فیصد ہے اور اس پس منظر میں قبل از وقت کامیابی کے شادیانے بجا دینا اس اعتبار سے انتہائی خطرناک ہے کہ اگر خدانخواستہ متوقع نتائج حاصل نہ ہوسکے تو جہاں قوم کے حوصلے پست ہوں گے وہیں وزیراعظم پر سے قوم کا اعتماد ختم ہوجائے گا۔

جو احباب اس صنعت سے وابستہ نہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ تیل کے ذخیرے کی دریافت کے لیے چند باتیں اہم ہیں:

· اس جگہ مسام دار چٹانیں جیسے چونے کا پتھر (Limestone) یا ریت (Sand) ضروری ہیں جن میں تیل یا گیس جمع رہے۔ تیل گیس اور پانی زیر زمین چٹانوں کے مسامات میں اسی طرح جمع رہتے ہیں جیسے اسفنج میں پانی۔ یہ مسام دار چٹانیں ہی کیکڑا کا ہدف ہے۔

· دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ اس مسام دار چٹان کے اوپر ایک غیرمسام دار چٹان (Cap rock) موجود ہو جو اس تیل و گیس کے ذخیرے کو محفوظ رکھ سکے۔ اگر ذخیرے کے اوپر چٹانوں کی کوئی سخت پرت موجود نہ ہو تو یہ تیل و گیس اوپر اور دائیں بائیں رس (Leak) جائے گی۔

· تیسری اہم بات یہ ہے کہ اس جگہ کی ساخت و بناوٹ (structure) ایسی ہو کہ تیل و گیس ہر طرف سے سمٹ کر ذخیرے کی طرف آ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   آٹھ نو دس ہوئے، بس انشاء بس - آصف محمود

ان تینوں نکات کا حتمی تعین اسی صورت ہوسکتا ہے جب ہدف تک کامیابی سے کھدائی مکمل کر لی جائے اور محض کھدائی کافی نہیں بلکہ مسامات کے تجزیے و پیمائش، ذخیرے میں موجود تیل و گیس کی مقدار کے تعین، اس کے دباؤ اور غیر مسام دار چٹان کے تجزیے کے لیے تفصیلی پیمائش و آزمائش (Logging & Testing) کے بعد ہی تیقن کے ساتھ کچھ کہا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے ہونے والے مشاہدات و نشانات سے کچھ اندازہ تو ہوتا ہے لیکن اس کی بنیاد پر دعوی کر دینا مناسب نہیں۔

اس ضمن میں آج کل Pressure Kicks [/english] کا بڑا شور ہے اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ زیرزمین تیل و گیس کے غیر معمولی دباؤ کا مظہر ہے۔ پریشر ککس کو سمجھنے کے لیے احباب تصور کریں کہ چار پانچ ہزار میٹر مٹی سے دبی چٹانوں میں مائعات (تیل ، پانی یا گیس) پھنسے ہوتے ہیں اور جب کھدائی کے دوران اوپر کی پرت ادھڑتی ہے تو یہ مائع پوری قوت سے کنویں کے راستے اوپر کی طرف اٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے پانی میں مختلف کیمیکل ملا کر نیچے پمپ کیا جاتا ہے جسے کیچڑ یا Mud کہتے ہیں۔ کیچڑ کی کمیت بڑھانے کے لیے اس میں وزن دار کیمیکل جیسے بیرائٹ (Barite) ملایا جاتا ہے، جس کی وجہ سےکیچڑ بھاری ہو جاتا ہے۔ کیچڑ سے زیر زمین پڑنے والے دباؤ کو Hydrostatic Pressure کہتے ہیں جبکہ زیرزمین اوپر کی جانب دباؤ Formation Pressure کہلاتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ Hydrostatic Pressure زیرزمین دباؤ سے اتنا زیادہ تو ہو کہ چٹانوں میں پھنسا مائع اوپر کی جانب سفر نہ کر سکے، لیکن اتنا زیادہ بھی نہ ہو کہ اس کے دباؤ سے زیرزمین چٹانیں ٹوٹ پھوٹ جائیں۔ زیرزمین دباؤ کے تخمینے میں بسا اوقات غلطی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے Pressure Kicks کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ کیکڑا 1 میں بھی جس Pressure Kicks کی بات کی جا رہی ہے، وہ اسی قسم کی ایک چیز ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ پانی کی Kick ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   آوازدوقانون کو،قانون کہاں ہے؟ - مولانامحمدجہان یعقوب

ہماری اس تحریر کا مقصد مایوسی پھیلانا نہیں۔ ساری قوم عمران خان کی طرح پرامید و دعا گو ہے لیکن کنویں کی کھدائی ایک عام ٹیکنیکل معاملہ ہے اور جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں وہ انتہائی تجربہ کار ہیں، انھیں معلوم ہے کہ کس مرحلے پر حاصل ہونے والی معلومات حتمی ہیں جو وقت پر جاری کر دی جائیں گی۔ غیر مصدقہ اطلاعات و مشاہدے کی بنیا پر سنسنی خیز خبروں سے پاکستان کے بارے منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے اور وزیراعظم کی جانب سے اس بے صبری کا اظہار صنعتی حلقوں میں مذاق بنا ہوا ہے۔