حکمت کی اہمیت مفہوم اور اسباب - خطبہ مسجد نبوی

مسجد نبوی کا دروازہ

فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن حذیفی حفظہ اللہ نے22 رجب 1440کا خطبہ جمعہ بعنوان "حکمت کی اہمیت مفہوم اور اسباب" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی ہر شخص کا ہدف ہے، ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی خامی یا بری صفت نہ پائی جائے وہ امتیازی خوبیوں کا مرقع ہو تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس کو حکمت اپنے وسیع تر مفہوم کے ساتھ مل جائے تو کامیابیاں مل سکتی ہیں جبکہ حکمت سے عاری چیزیں بیوقوفی پر مبنی ہوتی ہیں اسی لیے اللہ تعالی نے شیطان ، شیطانی چالوں اور چیلوں سمیت مشرکوں کو بھی بیوقوف قرار دیا ہے۔ حکمت یہ ہے کہ کتاب و سنت پر عمل کے ساتھ صحیح موقف اپنائیں اور لوگوں کے کام آئیں، نیز کسی کے بارے میں غلط خیالات دل میں نہ رکھیں۔ اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ بتلائے ہوئے تمام تر احکامات حکمت سے بھر پور ہیں، نیک لوگوں کی نصیحتوں میں بھی حکمت بھری باتیں ملتی ہیں، اولین حاملین حکمت انبیائے کرام ہوتے ہیں پھر ان کے پیروکار اپنی اطاعت گزاری کے مطابق حکمت حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ: حکمت حاصل کرنے کے لئے: عقیدہ توحید اپنائیں، شرک سے بیزار رہیں، قولی اور فعلی ہر انداز سے اللہ کا شکر کریں، اپنے اعضا کو گناہوں اور دل کو تمام تر برائیوں سے محفوظ رکھیں، لایعنی چیزوں سے احتراز کریں، اپنے آپ کو معاشرے کا مفید فرد بنائیں، تسلسل کے ساتھ محاسبہ نفس کریں، اور حصول حکمت کے لئے اللہ سے دعائیں مانگیں، آخری میں حکمت بھری باتوں پر مشتمل ایک لمبی روایت ذکر کی اور پھر سب کے لئے جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ:

تمام تعریفیں غالب اور بخشنے والے اللہ کیلئے ہیں، وہی گناہ معاف اور توبہ قبول کرنے والا ہے، وہ سخت سزا دینے والا اور قوت والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے وہی آخری ٹھکانا ہے، میں اپنے رب کی معلوم اور نامعلوم سب نعمتوں پر اسی کی حمد اور شکر بجا لاتا ہوں، بہترین ثنا اور حمد اسی کے لیے ہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہیں لوٹ کر جانا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ نہایت رحم کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے، یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ کتاب و سنت کا نور لے کر آئے، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد ﷺ ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما، صحابہ نے اسلام کے مدد گار بن کر کفر کو رسوا کیا یہاں تک کہ کفر مٹ گیا۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو ،اسی کی اطاعت کرو؛ کیونکہ اسی کی اطاعت گزاری سے ہر کوئی با مراد ہوتا ہے، اور اسی کی نافرمانی سے نامراد ٹھہرتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرنے والے ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیا، صدیقین، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ اور رفاقت کے لئے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں۔ [النساء: 69]

اسی طرح فرمایا: {وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا} اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والے کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے [الجن: 23]

اللہ کے بندو!

ہر شخص کی یہ کوشش، تمنا اور چاہت ہوتی ہے کہ وہ انتہائی خوش حال ہو، اس میں بہترین خوبیاں پائی جائیں، وہ ہمیشہ ٹھوس راستے پر ہو، ہر وقت صراط مستقیم پر قائم دائم ہو، اللہ اس کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائیاں جمع کر دے۔ ہر شخص شقاوت ، خسارے، ذلت ، نقائص، بری صفات، رذیل خصلتوں، گمراہی اور رسوائی کے راستوں سے نفرت کرتا ہے۔ ایسے ہی تمام تر حالات میں برے نتائج سے کراہت رکھتا ہے، برے خاتمے کو ناپسند کرتا ہے، ہر شخص کی یہ تمنا ہے کہ اپنے آپ کو نقصانات اور مہلک چیزوں سے محفوظ کر لے، پھر اس کے لئے حسب قدرت مناسب اسباب بھی اپناتا ہے۔

