بہاول پور کے اساتذہ کو سلام - سعدیہ مسعود

بہاولپور میں ایک درندہ صفت طالب علم کی جانب سے اپنے استاد کو قتل کرنے کے ہولناک واقعے سے ہر کوئی صدمے کیفیت سے دوچار ہے۔ میرے جیسے لوگ جن پر بہاولپور کے اساتذہ اور وہاں کے تعلیمی اداروں کا احسان ہے، وہ تواس دھچکے سے سنبھل ہی نہیں پا رہے۔ سوچتی ہوں کہ ہمارے شفیق اساتذہ جو ہر وقت مدد کے لیے موجود رہتے، جنھیں گھنٹوں ہمارے جیسے کوڑھ مغزوں کو سمجھانا پڑتا، جن سے ہم نے سوال کرنا، جواب سمجھنا، مکالمہ کرنا سیکھا، اب اس بھیانک واقعے کے بعد وہ کہیں سہم تو نہیں جائیں گے؟ یونیورسٹی کے اساتذہ جو بڑی روانی، بےباکی سے ہر ایشو پر بات کرتے اور ہمیں مختلف پوائنٹ آف ویو سمجھنا سکھاتے، بخاری صاحب جیسے استاد جو محبت سے کان کھینچ کر اور ڈاکٹر علقمہ جیسے جینئس ٹیچر جو طلبہ کی کھنچائی کر کے اپنی باتیں ذہن نشیں کرا دیتے۔ کیا اب یہ اور ان جیسے دوسرے اساتذہ اپنے شاگردوں کے ساتھ پہلے جیسی بے تکلفی اور بے ساختگی سے بات کر سکیں گے؟

یہ ٹوٹی پھوٹی تحریر اپنے ان اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک طالب علمانہ کوشش ہے۔ انھیں بتانا ہے کہ ان کے شاگرد، ہم جیسے نالائق طلبہ بھی انھیں کبھی نہیں بھولے۔ ہم ان کی شفقت، محبت اور محنت کےمقروض ہیں، وہ قرض جو کبھی اتارا نہیں جا سکتا۔ اگر ایک بدبخت جنونی نے استاد اور شاگرد کے مابین قائم مقدس رشتے کی توہین کی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ استاد کی تکریم اور عزت میں کمی آ گئی۔ ہرگز نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

یہ ہمارا اسلامیہ یونیورسٹی میں ایم اے کا پہلا سال تھا، جب میں اور میری ایک سہیلی پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے مقبول استاد مصور بخاری صاحب کے آفس میں بیٹھے تھے۔ ہم دونوں عید کی چھٹٰیوں پر جانے سے پہلے ان کو عید کارڈ پیش کرنے گئے تھے۔ دیکھا کہ ان کی میز پر عید کارڈز خاصی تعداد میں پڑے ہیں۔ بخاری صاحب ڈاک کے ذریعے آنے والے کارڈز کوکھول کھول کر دیکھ رہے تھے۔ میز پر رکھے کارڈز دیکھ کر میں اور میری سہیلی تھوڑے سے خجل سے ہو رہے تھے کہ اتنے ڈھیروں کارڈز میں ہمارے کارڈ کی کیا حیثیت؟ ہم تو اپنی دانست میں بڑا کام کر کے آئے تھے۔ اتنے میں ہماری ایک اور ٹیچر بخاری صاحب کے کمرے میں کچھ بات کرنے کے لیے آئیں تو بخاری صاحب نے ایک تصویر ان کے سامنے رکھی اور پوچھا اسے جانتی ہیں۔ تصویر پر ایک نظر ڈالتے ہی بولیں، ہاں ہماری ایک اولڈ سٹوڈنٹ ہے، پر نام یاد نہیں۔ بخاری صاحب نے بتایا کہ یہ آج کل ملک سے باہر ہیں، عید کارڈ کے ساتھ اپنی تصویر اس لیے بھیجی ہے کہ میں پہچان لوں لیکن مجھے بالکل بھی بچی یاد نہیں ہے۔ میڈم تو اپنی بات کر کے چلی گیئں اور ہم غمزدہ ہو گئے کہ ایک دن بخاری صاحب ہمیں بھی بھول جائیں گے۔ یہ اس وقت اس دن کا سب سے بڑا دکھ تھا۔ مرے مرے لہجے میں پوچھا، تو کیا سر ایک دن آپ ہمیں بھی تصویر کے باوجود نہیں پہچان پائیں گے؟ اپنے مخصوص لہجے میں سر نے ہنستے ہوئے کہا، ‘‘ایسا ہی ہوگا، ہر سال چالیس سے پچاس لڑکے لڑکیاں یہاں سے پڑھ کے نکلتے ہیں، اکثر کبھی دوبارہ ملتے ہی نہیں، تو یہ یقینی بات ہے کہ ان کے چہرے یا ان کے نام ذہن سے کچھ عرصے بعد محو ہو جائیں۔’’ میں نے پوچھا تو ہم لوگ ایسا کیا کریں کہ آپ کو یاد رہ جائیں۔ اس بار ان کی ہنسی ہی نکل گئی، مسکرا کر بولے، ‘‘مہربانی کر کے کچھ ایسی تباہ کن شرارت نہ کرنا کہ ہمیں ساری زندگی یاد رہے، بس رابطہ میں رہا کرنا ، یاد رہو گے تم دونوں بھی۔’’

