افغانستان میں بھارتی اثر و نفوذ- نصرت جاوید

پلوامہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین فضائی محاذ پر جو رائونڈ چلا اس کے نتیجے میں یقینا ہم One-Upرہے۔ بھارتی مگ طیارہ مارگرایا گیا۔ اس کا پائلٹ گرفتار ہوا۔اسے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رہا کردیا گیا۔ اس رائونڈ کی وجہ سے بھارت کے پاس بھرپور جنگ کی جانب بڑھنے کی گنجائش اور جواز موجود نہ رہے۔ انہیں کھودینے کے بعد بھی مودی سرکار کے من میں ’’بدلہ‘‘ لینے کی خواہش اب بھی مچل رہی ہے۔ مستقل چوکسی ہمارے لئے لازم ہے۔پاک-بھارت کشیدگی کے تناظر میں لیکن ایک اور پہلو بھی نمودار ہورہا ہے۔ ہمارے ہاں اس جانب خاص توجہ نہیں دی جارہی۔بھارتی میڈیا بھی انتخابی بخار کی وجہ سے اسے نظرانداز کئے ہوئے ہے۔کھچڑی مگر پک رہی ہے۔ ہمیں اس پر توجہ دینا ہوگی۔پاکستان اور بھارت کے مابین پنجابی محاورے والا ایک اور ’’کٹا‘‘ افغانستان کے حوالے سے کھل چکا ہے۔اس کے اثرات بھارت کے عام انتخابات ختم ہوجانے کے بعد کافی شدت سے نمایاں ہونا شروع ہوجائیں گے۔

نئے معاملات رونما ہونے سے قبل مگر پسِ منظر بیان کرنے کے لئے چند ذاتی مشاہدات کا تذکرہ کرنا ہوگا۔امریکہ کی مسلط کردہ War on Terrorکے نتیجے میں طالبان حکومت کے خاتمے کے تقریباََ ایک سال بعد میں کابل گیا تھا۔ پی آئی اے کے جہاز سے اُترتے ہی جس بس نے ہمیں امیگریشن ہال تک پہنچایا وہ بھارت کی بنی ہوئی TATAبس تھی۔ رن وے پر افغانستان کی سرکاری ائیرلائن کے طیارے بھی نظر آئے۔ مجھے طیاروں کی پہچان نہیں مگر میرے ساتھ بس میں بیٹھے ایک افغان نے طنز بھرے فخر سے بتایا کہ ’’ہمیں یہ طیارے آپ کے دشمن‘‘ یعنی بھارت نے تحفے میں دئیے ہیں۔کابل شہر میں تقریباََ ایک ہفتہ قیام کے دوران میں نے بھارت کے پھیلتے اثرونفوذ کو دریافت کیا ۔ تجارتی امور کے علاوہ بھارت وہاں کے میڈیا کو بھی ’’ٹریننگ‘‘ کے نام پر اپنے زیراثرلارہا تھا۔ میرے ہوٹل میں موجود ٹی وی سکرین پر بھارتی ٹی وی چینلز کا غلبہ تھا۔ PTVکی نشریات ہوٹل والوں سے درخواست کے باوجود دیکھ نہ پایا۔ ہمارا ایک نجی ٹی وی کبھی کبھار ریموٹ گھماتے آخری نمبروں پر نظر آتا۔بھارت میں تیار ہوئے کئی سوپ ڈرامے وہاں دری زبان میں ڈب کرکے دکھائے جارہے تھے۔

مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ ان میں سے چند اتنے مقبول ہیں کہ شادی کے دعوت دیتے کارڈز پر لکھاجاتا ہے کہ فلاں ڈرامہ بڑی سکرین پر دکھانے کا بندوبست بھی کرلیا گیا ہے۔میں سفارت کار نہیں نہ ہی سرکار کا نمائندہ۔ تاہم وطن لوٹتے ہی میں نے اپنے ایک دیرینہ دوست جو اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے سے رابطہ کیا۔ خورشید محمود قصوری صاحب کو میں نے بہت تفصیل سے بتایا کہ بھارت کس طرح بہت ہی Softاور Subtleانداز میں افغانستان کی ابھرتی مڈل کلاس میں اپنے اثرکو بڑھارہا ہے۔بعدازاں اتفاق سے ہوئی ایک ملاقات میں اس مشاہدے کو میں نے سیکرٹری خارجہ ریاض کھوکھر صاحب کے سامنے بھی دہرایا۔مجھے خبر نہیں کہ میرے خدشات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیا گیا۔بہرحال وقت گزرنے کے ساتھ بھارتی اثرونفوذ افغانستان میں بڑھتا چلا گیا۔ تقریباََ3ارب ڈالر سرمایہ کاری کا دعویٰ بھی ہے۔ افغان پارلیمان کی عمارت بھی بھارت ہی نے تیار کی ہے۔ وہاں کی پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے اہل کاروں کو ’’تربیت‘‘ کے نام پر وہ اپنے ہاں طویل کورسز کے لئے بلاتا رہتا ہے۔