 تو کیا ان بلند اہداف کو پانے کے لئے کوئی راستہ ہے ؟

کیا ان مثبت چیزوں کو پانے کا کوئی طریقہ ہے؟

زندگی میں آنے والے شر، گمراہ کن فتنوں اور برے نتائج سے بچاؤ ممکن ہے؟

کیا یہ ممکن بھی ہے؟

ہاں یہ ان کے لئے بہت آسان ہے جن پر اللہ تعالی آسانی فرما دے!

زندگی اور مرنے کے بعد ان مثبت اہداف کو پانے اور منفی چیزوں سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے، اور اس کا کوئی اور متبادل بھی نہیں ہے! اور وہ یہ ہے کہ انسان کو وسیع تر مفہوم کے مطابق حکمت عنایت ہو جائے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ} اللہ تعالی جسے چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جسے حکمت سے نواز دیا گیا تو اسے بہت بڑی خیر سے نواز دیا گیا۔ اور ان باتوں سے صرف عقلمند لوگ ہی سبق حاصل کرتے ہیں [البقرة: 269]

جبکہ حکمت سے عاری راستے بہت زیادہ ہیں، انہیں اللہ کے سوا کوئی شمار بھی نہیں کر سکتا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ} اے ایمان والو! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو وہ تو بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم دے گا۔ [النور: 21]

شیطان کے تمام تر اقدامات بیوقوفی اور گمراہی پر مبنی ہوتے ہیں؛ کیونکہ یہ اقدامات اٹھانے والا خود ابلیس مہان بیوقوف ہے، اللہ تعالی کا سورت جن میں فرمان ہے: {وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا} ہمارے بیوقوف لوگ اللہ کے ذمے بہت سی جھوٹی باتیں لگاتے رہے [الجن: 4] تو مفسرین اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ یہاں بیوقوف سے مراد ابلیس ہے۔

اللہ تعالی نے شیطان کے پیروکاروں کو بھی بیوقوف کہا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} جلد ہی بیوقوف لوگ ضرور کہیں گے کہ مسلمانوں کو ان کے پہلے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا۔ آپ ان سے کہیے کہ : مشرق و مغرب تو اللہ ہی کے لیے ہیں، وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ [البقرة: 142]

نیز مشرکوں کو بھی بیوقوفی سے موصوف کیا جو کہ فقدان بصیرت اور کم عقلی  کا نام ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ (130) إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} اور ابراہیم کے دین سے تو وہی نفرت کر سکتا ہے جس نے خود اپنے آپ کو بیوقوف بنا لیا ہو۔ بے شک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں (اپنے کام کے لیے) چن لیا اور آخرت میں بھی وہ صالح لوگوں میں سے ہوں گے[130] جب انہیں ان کے پروردگار نے فرمایا کہ ''فرمانبردار بن جاؤ'' تو انہوں نے فوراً کہا کہ : میں جہانوں کے پروردگار کا فرمانبردار بن گیا ہوں۔ [البقرة: 130، 131]

اس لیے بیوقوفی کے راستے بہت زیادہ ہیں، ان سب کے تانے کفر ،نفاق ، کبیرہ گناہوں اور نافرمانیوں کی اقسام سے جا ملتے ہیں، ان تمام اقسام کے برابر حکمت کی اقسام بھی ہیں۔

حکمت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مفسرین کے متعدد اقوال ہیں تاہم کوئی بھی قول دوسرے سے متصادم نہیں ہے، چنانچہ امام بغوی اللہ تعالی کے فرمان: {ذَلِكَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ} یہ اس حکمت میں سے ہے جو تیرے رب نے تیری جانب وحی کی ہے۔[الإسراء: 39] کی تفسیر میں حکمت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا: "اللہ تعالی نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے یا کسی چیز سے روکا ہے یہ سب حکمت ہے"

اسی طرح اللہ تعالی کے فرمان: {وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ} اللہ نے اسے بادشاہی اور حکمت عطا کی۔[البقرة: 251] کی تفسیر میں کہتے ہیں: "ایسا علم جس کے ساتھ عمل بھی ہو حکمت کہلاتا ہے۔"

امام مجاہد؛ اللہ تعالی کے فرمان : {يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ} وہ جسے چاہتا ہے حکمت سے نوازتا ہے۔[البقرة: 269]کی تفسیر میں کہتے ہیں: "یہاں حکمت سے مراد قرآن، علم، اور فقہ ہے"

جبکہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ ، فرمانِ باری تعالی: {وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ} اور ہم نے انہیں حکمت عطا کی۔[ص: 20] کی تفسیر میں قتادہ رحمہ اللہ کا قول ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: " قرآن اور قرآنی تعلیمات پر عمل حکمت ہے"، جبکہ مجاہد کہتے ہیں: "حکمت سے مراد درست فیصلے کی صلاحیت ہے"

تو حکمت متعدد مفاہیم کا مجموعہ ہے جو کہ یہ ہیں: شرعی علم ہو اور اس پر عمل بھی کریں، موقف اپنائیں تو درستگی والا ہو، اپنے اعمال پر شرعی نصوص کا مکمل نفاذ کریں، لوگوں کی حسب استطاعت بھلائی کریں ان کے کام آئیں، ان کی خیر خواہی چاہیں اور اپنے سینے میں کسی کے بارے میں غلط خیال نہ رکھیں۔ اللہ کے ساتھ مخلص رہیں تا کہ ثواب حاصل کر سکیں اور سزاؤں سے بچ جائیں۔

اللہ تعالی نے سب سے بڑی حکمت کی وصیت سورت انعام میں کرتے ہوئے فرمایا: {قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (151) وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (152) وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} آپ ان سے کہئے :''آؤ! میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ تمہارے پروردگار نے تم پر کیا کچھ حرام کیا ہے :وہ یہ ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ اور والدین سے اچھا سلوک کرو، مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو (کیونکہ) ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں تو ان کو بھی ضرور دیں گے، بے حیائی کی باتیں خفیہ ہوں یا اعلانیہ ان کے قریب بھی نہ جاؤ ، جس جان کو اللہ نے قابل احترام قرار دیا اسے قتل نہ کرو الا کہ حق بنتا ہو۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں تاکیداً حکم دیا ہے۔ تا کہ تم عقل سے کام لو [151] اسی طرح یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو (اس کے حق میں) بہتر ہو۔ تاآنکہ یتیم سمجھدار ہو جائے، ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا پورا دو، ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتے۔ جب کچھ کہو تو انصاف سے کہو، خواہ وہ بات تمہارے کسی قریبی سے تعلق رکھتی ہو، اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو[152] اور بلاشبہ یہی میری سیدھی راہ ہے لہذا اسی پر چلتے جاؤ اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے ہٹا کر جدا جدا کر دیں گی۔ اللہ نے تمہیں انہی باتوں کا حکم دیا ہے شاید کہ تم (کجروی سے) بچ جاؤ [الأنعام: 151- 153]

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ہمارے لیے وصیتیں ہیں، مثلاً: حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے فرمایا: (تم اپنے پروردگار کی عبادت کرو، پانچ نمازیں پڑھو، اور مہینے کے روزے رکھو، اپنے حکمران کی اطاعت کرو تو اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے) اس حدیث کو امام احمد نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

پھر اس کے بعد حکمت و دانائی رکھنے والے مومنوں کی نصیحتوں پر عمل کریں جن سے شخصیت سنورتی اور کردار سازی ہوتی ہے ، عقل روشن اور قلب پاکیزہ بن جاتے ہیں، ان سے نیکی کی رغبت اور گناہ سے نفرت بڑھتی ہے۔

اہل ایمان کی ایسی نصیحتیں بہت زیادہ ہیں ان میں سے جامع ترین نصیحتیں پارسا لقمان علیہ السلام کی ہیں؛ کہ اللہ تعالی نے انہیں حکمت عنایت کی ہوئی تھی، اللہ تعالی کا ان کے متعلق سورت لقمان میں فرمان ہے: {وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَابُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ} جس وقت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت بنانا، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔[لقمان: 13] تو انہوں نے اپنے ہاں محبوب ترین فرد کو وحدانیت الہی کی نصیحت کی اور ہر قسم کی عبادت میں شرک سے روکا ؛ کیونکہ یہ عمل دنیاوی کامیابی اور اخروی سعادت ہے، یہ ہر قسم کی بھلائی کا محور ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو بھلائی کی رغبت دی چاہے معمولی ہو، اور اسی طرح برائی سے خبردار کیا چاہے ذرہ برابر ہو؛ کیونکہ اللہ تعالی ان سب چیزوں کو حاضر کر کے اس پر بدلہ ضرور دے گا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو مکمل طور پر نماز قائم کرنے کی تاکید کی، بھلائی کا حکم دیا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نصیحت کی؛ کیونکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے لازمی ، ضروری اور فرض ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اس کام پر ڈٹ جانے کی وصیت کی ؛ کیونکہ لوگ ایسے شخص کو اذیتیں دیتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں جو ان کی خواہشات میں رکاوٹ بنے۔ ویسے بھی صبر کا اجر بہت بڑا ہے۔

انہوں نے اپنے بیٹے کو اخلاق حسنہ اور تواضع کی وصیت کی، نیز یہ کہ چلتے ہوئے اور گفتگو میں ذی وقار انداز اپنائے۔

ہمیں یہ یقینی طور پر معلوم ہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید بھی تھی ، لیکن یہ کام اللہ تعالی نے خود اپنے ذمے لیتے ہوئے والدین سے حسن سلوک کی اہمیت کو اجاگر کیا اور لقمان علیہ السلام کی وصیتوں میں اپنی نصیحت شامل کر کے انہیں چار چاند لگا دئیے کہ جس وقت لقمان نے اللہ تعالی کے حقوق کی وصیت کی تو اللہ تعالی نے اس کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا تاکیدی حکم خود ہی دیا۔ اس لیے یہ نصیحتیں عظیم ترین ہیں اور ان پر عمل پیرا ہونے سے انسانی زندگی میں حکمت نظر آتی ہے۔

اس عظیم سورت کے اسرار میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کو اس سورت کے آغاز میں {اَلْحَكِيْمُ} کہا، اور اپنے آپ کو اللہ تعالی نے س سورت میں {اَلْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ } اور : {إِنَّ اللهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ } بھی کہا ہے؛ تو لقمان علیہ السلام کی حکمت بھری یہ نصیحتیں ان تمام تاکیدی احکام سے مطابقت رکھتی ہیں جو سورت اسرا کے آغاز میں موجود ہیں، اور حکمت کے تمام اجزا ان احکامات کی تعمیل اور نواہی سے بچاؤ میں موجود ہیں۔

اللہ تعالی کا کلام حکمت بھرا، اس کی شریعت حکمت سے معمور، اللہ کے فیصلے اور تقدیریں حکمت والی، نیز تخلیقِ کائنات حکمت پر مبنی ، حکمت اللہ تعالی کی صفت اور ملکیت ہے، اللہ تعالی جسے چاہتا ہے حکمت عطا کر دیتا ہے۔

حاملین حکمت میں سب سے پہلے انبیائے کرام ہیں، ان کے پیروکار انبیا کی اقتدا کے مطابق حکمت حاصل کر پاتے ہیں، یہی لوگ احسان کا مرتبہ پانے والے ہیں جن کے لیے اللہ تعالی نے اپنی شایان شان اجر و ثواب تیار کیا ہوا ہے، اس کے بارے میں اپنا سچا وعدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا (30) أُولَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا} جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو یقیناً ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے کام کرتا ہو۔ [30] یہی لوگ ہیں جن کے لئے ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے اور باریک ریشم اور اطلس کے سبز کپڑے پہنیں گے۔ وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھیں گے۔ یہ کیسا اچھا بدلہ اور کیسی اچھی آرام گاہ ہے۔ [الكهف: 30، 31]

