امریکہ کو گولان کا علاقہ اسرائیل کو دینے کا کوئی اختیار نہیں - رجب طیب ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے گولان کے پہاڑی علاقے پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ استنبول میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ٹرمپ کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ نیتن یاہو کو امریکہ بلائے اور اسرائیلی انتخابات میں کامیابی کے لیے گولان کا پہاڑی علاقہ اسرائیل کو دینے کے اعلامیے پر دستخط کرے۔ یہ سارے اقدامات صرف انتخابات میں جیت کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گولان کا پہاڑی علاقہ اسرائیل کا نہیں شام کا ہے جس کو دینے کا اختیار امریکہ کو ہرگز نہیں ہے۔

رجب طیب ایردوان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کے مطابق گولان کا علاقہ جس پر اسرائیل قابض ہے شام کی اراضی ہے۔ مگر اس کے باوجود ٹرمپ کو کیا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی من مانی کرتے ہوئے اس پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرے۔ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، یورپی یونین، چین، جرمنی، برطانیہ اور روس سمیت دیگر ممالک نے امریکی فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرات سے سچائی کا ساتھ دینا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ یاد رہے شام میں گولان کے پہاڑی علاقے پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔ جسے اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا ہے۔