اب سوال یہ تھا کہ پڑھائی میں تو بس ’اللہ کی مرضی ہیں‘ ایسا کیا کریں کہ ہمارے بےحد محترم استاد ہمیں بھولیں نہیں۔ والد سے ذکر کیا تو ان کا جواب تھا، ‘‘با ادب با نصیب۔ یونیورسٹی کالج کے استادوں کا رویہ دوستانہ ہوتا ہے، تمھاری خاتون اساتذہ تمھاری سہلیاں ہی بن جاتی ہیں، لیکن ان کے احترام میں کبھی کمی نہیں آئے۔’’ بات سمجھ آ گئی اور پھر اس پر عمل بھی کیا۔ ایم اے کے بعد ایم فل اور اس کے بعد ایک سال تک اپنے ہی محترم اساتذہ کے ساتھ پڑھانے کا موقع ملا۔ یہ واحد وجہ سمجھ آتی ہے کہ اللہ نے یہ عزت دی۔ جب پڑھا رہے تھے، تب بھی اپنے کسی استاد کے برابر چلنے کی ہمت نہیں کی۔ اساتذہ کے بار بار کہنے پر بھی کبھی ٹیچرز کے لیے مخصوص گاڑی کا استعمال نہیں کیا۔

سال ہا سال گزر گئے بہاول پور کے اساتذہ کے ساتھ احترام کے رشتے میں۔ بہت سارے نام ہیں۔ اولڈ ڈگری کالج کی انگریزی کی استاد محترمہ فرحت صاحبہ جنھوں نے کان سے پکڑ کر انگریزی ٹیکسٹ بکس کا ایک ایک لفظ پڑھنے پر لگایا کہ انگریزی زبان ہے کیا، یہ ٹیسٹ پیپرز پڑھنے سے کیسے پتہ چلے گا؟ ہر روز ٹیکسٹ بکس پر انگریزی معنی لکھے ہوں اور ہر صحفہ کالا ملنا چاہیے، یہ ان کی کلاس میں بیٹھنے کا پہلا اصول تھا۔ انگریزی ہم اردو میڈیم والوں کو کیسے پڑھنا پڑھے گی، ان سے سیکھا۔ میڈم ثریا تنویر تھیں تو ہوسٹل وارڈن، کوئی مضمون ان سے نہیں پڑھا لیکن سیکھا بہت۔ میری زندگی کی ابھی تک سب سے زیادہ ایمان دار سرکاری آفیسر۔ بےحد سخت لیکن اندر سے نرم، پیار کرنے والی زندگی سکھانے والی۔ ہوسٹل میں رہنے والی ہر لڑکی کی تربیت اپنی ذمہ داری سمجھنے والی۔ اس وقت تو سختی پر کئی بار باغیانہ خیالات بھی آتے، آج ان کا ہر رویہ، ہر بات سمجھ آتی ہے، اور دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ اتنی ڈھیر ساری بچیوں کی بڑے عمدہ انداز میں تربیت اور دیکھ بھال کی۔