حکمت بہت بلند مقام ،پسندیدہ عمل اور بہترین نیکی ہے، حکمت پہلے تو انسان کو اللہ تعالی کے خالص فضل و کرم سے حاصل ہوتی ہے پھر اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے اسباب اپنانے سے بھی مل سکتی ہے؛ چنانچہ جن اسباب کے ذریعے حکمت ملتی ہے ان میں سے ایک عقیدہ توحید اور شرک سے بیزاری بھی شامل ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے نہیں ملایا تو یہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔[الأنعام: 82] اس لیے عقیدہ صاف ستھرا ہو تو یہ فطرت پر نور علی نور کا کام کرتا ہے، نیز یہ عقل و فہم کی بھی علامت ہے، اسی طرح جسمانی اور روحانی طاقت کا باعث بنتا ہے جس سے انسان تمام امور کی حقیقت سے آشنا ہو جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ} اور جس کے لئے اللہ ہی نور نہ بنائے اسے کہیں نور نہیں ملے گا۔[النور: 40]

حصولِ حکمت کے اسباب میں اللہ کی نعمتوں پر قولی اور عملی طور پر شکر کرنا بھی شامل ہے، سلیمان علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: {رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ} میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے ۔[الأحقاف: 15]

ایسے ہی نبی ﷺ کا فرمان ہے: (تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟) بخاری، مسلم

حصولِ حکمت کے لئے اعضا کو گناہوں سے محفوظ رکھے، دل کو تمام برائیوں سے محفوظ بنائے، اور لایعنی چیزوں سے دور ہو جائے، مؤرخین نے ماضی کے واقعات لکھتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ :

 "ایک آدمی لقمان حکیم کے پاس آ کر کھڑا ہوا اور کہا:

تم بکریوں کے چرواہے ہو؟

تو انہوں نے کہا: ہاں۔

اس نے پوچھا: تم سیاہ فام ہو؟

 اس پر لقمان نے کہا: میری سیاہ رنگت تو واضح ہے پر یہ بتاؤ کہ تمہارے لیے میری کیا چیز تعجب خیز ہے؟

اس نے کہا: لوگ تمہارے پاس آتے جاتے ہیں، تمہارے دروازے پر ان کا جمگھٹا لگا رہتا ہے اور وہ تمہاری بات مانتے ہیں!

لقمان نے کہا: بھتیجے! اگر تم میری بات غور سے سنو تو تمہارے ساتھ بھی لوگ یہی کچھ کریں گے۔

لقمان نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا: میں آنکھیں جھکا کر رکھتا ہوں، اپنی زبان قابو رکھتا ہوں، صرف حلال کمائی کھاتا ہوں، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہوں، میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں، اپنا وعدہ پورا کرتا ہوں، مہمان کی ضیافت کرتا ہوں، پڑوسی کا خیال رکھتا ہوں، اور لایعنی باتوں سے یکسر دور رہتا ہوں، تو ان سب چیزوں نے مجھے ایسا بنا دیا ہے جیسے تم دیکھ رہے ہو"

حصولِ حکمت کے اسباب میں یہ بھی شامل ہے کہ: آپ دل کے سخی ، وسیع الظرف ، کھلے ہاتھ والے ہوں۔ لوگوں کے کام آئیں، ان کی مشکلات دور کریں۔ آپ کا سینہ کینے اور حسد سے پاک ہو تو ان کی بدولت کامیابی کے خصوصی مواقع ملتے ہیں۔

ان تمام اسباب کا نچوڑ یہ ہے کہ خلوت اور جلوت ہر حالت میں تقوی اپنائیں، ہمیشہ اللہ سے دعا مانگیں؛ کیونکہ یہ فرائض کے بعد افضل ترین عمل ہے، اس کے ساتھ ساتھ کثرت سے ذکرِ الہی کریں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ} اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا تھا : اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔[إبراهيم: 7]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کے لئے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہ جلال اور کرم والا ہے، وہی احسانات اور انعامات سے نوازتا ہے، اس کا غلبہ ناقابل تسخیر ہے، اس کی بادشاہت کا کوئی مقابلہ نہیں، میں اپنے رب کی حمد و شکر بجا لاتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے ، وہ بادشاہ ، پاکیزہ، اور سلامتی والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، ان کی آل ، اور صحابہ کرام پر اپنی رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