دلی میں افغان جلاوطنوں اور پناہ گزینوں کی تعداد اب اس شہر کے کئی محلوں میں کافی نمایاں ہے۔ چند سکولوں میں دری زبان بھی پرائمری سے پڑھائی جارہی ہے۔ان تمام حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھارت خود کو افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والے اہم Stakeholderمیں شمار کرنا شروع ہوگیا۔ پاکستان نے اس کے دعوے کو تسلیم نہیں کیا۔ امریکی صدر نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مگر اگست 2016میں جنوبی ایشیاء کے لئے جو ’’نئی پالیسی‘‘ بنائی اس میں بھارت کو تقریباَ اس خطے کا تھانے دار تسلیم کرلیا گیا۔ربّ کریم کا صدبارشکر کہ اس نے ٹرمپ کی صورت امریکہ کو ایک اتاولہ صدر عطا کیا ہے۔ بھارت کو اس خطے کا تھانے دار بنادینے کے چند ہی ماہ بعد ٹرمپ افغانستان کے تناظر میں مودی سرکار کے رویے سے اُکتا گیا۔ حال ہی میں کیمروں کے روبرو اس نے بھارتی وزیر اعظم کا تمسخر اڑایا اور شکوہ کیا کہ وہ جب بھی اسے افغانستان میں اپنا کردار بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے تو نریندرمودی اسے یہ بتانا شروع ہوجاتا ہے کہ بھارت نے افغانستان میں ’’لائبریری‘‘ بنائی ہے۔’’لائبریری‘‘ بنانے پر شاداں ہوئے بھارت کو نظرانداز کرتے ہوئے

ٹرمپ نے زلمے خلیل زاد کو وہ ماحول بنانے پر متعین کردیا جو امریکی افواج کی افغانستان سے جلد از جلد اور ’’باعزت‘‘ واپسی کی راہ نکال سکے۔ ممکنہ راہ نکالنے کے لئے پاکستان کو نظرانداز کردینا ممکن ہی نہیں تھا۔ ہم سے روابط استوار کرنے کو لہذا ٹرمپ مجبور ہوا۔ اب وہ جلد ہی ’’پاکستان کے رہنمائوں‘‘ سے ملاقات کا منتظر بھی ہے۔زلمے خلیل زاد اپنا ابتدائی ہوم ورک تقریباََ مکمل کرچکا ہے۔ ا پنے ہوم ورک کے نتائج کو اس نے حال ہی میں واشنگٹن میں ہوئے ایک ا جلاس میں روس،چین اور یورپی یونین کے نمائندوں کے ساتھ Shareکیا۔ بھارت کا افغانستان کے حوالے سے ایک اہم Stakeholder ہونے کا دعویٰ اس ملاقات کی بدولت گویاٹھوس انداز میں رد کردیا گیا ہے۔

نئی دلی کے سفارت کاروں میں زلمے خلیل زاد کی مذکورہ میٹنگ کے بعد بہت کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اس کا تذکرہ خارجہ امور پر لکھنے والے محض اِکادُکا افراد نے کیا ہے۔ایک بات اگرچہ طے ہے کہ مودی سرکار خود کو اس اہم میٹنگ میں نہ بلائے جانے پر خفت محسوس کررہی ہے۔ انتخابی بخار ختم ہوجانے کے بعد جو بھی سرکار دلی میں قائم ہوئی وہ اس خفت کے ازالے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کو مجبور ہوگی۔ اس کی جانب سے چند اقدامات مزید اٹھائے جائیں گے جن کے ذریعے بھارت امریکہ کوافغانستان کے تناظر میں ایک فریق یا Stakeholderثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