خطیب حسین کے قاتل بننے کا ذمہ دار کون - محمد نورالہدیٰ

استاد قوموں کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ نسلوں کی سنوارنے کی ذمہ داری والدین سے زیادہ اساتذہ پر ہے۔ استاد بچے کے ہر حوالے سے اس کی تربیت کرتا ہے اور اسے معاشرے کیلئے کارآمد بنانے کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں سب سے آسان پیشہ ٹیچنگ کا سمجھا جاتا ہے لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ ٹیچنگ بظاہر آسان دکھائی دیتی ہے لیکن جو استاد بچے کو زمانہ شناس بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے اور محض کتابی تعلیم پر زور دیے رکھے، وہ استاد اپنے پیشے کے ساتھ جو ناانصافی کر رہا ہوتا ہے ، اخلاقی طور پر اسے منصب سے روگردانی کہا جا سکتا ہے ۔ میں جب بھی استاد کے کردار کے متعلق سوچتا ہوں تو مجھے اپنے اساتذہ یاد آ جاتے ہیں۔ بالخصوص ایک استاد تو ایسا ہے جو اپنے استاد کے حکم کے احترام میں کئی سو میل دور سے پڑھانے آتا ہے۔

میں نے اپنے اس استاد محمد عمران خان صاحب سے ایک دفعہ استفسار کیا کہ انہیں دو ڈھائی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پڑھانے آنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے جبکہ ان کے آنے جانے کا خرچ متعین اعزازیہ سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’’یہ ان کے استاد کا حکم تھا اور وہ حکم عدولی کر کے گناہ کے مرتکب نہیں ہونا چاہتے۔ ان کے بقول انہیں یہ حکم بجا لانے کا اس قدر فائدہ ہو رہا ہے کہ ذہن کی گرہیں کھلتی جا رہی ہیں اور سوچوں میں وسعت آ رہی ہے۔ یہ امر پیشہ ورانہ زندگی میں ان کی بہت معاونت کر رہا ہے، اس تناظر میں مالی خسارہ معنی نہیں رکھتا‘‘۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس ٹیچر کی اپنے طلبہ میں بھی بہت قدر ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں طلبہ کی راہنمائی اور مدد کرنا انھوں نے اپنے فریضہ میں شامل کر رکھا ہے۔ اس مادیت پرستی کے دور میں عمران خان صاحب جیسے اساتذہ بہت کم ہیں۔ ایسے بیشتر اساتذہ میری زندگی میں آئے جنہوں نے اپنے منصب سے بھرپور انصاف کیا اور طلبہ کی نیک تمنائیں سمیٹیں۔ بہت کم استاد ایسے ہیں جنہوں نے ہماری رہنمائی میں کوئی کمی چھوڑی ہو، وگرنہ زندگی میں ہمیشہ مثالی راہنما ہی ملے ہیں۔

میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو طلبہ عدم برداشت کے حامل ہوتے ہیں، ان کے اساتذہ کی تربیت میں کہاں کمی رہ جاتی ہے جو ان نوجوانوں کو تشدد کی جانب مائل کرتی ہے؟ بہاولپور میں جنونی طالبعلم کے ہاتھوں قتل ہونے والے پروفیسر خالد حمید کا بظاہر کوئی قصور نہیں تھا لیکن جس طالب علم نے انھیں قتل کیا اس کی ذہنی خلش کا ذمہ دار کون ہے؟ جن جن اساتذہ سے وہ پڑھا، جن والدین نے اس کی پرورش کی، ان سے کہاں کوتاہی ہوئی؟ کہاں گئی وہ سلجھے ہوئے کردار کا مالک پیدا کرنے کی جستجو؟ اگرچہ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ مرضی کے خلاف چھوٹی سے چھوٹی بات بھی تشدد کی جانب لے جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ خطیب حسین نامی مذکورہ قاتل طالب علم کے اساتذہ اور والدین کا فرض تھا کہ وہ اس پر نظر رکھتے اور اس کے ذہن کو بےراہرو ہونے سے بچاتے۔ خطیب حسین کب، کن ہاتھوں میں کھیلنے لگ گیا، یہ کسی کو معلوم کیوں نہ ہو سکا؟ جس وقت وہ مختلف باتوں پر مخالفت کیا کرتا تھا، اسی وقت اساتذہ اور والدین اگر اس پر توجہ دیتے اور اس کے ذہن کو ’’ہیپناٹائز‘‘ ہونے سے بچا لیتے تو آج پروفیسر خالد حمید کی موت کا صدمہ نہ سہنا پڑ رہا ہوتا اور خطیب حسین کے والدین کو یوں سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑ رہا ہوتا۔

انتہا پسندی اور شدت پسندی معاشرے میں ایسے سرایت کر جائے گی، کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا۔ اگرچہ اس میں بعض دفعہ اساتذہ کا رویہ بھی غالب آتا ہے لیکن کسی ایک آدھ استاد کی وجہ سے پوری ایک شخصیت (طالب علم) متاثر ہو جائے، ایسا ہونا خود معاشرے کا بھی نقصان ہے۔ ایک تعلیمی ادارے میں اگر کوئی طالب علم اپنے کسی استاد کے رویہ اور مزاج سے متاثر ہو تودیگر اساتذہ کو اس کا متبادل بن کر طالب علم کو باغی ہونے سے بچانا چاہیے۔ ہماری زندگی میں بہت سے اساتذہ آتے ہیں۔ بعض کے ساتھ تجربہ بہت تلخ ہوتا ہے جبکہ زیادہ تر اساتذہ قابل تقلید ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہماری زندگی کی مثبت سمت متعین ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے زمانہ طالب علمی میں ڈاکٹر شاہد سرویا سے بہت راہنمائی ملی۔ ایک ایسے موقع پر جبکہ ایک معتبر استاد کی وجہ سے میرا تعلیمی سفر ڈگمگانے کے قریب تھا، شاہد سرویا صاحب نے میری کونسلنگ کی اور متبادل راستہ فراہم کیا۔ ایسے ہی مختلف مواقع پر ناہید اعجاز صاحب اور یوسف مرزا صاحب جیسے اساتذہ بھی قدم قدم پر رہنما ثابت ہوئے، بلکہ بیشتر اساتذہ تو ذہن سازی اور دماغ کے دریچے کھولنے کا بھی باعث بنے۔ بلاشبہ ایسے ہی اساتذہ ہیں جو طالب علم کی تعلیم اور زندگی کو بامقصد بنانے، سوچ اور فکر کی راہ متعین کرنے، اعتماد دینے، زندگی کی گٹھیاں سلجھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ جو ایک لگی بندھی ڈگر کے ساتھ دیہاڑی پر درانتیاں نہیں بناتے بلکہ اپنی صلاحیتیں اپنے طلبہ میں بھی منتقل کرتے ہیں۔ اس سے نہ ان کے علم میں کمی آتی ہے اور نہ ہی ان کا رتبہ کم ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھے شاہد سرویا، ناہید اعجاز، یوسف مرزا، طاہر عزیز، مظہر بیگ جیسے اساتذہ نہ ملتے تو آج میں بھی خطیب حسین جیسی ہی منتشر ذہنیت کا حامل ہوتا۔

بچپن سے نکل کر لڑکپن کی تیزی اور ’’بڑھتی ہوئی سمجھداری‘‘ کے دور میں طالبعلم کو جس فکری شعور اور آزاد رجحانات کے حوالے سے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، اس میں استاد کا کردار لازمی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ استاد اپنے مقام و مرتبہ اور طالب علم کی صلاحیت اور نفسیات کا علم اور شعور بھی رکھتاہو۔ اگر کسی طالب علم کو خطیب حسین جیسا کوئی استاد ملے گا تو اس طالب علم کو گمراہی کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ یعنی ہر طالبعلم استاد کے کمالات اور مہارات کی آزمائش اور امتحان ہے۔ یہ استاد پر منحصر ہے کہ وہ خود کون سی راہ اختیار کرتا ہے اور اس کے طفیل اس کے طلبہ کس سمت رخت سفر باندھتے ہیں۔

پس مجموعی طور اساتذہ کا کردار عزت کا متمنی ہے ۔ یہ وہ قابل قدر ہستی ہے جس کے پیشے کو پیغمبری سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ بنیادی طور پر انسانی روح کو جلا بخشنے والا معمار ہے۔ اس کا کردار ایک مالی سے مشابہت رکھتا ہے کہ اپنے علم، اخلاق، کردار اور مہارتوں کے ساتھ اس طرح طالب علم کی آبیاری کرے کہ ان کی عمر اور نفسیات کے مطابق تعمیر شخصیت کا فریضہ سرانجام پا سکے تاکہ مستقبل میں وہ گلستانِ وطن کا خوبصورت پھول بن کر ہر جانب اپنی خوشبو بکھیر رہے ہوں، وگرنہ پھولوں کی کاشت درست نہ ہوئی اور بروقت آبیاری نہ ہوتی رہی تو انتشار، عدم برداشت، بے راہروی، انتہا پسندی، نفرت اور شدت پسند ذہنیت کے فروغ کی ذمہ داری معاشرے کے خطیب حسینوں پر ہوگی یا ان کے اساتذہ پر، اس کا تعین خود ہی کر لیجیے، اور پھر اس خوفزدہ معاشرے سے ڈرے سہمے اساتذہ تعلیم دینے اور تربیت کرنے کی بجائے اپنے اپنے تحفظ کی فکر کر رہے ہوں گے۔ ایسے میں دی جانے والی تعلیم کا کیا معیار ہوگا اور اس کے آفٹر شاکس کیا ہوں گے، میرا ذہن تو اس سے آگے کی بات سوچنے کو تیار نہیں۔ کیونکہ پروفیسر خالد حمید کے انجام کے بعد اب ہم میں مزید تعزیت کی ہمت نہیں ہے۔ انور مسعود نے کیا خوب کہا ہے:


یہ غم کھاتا چلا جاتا ہے مجھ کو

مجھے اس خوف سے فرصت نہیں ہے

کہیں برکت نہ اٹھ جائے وہاں سے

جہاں استاد کی عزت نہیں ہے