میڈم نرگس جمشید، اسلامی تاریخ کی استاد، ہر سٹوڈنٹ سے محبت کا رشتہ۔ حوصلہ افزائی کرنے والی بے مثال استاد۔ ڈاکٹر آصف خان انگریزی کے استاد، اسلامیہ یونیورسٹٰی کے اس وقت بھی بہترین استاد۔ ان کے ساتھ انگریزی زبان کا ایک چھوٹا کورس کیا، لیکن ساری زندگی کے لیے سیکھا کہ اگر استاد شاگرد کا نام لے کر مخاطب کرے تو ان کے درمیان بہترین ریلیشن بن جاتا ہے۔ آصف خان دعویٰ کرتے تھے کہ انھیں اپنے سٹوڈنٹس کا نام کبھی نہیں بھولا۔ ہم نے جب بھی آزمایا، انہیں ہی فتح یاب دیکھا۔ برسوں کے وقفے کے بعد ملنے پر جب بھی پوچھا، سر آپ نے پہچانا تو مسکراتے ہوئے جواب ملا یس سعدیہ مسعود فرام احمد پور شرقیہ۔

سر نجیب جمال صاحب اردو کے پروفیسر، جو اکثر اپنی اردو کی کلاس میں بیٹھنے کی خوشی خوشی اجازت دیتے۔ اور بہترین الفاظ میں تعارف کرواتے کہ آج پولیٹکل سائنس شعبے کے مہمان سر سید سمجھنے آئے ہیں۔ سرائیکی شعبے کے سر جاوید چانڈیو صاحب جنھوں نے ایم اے کے ریسرچ پیپر کے لیے اور بعد ازاں جب بھی مجھے یا میری دوستوں کو ان کی مدد کی ضرورت پڑی، وقت نکالا اور لائبریری میں ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں تک مختلف موضوعات سمجھائے اور لکھنا سکھایا۔

میڈیم رضیہ مسرت صاحبہ جنھوں نے ہمیشہ ایک سٹوڈنٹ نہیں، ایک بیٹی کی طرح اپنے ساتھ ساتھ رکھا۔ میڈم یاسمین روفی صاحبہ جن کی وجہ سے یونیورسٹی کی زندگی عزت سے گزر گئی ۔انھوں نے ہی سمجھایا کہ یہاں انجوائے کرنا ہے تو پڑھائی کیے بغیر نہیں کر سکتے اور آزادی سے رہتے ہوئے اپنی حدود کا بھی خیال رکھنا ہے۔ اسی حد کے اندر رہتے ہوئے خوب مزے کرو، جی بھر کر شرارتیں کرو۔ میڈیم روفی ہی نے مجھے اور میری دوست کو پہلی ملاقات میں سمجھایا کہ آپ کے تمام مرد ٹیچرز قابل احترام ہیں، مگر ایک اصول بنا لو کہ کبھی کسی ٹیچر کے کمرے میں اکیلے نہیں جانا، کم از کم دو یا تین لڑکیاں یا پھر پورا گروپ جائے۔ اس سے کسی بدزبان اور بدفطرت کو بھی سکینڈل بنانے یا بدگمانی پھیلانے کا موقع نہیں ملے گا۔ اس اصول کو بہترین پایا اور بعد میں اپنی سٹوڈنٹس، جونئیرز اور چھوٹی بہنوں، کزنز کو یہی سمجھایا۔

ڈاکٹر غلام سرور صاحب مرحوم جنھوں نے سمجھایا کہ میڈیا کیسے رائے بناتا ہے۔ اور پھر کالمز، فلمیں، ڈرامے، کتابیں کیسے اور کیا پیغام دے رہی ہیں؟ آپ نے ان پیغامات کو ڈی کوڈ کیسے کرنا ہے؟ رائے کیسی بنانی ہے اوراس اثر سے بچنا کیسے ہے؟