اللہ سے ڈور جس نے تمہیں پیدا کیا اور نعمتوں کی صورت میں رزق عطا کیا، اور اللہ کی اس نعمت کو بھی یاد رکھو کہ اس نے تمہیں کتاب و حکمت عطا کی، اور ان دونوں کو تمہارے لیے مشعل راہ بنایا کہ تم اس کی روشنی میں آگے بڑھتے ہو۔

مومن تسلسل کے ساتھ محاسبہ نفس کرے تو آخرت میں اس کا حساب آسان ہو گا، مسلسل محاسبہ نفس اس طرح ہو گا کہ اپنا آج گزشتہ کل سے بہتر بنائے، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر ایک یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا تیاری کی ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ یقیناً اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ [الحشر: 18]

مفید، دائمی اور ابدی نعمتوں کا سبب بننے والی رقابت وہ ہے جو کامل و شامل حکمت حاصل کرنے کے لئے ہو، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (رقابت صرف دو لوگوں سے روا ہے: ایک آدمی کو اللہ نے حکمت سے نوازا اور وہ اسی کی بنا پر فیصلے کرتا ہے اور حکمت آگے سکھاتا ہے ۔ دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا اور اسے بخیلی کی بجائے راہ حق میں خرچ کرنے کی توفیق دی ) اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

سیدنا سوید بن حارث ازدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : " میں سات افراد کے گروہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، جب ہم آپ کے پاس پہنچے اور گفتگو کی تو آپ کو ہماری وضع قطع نے بہت متاثر کیا اور پوچھا: (تم کون ہو؟)تو ہم نے کہا: ہم مومن ہیں، اس پر آپ ﷺ مسکرا دئیے اور فرمایا: (ہر بات کی کوئی دلیل ہوتی ہے تو تمہاری اس بات کی اور ایمان کیا دلیل ہے؟) تو ہم نے کہا: اس کی دلیل ہماری پندرہ خصوصیات ہیں، ان میں سے پانچ کا آپ کے ایلچیوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان پر یقین رکھیں، اور پانچ چیزوں پر آپ نے ہمیں عمل کرنے کا کہا اور پانچ چیزوں پر ہم آج تک زمانہ جاہلیت سے چلے آ رہے ہیں اگر آپ ان میں سے کسی چیز کو ناگوار سمجھیں [تو ہم اسے چھوڑ دیں گے] اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ کون سی پانچ چیزیں ہیں جن پر یقین رکھنے کا میرے ایلچیوں نے تمہیں حکم دیا؟) تو ہم نے کہا: آپ کے ایلچیوں نے ہمیں حکم دیا کہ: ہم اللہ ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر یقین رکھیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ کون سی پانچ چیزیں ہیں جن پر عمل کرنے کا میں نے تمہیں حکم دیا؟) تو ہم نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا کہ لا الہ الا اللہ کہیں، نماز پڑھیں، زکاۃ ادا کریں، رمضان کے روزے رکھیں اور استطاعت رکھنے والا حج بیت اللہ کرے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ کون سی پانچ چیزیں ہیں جن پر زمانہ جاہلیت سے ہی چلتے آ رہے ہو؟) تو ہم نے کہا: ہم خوشحالی میں شکر، تنگی میں صبر اور تقدیری فیصلوں پر رضا مندی کا اظہار کرتے ہیں، نیز جب دشمن سے جنگ ہو تو جم کر لڑتے ہیں اور دشمنوں پر بھی کڑا وقت آئے تو خوشی نہیں مناتے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (بہت حکیم اور دانا ، اعلی پائے کی سمجھ بوجھ کی بنا پر قریب ہے کہ نبوت کے درجے پر فائز ہو جاؤ) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (میں تمہیں مزید پانچ چیزیں بتلاتا ہوں اگر تم واقعی سچ کہہ رہے ہو تو پھر تمہارے پاس بیس خوبیاں ہو جائیں گی: ایسی چیز جمع ہی نہ کرو جو تم نہیں کھاتے، جہاں تم نے رہنا ہی نہیں ہے ایسی عمارت ہی کھڑی نہ کرو، کسی ایسی چیز میں مقابلہ بازی نہ کرو جو کل تم چھوڑ کر چلے جاؤ گے، اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے اور اسی کی سامنے پیش کیے جاؤ گے، اس جگہ میں دلچسپی لو جہاں تم نے جانا ہے اور وہاں ہمیشہ رہنا ہے) تو وہ رسول اللہ ﷺ کی وصیت دل میں لیکر روانہ ہو گئے اور اسی پر عمل پیرا رہے" اس روایت کو ابن عساکر اور ابو سعید نیشاپوری نے روایت کیا ہے۔

اللہ کے بندو!

{ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا) اس لئے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر کثرت کیساتھ درود پڑھو ۔

{اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَسَلِّمْ تَسْلِيْمًا كَثِيْراً۔}

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، فضل، احسان اور کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غالب فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکین کو ذلیل و رسوا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! مسلمانوں کو ان کے اپنے اور دشمنوں کے شر سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمیں ہمارے اپنے رحم و کرم پر ایک لمحے کے لئے بھی مت چھوڑنا اور ہمارے تمام معاملات سنوار دے۔

یا اللہ! اپنے دین ،قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما، یا قوی! یا عزیز!

یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے ہر مسلمان اور مومن مرد و خاتون کے امور خود ہی سنبھال لے، یا ارحم الراحمین!

 یا اللہ! ہم سب مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرما، یا اللہ! ہم سب مسلمانوں کو دین کی سمجھ عطا فرما۔ یا اللہ! تمام مسلمانوں کے دلوں میں باہمی الفت ڈال دے، یا اللہ! جن کی آپس میں ناچاقیاں ہیں ان کی باہمی صلح کروا دے، اور انہیں سلامتی والے راستے دکھا۔ یا اللہ! انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ مت کرنا، اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بیشک تو ہی عطا کرنے والا ہے۔

یا اللہ! ہم سے اپنی اطاعت گزاری کے کام لے لے، اور ہمیں تیری نافرمانی سے بچا لے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو ابلیس، شیاطین، شیطانی چیلوں اور لشکروں سے پناہ عطا فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمانوں کو اور ان کی اولادوں کو بھی ابلیس اور شیطانی چیلوں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمارے ملک کی ہر قسم کے شر اور خرابی سے حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کی ہر قسم کے شر اور خرابی سے حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہماری افواج کی حفاظت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! ہمیں مہنگائی، وبائی امراض، سود، زنا کاری، زلزلوں، اور ہمہ قسم کی مصیبتوں سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہم سب مسلمانوں کے دلوں میں باہمی الفت ڈال دے، یا اللہ! ہم سب مسلمانوں کے دلوں میں باہمی الفت ڈال دے، یا رب العالمین! یا اللہ! تمام مسلمانوں کو ہمیشہ حق بات پر متحد فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! اسلام دشمن قوتوں کی تمام تر منصوبہ بندیاں غارت فرما دے، یا اللہ! اسلام دشمن قوتوں کی مسلمانوں کے خلاف بنائی ہوئی تمام تر منصوبہ بندیاں غارت فرما دے، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کو بخش دے، یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان فوت شدگان کو بخش دے۔ یا ارحم الراحمین! یا رب العالمین!

یا اللہ! خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہر نیکی کے کام میں انکی مدد فرما، اُن کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور ان کے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ولی عہد کو بھی تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور انکی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما ، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! تیرے پسندیدہ دین کو غالب فرما، یا اللہ! تیرے نبی ﷺ کی سنت کا بول تمام تر بدعات پر بالا فرما دے، یا اللہ! اس دین کو تمام ادیان پر غالب فرما دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ } اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

صاحب عظمت و جلالت کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور جو تم کرتے ہو اللہ تعالی اسے جانتا ہے۔

پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.