ہندو لڑکیوں کی پسند کی شادی پر وزیراعظم کا نوٹس - محمد عاصم حفیظ

معاشرے کے تمام طبقات کے لیے اس بڑے معاشرتی مسئلے کے حوالے سے قانونی و سماجی لائحہ عمل بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ دراصل پاکستانی معاشرے میں اس مسئلے پر قتل و غارت تک ہو جاتی ہے۔ ہر سال کئی خاندان اجڑتے ہیں اور دشمنیاں جنم لیتی ہیں۔

لبرل فاشسٹ اور غیر ملکی این جی اوز ایسے معاملات کو خوب اچھالتی ہیں، جس طرح ہندو لڑکیوں کے معاملے کو اعلی سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ وہ عدالت کے روبرو پیش ہو کر اپنی رضا مندی سے اسلام قبول کرنے اور پسند کی شادی کا اقرار کر چکی ہیں لیکن سیکولر قوتوں اور لبرل ازم کی دعویدار مخصوص قوتوں کے دباؤ پر وزیراعظم نوٹس لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ حتی کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی بیان داغ دیا ہے۔

والدین اور مخصوص قوتوں کا مؤقف ہے کہ لڑکیوں کو اغواء کر کے زبردستی مذہب تبدیل کرایا گیا۔ دوسری جانب اگر کسی مسلمان گھرانے کی لڑکی کا معاملہ ہو تو پھر یہ ساری قوتیں اس پسند کی شادی کے تحفظ اور والدین کے مؤقف کی شدید مخالفت کرتی نظر آتی ہیں۔ ہر ملک و معاشرہ اپنی روایات کے مطابق قانونی و سماجی ضابطے بناتا ہے۔ پسند کی شادی اور گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کے حوالے سے بھی دینی و سماجی روایات کی روشنی میں لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ تاثر انتہائی خطرناک ہے کہ ارض پاک میں غیر ملکی قوتیں، لبرل و سیکولر این جی اوز جو چاہیں کرا سکتی ہیں۔ اگر مسلمان گھرانے کا معاملہ ہو تو گھر سے بھاگنا بھی جائز اور پسند کی شادی کا تحفظ اور اگر کوئی اقلیتی خاندان کی لڑکی یہ کرے تو اسے پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندو لڑکیوں کے معاملے میں یہ مؤقف تسلیم کیا جاتا ہے کہ انہیں ورغلایا گیا، اغواء کیا گیا جبکہ مسلمان گھرانوں کے حوالے سے ورغلانے اور اغواء کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ لبرل و سیکولر حلقوں کا یہ دوہرا معیار ایسے کئی معاملات میں واضح ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سندھ کا مولانا رومی - قادر خان یوسف زئی

یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ایک ایسا بڑا معاشرتی مسئلہ جس سے ہر سال قتل و غارت ہوتی ہے۔ جھگڑے اور دشمنیاں جنم لیتی ہیں۔ کیا اس پر ریاست کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ ایک ایسا لائحہ عمل بنایا جائے جس سے مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے۔ صرف این جی اوز اور مخصوص مافیاز کو ہی مطلب کے قوانین بنوانے اور ہمارے سماجی معاملات پر دخل اندازی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ میڈیا اور سماجی اداروں کو بھی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ایشو اچھالنے اور پروپیگنڈا کرنے اور ملکی بدنامی کا باعث بنا دینے کے بجائے کوئی ایسا ادارہ ہونا چاہیے جو ان معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرے۔ ہوتا صرف یہ ہے کہ کوئی ایسا معاملہ اچھل جاتا ہے۔ میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے تو پھر سب اس میں کود پڑتے ہیں۔ اس کو اپنی اپنی مرضی کا رنگ دیا جاتا ہے۔ خاندانوں کی عزت اچھالی جاتی ہے جس کے نتیجے میں قتل و غارت اور دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں۔

دوسری جانب ایک تلخ حققیت یہ بھی ہے گھر سے بھاگ کر پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کا جب وقتی نشہ اترتا ہے تو خاندانوں کی مدد کے بغیر یہ معاشرتی، سماجی اور مالی مشکلات کا سامنا نہیں کر پاتے۔ اس حوالے سے ہوش ربا حقائق سامنے آ رہے ہیں کہ بڑے شہروں میں طلاق کے رجحانات میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد یہ جوڑے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔

اس صورتحال میں سب سے بڑا مسئلہ لڑکی کے لیے بنتا ہے جس کا کوئی سہارا نہیں بنتا۔ پسند کی شادی اور گھر سے بھاگنے کے موقعے پر ساتھ دینے والی این جی اوز ۔ میڈیا اور کئی دوسرے ادارے اب کسی بھی قسم کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اب اسے زندگی کی سب مشکلات کا سامنا خود ہی کرنا ہوتا ہے۔ کسی کو دارالامان میں پناہ لینا پڑتی ہے تو کوئی زندگی گزارنے کے لیے شرمناک ترین حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ ایسے ان گنت واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے ہوتے ہیں لیکن اس حوالے سے سماجی بےحسی اور ریاست کی لاپرواہی انتہائی افسوسناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کو چلنے دیں - غریدہ فاروقی

دوسری جانب ایسے واقعات دو گھرانوں نہیں بلکہ دو خاندانوں میں مستقل دشمنی و عداوت کا باعث بنتے ہیں جس کے نتیجے میں جان و مال کے نقصانات ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے اگر اس معاملے کا نوٹس لیا ہے تو انھیں چاہیے کہ اس بڑے سماجی مسئلے پر ایک قومی بحث کا آغاز کرائیں اور ملک کی سماجی و دینی روایات کے مطابق کوئی لائحہ عمل بنایا جائے اور اس پر قانون سازی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات اور ان نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکے۔