بہاول پور کی معتبر شخصیت جناب گل ریز شاہ صاحب، ویسے تو گھر پر بچیوں کو انگریزی پڑھاتے تھے، مگر ان کی تربیت گاہ کے دروازے خاص طور پر بہاول پور کی بچیوں کے لیے کھلے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹوں کی نسبت بیٹیاں والد اور استاد کی تربیت کا احترام کرتی ہیں۔ گل ریز شاہ صاحب کہانیوں، افسانوں جیسی شخصیت لگتے، پرانے زمانے کے ولیوں جیسی طبیعت کے مالک، گھر کی ملازمہ کی ناک منہ بسورتی دو تین سالہ بچی اپنی گود میں لیے کبھی ان کا ناک صاف کرتے، کبھی اس کے منہ میں ٹافیاں اور میوے ڈالتے جاتے اور لیکچر دیتے رہتے۔ درمیان میں ابو ابو کہتی بچی کو پچکارتے، سر پر پیار کرتے جاتے اور اپنی بات جاری رکھتے۔ کوئی یقین بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ ان کی ملازمہ کی بچی ہے۔ پوری ٹیوشن کلاس کو چائے کھانا میسر تھا۔ ہم ان کے گھر کو اپنا گھر ہی سمجھتے۔ جس دن کوئی لڑکی کچھ کھانے پینے سے منع کر دیتی تو نہایت شفقت سے والد کے انداز میں پوچھتے چن تو ناراض ہے؟ شاہ صاحب روحانیت والے انسان تھے، جمعہ کا دن درس کے لیے مقرر تھا۔ اور مزے دار مینیو کے چکر میں ہم درس میں شریک رہتے۔

اور سب سے بڑھ کر ہمارے استادوں کے بھی استاد، پولیٹیکل سائنس کے لیجنڈری ٹیچر ڈاکٹر خواجہ علقمہ صاحب، جن سے صرف اپنا مضمون ہی نہیں اور بھی بہت کچھ سیکھا۔ زندگی کے قدم قدم پر جن کی سکھلائی ہوئی باتوں کی یاد آتی ہے۔ اپنے والد کے بعد جن کا سب سے زیادہ اثر ہے میری زندگی میں۔ ان پر ایک طویل مضمون لکھنا مجھ پر قرض ہے، ان شاءاللہ کسی روز وہ لکھ ڈالوں گی۔

سلام پیش کرتی ہوں بہاول پور کے ان تمام اساتذہ کو جو مجھ جیسے ہزاروں طلبہ کی زندگیوں میں اپنے علم کا نور بھرتے آئے ہیں۔ تمام زندگی آپ سب کی محبتوں کا قرض ہم نہیں اتار پائیں گے۔ اللہ آپ کو ہمیشہ سلامت، خوش، آسودہ رکھے، آمین۔

بہاول پور جیسے شہر میں جو مسکن ہے بہترین استادوں کا وہاں یہ لعین کہاں سے آ گیا ہے؟ میرے محترم اساتذہ کرام میں اور مجھ جیسے ہزاروں طلبہ آپ کا بےحد احترام کرتے ہیں اور آپ سے بےحد محبت کرتے ہیں۔ اور میں آج ان سب اساتذہ کو سلام پیش کرنا چاہتی ہوں۔

(سعدیہ مسعود کا تعلق میڈیا سے رہا ہے۔ روہی چینل میں بطور پروڈیوسر کام کیا، بطور ڈی جے ایف ایم چینلز پر سرائیکی اور اردو پروگرام کیے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں کچھ عرصہ پولیٹیکل سائنس پڑھایا۔ ایک امریکی یونیورسٹی کے لیے سرائیکی لینگویج کے جدید اسباق تیار کیے۔ ریڈیو وائس اوور کیے۔ تاہم شادی کے بعد اپنے تخلیقی جوہر دکھانے کے لیے گھر کا انتخاب کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ گھر داری اگر سلیقے اور نفاست سے کی جائے تواسے فنون لطیفہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔)